آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
میجر عدنان اسلم: بنوں حملے میں ہلاک ہونے والے ایس ایس جی افسر کون تھے؟
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
دو ستمبر 2025 کو صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ایک فوجی مرکز پر حملے کے چند دن بعد اس واقعے کی وائرل ہونے والی فوٹیج میں پاکستانی فوج کے میجر عدنان اسلم کی شدت پسندوں کے خلاف لڑائی اور اپنے زخمی ساتھی کی جان بچانے کی جدوجہد کے مناظر سامنے آنے کے بعد جہاں سرکاری سطح پر انھیں خراج تحسین پیش کیا گیا ہے وہیں سوشل میڈیا پر انھیں بہادری کے اعلیٰ اعزاز دینے کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
فوج کے سپیشل سروسز گروپ سے تعلق رکھنے والے میجر عدنان اسلم اس حملے کے دوران شدید زخمی ہونے اور تقریباً ایک ہفتہ زیرِ علاج رہنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے اور نو ستمبر کو ان کی تدفین عمل میں آئی۔
راولپنڈی میں میجر عدنان کی نماز جنازہ میں فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے علاوہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر وزیرِاعظم شہباز شریف نے میجر عدنان اسلم کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بہادری کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
عسکری ذرائع کے مطابق 31 سالہ میجر عدنان کا تعلق 135 لانگ کورس سے تھا۔ کاکول اکیڈمی کے علاوہ انھوں نے برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے بھی عسکری تعلیم حاصل کی تھی جو دنیا کے معروف فوجی اداروں میں سے ایک ہے۔
میجر عدنان اسلم کے قریبی رشتہ دار یوسف خان ایڈووکیٹ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ میجر عدنان چھٹی پر تھے اور راولپنڈی واپس آنے سے قبل ان کا پڑاؤ بنوں میں تھا۔ 'جب بنوں میں حملہ ہوا اور آپریشن کے لیے ایس ایس جی کمانڈوز کی ضرورت پڑی تو میجر عدنان اور ان کے ساتھیوں نے اپنی خدمات پیش کر دیں۔'
بنوں میں کیا ہوا؟
بنوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے مرکز کے سربراہ ذوالفقار خان نے اس حملے کے حوالے سے میڈیا سے جو بات چیت کی اس میں ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے پورا مقابلہ کیا ہے اور اپنے ساتھ عام شہریوں کو بھی بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'اس حملے کے دوران جو پانچ اہلکار گارڈ کوارٹرز میں تھے وہ ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد جب ایک حملہ آور مسجد کی طرف جا رہا تھا تو اسے ہمارے ایک ساتھی نے نشانہ بنایا، وہ جیسے ہی گرا باقی حملہ آور واپس دفتر کی طرف گئے، جس کے بعد ہم نے انھیں دفتر کے اندر چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا تھا۔'
ذوالفقار خان کا کہنا تھا کہ 'ہمارے جتنے بھی جوان مورچوں میں بیٹھے تھے، انھوں نے افسران کی ہدایات کے مطابق کارروائی کی۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یوسف خان ایڈووکیٹ کے مطابق وائرل ہونے والی ویڈیو سے متعلق ان تک جو معلومات مصدقہ ذرائع سے پہنچی ہیں ان کے مطابق 'اس ویڈیو میں نظر آنے والے واقعے سے پہلے میجر عدنان اسلم دو دہشت گردوں کا خاتمہ کر کے آئے تھے، جس کے بعد ایک اور دہشت گرد کی گولی میجر عدنان کی ٹانگ میں لگی تھی'۔
ان کا کہنا تھا کہ 'دہشت گرد دیوار کی طرف سے فائرنگ کر رہا تھا، گولی لگنے کے بعد جب میجر عدنان نے دیکھا کہ ان کے ساتھی بھی خطرے کا شکار ہیں تو انھوں نے فوراً انھیں محفوظ کرنے کے اقدامات شروع کر دیے۔ انھوں نے اپنے ساتھی کی ڈھال بننے کی کوشش کی۔ اس موقع پر اس دہشت گرد کی فائرنگ سے انھیں ایک اور گولی لگی۔'
یوسف خان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ 'میجر عدنان کے ساتھی بھی انھیں بچانے کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس دوران کبھی میجر عدنان اوپر ہو کر ڈھال بنتے اور کبھی ان کے ساتھی ان کی ڈھال بن جاتے۔ دونوں کی ایک دوسرے کو بچانے کی جدوجہد میں میجر عدنان حاوی رہے کیونکہ وہ ایک تربیت یافتہ کمانڈو، اونچے لمبے قد کے مالک تھے۔'
یوسف خان ایڈووکیٹ نے مزید بتایا کہ 'اس دوران دہشت گرد نے دونوں پر فائرنگ کی اور میجر عدنان نے بھی اپنی تربیت کو بروئے کار لاتے ہوئے جواب دیا جس کے بعد دہشت گرد تھوڑا پیچھے ہٹا اور اس نے اپنے پاس موجود ایک ہینڈ گرینڈ نکالا۔ دہشت گرد پیچھے ہٹا تو وہ بکتر بند گاڑی کے پیچھے موجود میجر عدنان اسلم کے ساتھیوں کے نشانے پر آ گیا جنھوں نے اس پر فائرنگ کی تو اس کے جسم کے پاس ہینڈ گرینڈ کے ساتھ ساتھ خودکش جیکٹ بھی پھٹ گئی۔'
’زندگی سے بھرپور جوان کی ٹانگ کاٹنے کے معاملے پر سب چُپ تھے‘
یوسف خان کے مطابق اس معرکے میں شدید زخمی ہونے کے بعد میجر عدنان اسلم کو پہلے پشاور اور پھر راولپنڈی کے ہسپتال میں پہنچایا گیا۔
'وہ کبھی ہوش میں آجاتے اور کبھی بے ہوش ہو جاتے تھے۔ ان سات دنوں کے دوران ان کا کوئی رشتہ دار، دوست، ساتھی نہیں سویا تھا۔ ان کا بلڈ گروپ اے نیگیٹو تھا اور ان کے دوستوں، رشتہ داروں، ساتھیوں نے چالیس پائنٹ خون کا انتظام کیا تھا۔'
یوسف خان کا کہنا ہے کہ ان سات دنوں کے دوران میجر عدنان کے علاج کے حوالے سے کئی مشکل لمحات آئے۔'اس دوران ایک بہت ہی مشکل فیصلہ بھی ہوا جب ڈاکٹروں نے بتایا کہ میجر عدنان کے جسم میں انفیکشن پھیل چکا ہے اور زندگی بچانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کی ٹانگ کاٹ دی جائے۔'
'اب زندگی سے بھرپور جوان مرد کی ٹانگ کاٹنے کی اجازت دینے کے معاملے پر سب چپ تھے مگر اس موقع پر ان کے ایک بردار نسبتی نے ہمت کی اور کہا کہ وہ لکھ کر دیں گے کہ ٹانگ کاٹ دیں اور میجر عدنان کی جان بچا لیں۔ وہ بعد میں میجر عدنان کو سمجھا دیں گے۔'
یوسف خان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ اس ہی کشمکش میں میجر عدنان زندگی کی بازی ہار گئے۔
'بچپن سے ہی ایڈونچر پسند تھا'
یوسف خان ایڈووکیٹ کے مطابق میجر عدنان اسلم کے خاندان نے دہائیوں قبل سوات سے آ کر راولپنڈی میں رہائش اختیار کی تھی اور عدنان اسلم بچپن ہی سے ایک تربیت یافتہ ایتھلیٹ اور کھلاڑی تھے۔ 'ان کے ایک ماموں فرمان مشہور زمانہ ایتھلیٹ تھے جو کہ مارشل آرٹ، پیرا گلائیڈنگ کی تربیت دیتے تھے اور میجر عدنان اسلم کو ان سب معاملات میں بچپن ہی سے تربیت دے دی تھی۔'
میجر عدنان اسلم کے ماموں عمران احمد نے بتایا کہ وہ اور میجر عدنان اسلم ایک ہی گھر میں رہائش پذیر تھے۔ 'ہم دونوں میں بہت دوستی تھی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ میں ان کا استاد بھی ہوں۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'عدنان بچپن ہی سے ایڈونچر کے شوقین تھے اور کم عمری ہی میں تیراکی، پیرگلائیڈنگ، کراٹے، مارشل آرٹ، باکسنگ وغیرہ کے ماہر بن چکے تھے۔ وہ فوج میں جانے سے پہلے اپنے ماموں کی اکیڈمی میں جاتے تھے۔'
’میجر عدنان چھ ماہ کی بیٹی کو گود میں اٹھانے کو بے چین تھے‘
یوسف خان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ میجر عدنان نے سوگواروں میں دو بچے اور بیوہ چھوڑی ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا اڑھائی سال کا ہے جبکہ بیٹی صرف چھ ماہ کی ہے۔
یوسف خان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ 'میجر عدنان اپنی بیٹی کی پیدائش کے وقت ڈیوٹی پر تھے۔ انھوں نے اپنے بیٹی کو اپنی گود میں نہیں اٹھایا تھا۔ بس اسے کبھی کبھار ویڈیو کال اور تصاویر ہی پر دیکھا تھا۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'جب میجر عدنان کو چھٹی مل گئی تو انھوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ فیصلہ کیا تھا کہ وہ کچھ دن راولپنڈی میں اپنے گھر پر رہنے کے بعد تفریح کریں گے۔ اس کے لیے وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ ایبٹ آباد میں رہائش رکھیں گے اور پھر وہاں ہی سے آگے تفریح کے لیے جائیں گے۔ جس کے تمام انتظامات بھی مکمل تھے۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'میجر عدنان کی والدہ اور ان کے والد بھی ان کا انتظار کر رہے تھے۔ مگر انھوں نے اپنے بیٹے کے جنازے کا استقبال بہت بہادری سے کیا ہے۔
میجر عدنان اسلم کے ماموں عمران احمد کہتے ہیں 'عدنان کی والدہ اور میری بڑی بہن نے کئی سال پہلے اپنے 11 سالہ بیٹے رضوان کو کھو دیا تھا مگر اس وقت بھی انھوں نے اس سانحہ کا جرات اور بہادری سے سامنا کیا تھا اور اب بھی جب عدنان کے بارے میں ا طلاع دی گئی تو انھوں نے بہت بہادری اور جرات کا مظاہرہ کیا۔'