یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
یکم جولائی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
باجوڑ میں ایک بم دھماکے میں اسسٹنٹ کمشنر ناوگئی سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ باجوڑ کے پولیس افسر وقاص رفیق نے بی بی سی کو بتایا کہ باجوڑ کی تحصیل خار کے علاقے میں گاڑی پر بم دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے ہیں۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
یکم جولائی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو نے امریکہ کا سرکاری دورہ کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ایک دہائی سے زائد عرصے میں ’پاکستان فضائیہ کے کسی حاضر سروس سربراہ کا یہ امریکہ کا پہلا دورہ ہے جس کا مقصد دو طرفہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا اور باہمی مفادات کو آگے بڑھانا ہے۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ اعلیٰ سطح کا دورہ پاکستان امریکہ میں ایک سٹریٹجک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور اس دورے نے دفاعی تعاون اور اہم علاقائی اور عالمی سلامتی کے مسائل سے نمٹنے کے علاوہ ادارہ جاتی تعلقات کو گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران ایئر چیف نے اعلیٰ سطح ملاقاتوں کا سلسلہ امریکہ کی اعلیٰ عسکری اور سیاسی قیادت سے کیا۔
پینٹاگون میں ایئر مارشل ظہیر بابر نے امریکی ایئر فورس (بین الاقوامی امور) کی سیکریٹری کیلی ایل سیبولٹ اور امریکہ کی فضائیہ کے چیف آف سٹاف جنرل ڈیوڈ ڈبلیو ایلون سے ملاقات کی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقاتوں کے دوران بات چیت کا مرکز دوطرفہ فوجی تعاون کو آگے بڑھانے، باہمی تعاون کو بڑھانے اور مشترکہ تربیت اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے مواقع تلاش کرنے پر تھا۔
بیان کے مطابق ایئر مارشل نے دونوں ممالک کی فضائیہ کے درمیان فوجی تعاون اور تربیت کے شعبوں میں موجودہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقاتوں نے علاقائی استحکام کو فروغ دینے میں پاکستان کے تعمیری کردار، انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے لیے اس کے پختہ عزم اور جنوبی اور وسطی ایشیا کی ابھرتی ہوئی جغرافیائی سیاسی محرکات پر اس کے اہم نقطہ نظر کو اجاگر کرنے کے لیے ایک فورم کے طور پر کام کیا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ عمران خان خیبر پختونخوا حکومت گرانے کے حق میں نہیں ہیں اور کسی طرف سے ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ تمام اداروں اور ریاست کو چیلنج دیتے ہیں کہ وہ ان کی حکومت نہیں گرا سکتے۔
اسلام آباد میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ میں ’تمام اداروں اور ریاست کو چیلنج کرتا ہوں کہ سیاسی طور پر اور آئینی طریقے سے آپ ہماری صوبائی حکومت نہیں گرا سکتے۔‘
علی امین نے کہا کہ ’آپ نے ملک میں بار بار مارشل لا لگائے ہیں، گورنر راج بھی لگائے ہیں مگر آئینی طور پر آپ ہمیں نہیں گرا سکتے۔ ان کے مطابق ’وہ ریاست جو ماں کے بجائے فرعونیت پر اتری ہوئی ہے میں اس ریاست کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر آپ نے سیاسی طور پر ہماری حکومت گرا دی جو عمران خان کی امانت ہے تو میں سیاست چھوڑ دوں گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اختیار سب عمران خان کے پاس ہے وہ جب چاہیں حکومت گرانے کا حکم دے دیں۔‘
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بجٹ کے بعد جب ان کی عمران خان سے ملاقات ہوئی تو یہ ثابت ہوا کہ عمران خان حکومت گرانے کے حق میں نہیں تھے۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان سے بجٹ سے پہلے ملاقات نہ کرنے دینا ایک سازش تھی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماؤں نے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں کا فیصلہ ریاست اور اداروں پر بدنما داغ ہے۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹرگوہر نے کہا کہ ہمارا تن من دھن عمران خان کے لیے ہے، ہمارے کوئی ذاتی اختلافات نہیں ہیں، ہم متحد ہیں اور رہیں گے، عمران خان جس بھی تحریک کا اعلان کریں گے ہم اس پر عمل کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ مذاکرات ہونے چاہیئں مگر مذاکرات بامعنی ہوں، ہم نے بجٹ سے پہلے عمران خان سے ملاقات کی درخواست کی مگر ملاقات نہیں کرائی گئی۔
انھوں نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم عدلیہ پر ایک حملہ ہے اور جب تک ہم واپس اقتدار میں آکر اس کو واپس نہیں کرتے تب تک عدلیہ قید رہے گی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق پیکا ایکٹ سمیت جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ قوم کو غلام بنانے کی سازش ہورہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے جس تحریک کا اعلان کیا گیا ہے وہ زورو شور سے جاری رہے گی۔
جنید اکبر نے کہا کہ ’باہمی اختلاف اپنی جگہ مگر عمران خان کی بات پر ہم پہلے بھی اکٹھے تھے اور آئندہ بھی اکٹھے رہیں گے۔‘
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ نے حاضر سروس سیشن جج راجہ امتیاز احمد کو توہین عدالت کے جرم میں تین دن قید کی سزا سناتے ہوئے کمرہ عدالت سے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فل بینچ نے، چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی سربراہی میں بدھ کے روز یہ فیصلہ سنایا۔
راجہ امتیاز احمد پر الزام تھا کہ انھوں نے سپریم کورٹ کے واضح حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک منشیات فروشی کے ملزم کو ضمانت پر رہا کیا، اور عدالتی وقار کو مجروح کیا۔
عدالت کے مطابق انھوں نے عدالتی حکم عدولی، دروغ گوئی اور مس کنڈکٹ کا ارتکاب کیا۔ توہین عدالت کا یہ مقدمہ ضلع حویلی کہوٹہ میں منشیات ایکٹ کے تحت درج کیس سے شروع ہوا، جس میں ایک ملزم راجہ دلاور خان کو ہیروئن کی بھاری مقدار رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ملزم کی درخواستِ ضمانت ابتدائی عدالت، ہائی کورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ نے بھی مسترد کر دی تھی۔
سپریم کورٹ نے 19 جنوری 2023 کو اپنے فیصلے میں واضح ہدایت دی تھیں کہ مقدمے کا فیصلہ چھ ماہ کے اندر کیا جائے، اور اگر دوران سماعت کوئی نیا مواد سامنے آئے تو ملزم دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کرے۔
تاہم، صرف ایک ماہ بعد، 16 فروری 2023 کو راجہ امتیاز احمد، جو اس وقت سپیشل جج انسدادِ منشیات عدالت حویلی میں تعینات تھے نے ملزم کو بری کر دیا۔ بریت کے بعد ملزم بیرون ملک فرار ہو گئے جبکہ مقدمے کی اپیل ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھی اور سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی موجود تھا۔
دورانِ سماعت جب سپریم کورٹ میں راجہ امتیاز احمد سے اس بریت کے فیصلے کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی فیصلہ انھوں نے جاری نہیں کیا۔ تاہم عدالتی ریکارڈ سے ان کا جاری کردہ فیصلہ برآمد ہو گیا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے راجہ امتیاز کو معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف انکوائری کا حکم دیا اور ان کے تمام سابقہ فیصلوں، بالخصوص مظفرآباد، پلندری اور حویلی میں منشیات سے متعلق مقدمات کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔
ایک ماہ کی انکوائری کے بعد بدھ کے روز عدالت نے قرار دیا کہ راجہ امتیاز نے توہین عدالت کی، سپریم کورٹ کے احکامات کو چیلنج کیا اور عدالت میں غلط بیانی کر کے ادارے کے وقار کو مجروح کیا۔ عدالت نے فوری طور پر انھیں تین دن قید کی سزا سناتے ہوئے کمرہ عدالت سے گرفتار کرنے کا حکم دیا۔
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے 27 جون کے فیصلے پرعملدرآمد کرتے ہوئے 74 مخصوص نشستیں بحال کردی ہیں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پہلے جاری کردہ نوٹیفکیشنز واپس لینے کا حکم عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی تعمیل میں دیا گیا۔
مجموعی طور پر مسلم لیگ ن کو 43 ، پیپلزپارٹی کو 14 اور جے یوآئی کو 12 نشستیں ملی ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی ، مسلم لیگ ق، اے این پی، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی پی کی ایک ایک نشست دی گئی ہے۔
قومی اسمبلی کی بحال کردہ 19 نشستوں میں سے ن لیگ کو 13 ، پیپلزپارٹی کو چار اور جے یوآئی کو دو نشستیں ملیں۔
اس وقت مسلم لیگ ن کی قومی اسمبلی میں مجموعی نشستیں 123 ہو گئی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی مجموعی نشستیں 74 جبکہ ایم کیو ایم کی 22 نشستیں ہیں۔
عدالتی فیصلے کی روشنی میں خیبرپختونخوا اسمبلی کی 25 نشستیں بحال کی گئی ہیں جن میں جے یوآئی کو 10، ن لیگ کو سات اور پیپلزپارٹی کو چھ نشستیں ملی ہیں۔ پی ٹی آئی پی اور اے این پی کے حصے میں ایک ایک نشست آئی ہے۔
پنجاب اسمبلی کی 27 نشستں بحال کی گئیں جن میں سے ن لیگ کی 23 اور پیپلزپارٹی کی 2 نشستیں ہیں جبکہ استحکام پاکستان پارٹی اور ق لیگ کی ایک ایک نشست کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ سندھ اسمبلی کی تین نشستوں میں سے دو پیپلزپارٹی اور ایک ایم کیوایم کے حصے میں آئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی کا پروگرام جاری رکھے گا لیکن اس کی جوہری ہتھیار بنانے کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ سے پہلے اور بعد میں امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کا مخالف ہے اور تہران کو یہ پروگرام ختم کرنا چاہیے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’ہم نے افزودگی کی صنعت کے لیے بہت محنت کی، ہمارے سائنسدانوں نے بہت محنت اور کوشش کی، ہمارے لوگوں نے (سختیاں) برداشت کیں اور 20 سال سے زیادہ عرصے تک افزودگی کے لیے بہت سخت پابندیوں کا سامنا کیا۔‘
زیر زمین یورینیم افزودگی کے مرکز کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’فردو میں فی الوقت کسی کو قطعی طور پر معلوم نہیں ہے کہ کیا ہوا ہے، جہاں تک میں جانتا ہوں، نقصان بہت زیادہ اور بہت سنگین ہوا۔‘
عباس عراقچی کے مطابق ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے جس کے بعد ہی صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے گذشتہ ہفتے اصفہان، فردو اور نطنز میں تین ایرانی جوہری تنصیبات کو تباہ کر دیا تھا، تاہم امریکہ کے کچھ میڈیا اداروں نے ملک کے محکمہ دفاع کی جانب سے لیک ہونے والی ایک دستاویز کی بنیاد پر کہا ہے کہ ان تنصیبات کو نقصان پہنچا لیکن یہ تباہ نہیں ہوئی ہیں۔
ایران نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کو اپنی سرزمین پر جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان حملوں کے جواب میں وہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی سے تعاون سے متعلق اپنی بعض پالیسیوں پر نظرثانی کرے گا۔
آج ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ایک قانون پر دستخط کیے ہیں جس میں حکومت سے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ قانون گذشتہ ہفتے ایرانی پارلیمنٹ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان بارہ روزہ جنگ میں جنگ بندی کے آغاز کے ایک دن بعد دو قدمی ہنگامی اقدام کے طور پر منظور کیا گیا تھا اور اسے رہبری شوریٰ نے فوری طور پر منظور کر لیا تھا۔
اس قانون کے تحت ایران کی حکومت کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ اس وقت تک ہر قسم کا تعاون معطل کرنا ہوگا جب تک کہ ’جوہری تنصیبات اور سائنسدانوں کی حفاظت‘ کی ضمانت نہیں دی جاتی۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایران سے کہا ہے کہ وہ اپنے معائنہ کاروں کو ان تنصیبات کا دورہ کرنے کی اجازت دے جو حال ہی میں اسرائیلی اور امریکی حملوں کا نشانہ بنی تھیں۔
باجوڑ میں ایک بم دھماکے میں اسسٹنٹ کمشنر ناوگئی سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
باجوڑ کے پولیس افسر وقاص رفیق نے بی بی سی کو بتایا کہ باجوڑ کی تحصیل خار کے علاقے میں گاڑی پر بم دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے ہیں۔
اس دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں اسسٹنٹ کمشنر ناوگئی فیصل اسماعیل، تحصیلدار ناوگئی عبدالوکیل سمیت تین دیگر افراد شامل ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں امدادی کارروائی میں مصروف ہیں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق باجوڑ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ ابتدائی طبی امداد کے لیے محکمہ صحت کا عملہ چوکس کردیا گیا ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے مشیر صحت احتشام علی نے باجوڑ دھماکے میں اسسٹنٹ کمشنر و تحصیلدار سمیت دیگر افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس حملے کی مذمت کی ہے۔
ایران پر اسرائیلی حملوں میں آذربائیجان کے مبینہ کردار کے بارے میں قیاس آرائیوں اور الزامات نے تہران اور باکو کے درمیان حالات کو کشیدہ کر دیا ہے۔
آذربائیجان کے سرکاری میڈیا نے ایران کی جانب سے عائد الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ ایران کے خلاف ڈرون حملوں کے لئے آذربائیجان کی سرزمین یا فضائی حدود استعمال کی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ آذربائیجان نے سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے ایسے بیانات کو ’جارحانہ پروپیگنڈا‘ اور ’غلط معلومات‘ قرار دیا ہے۔
آذربائیجان کے سرکاری میڈیا نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایرانی حکومت کی ’آذربائیجان مخالف‘ پالیسیوں کے ذاتی طور پر ذمہ دار ہیں۔
آذربائیجان کے خبر رساں ادارے کیلیبر کی ویب سائٹ پر ’خامنہ ای اینڈ ہز وار اگینسٹ آذربائیجان‘ کے عنوان سے ایک مضمون میں ایران کے رہنما پر الزام عائد کیا ہے گیا کہ ’وہ کئی سالوں سے باکو حکومت کے خلاف پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔‘
مضمون میں کہا گیا ہے کہ ’خامنہ ای کا نظریاتی ماڈل ’جبر اور خوف‘ پر مبنی ہے اور آذربائیجان کی ’کامیابی اور سیکولرازم‘ انھیں پسند نہیں۔‘
ایرانی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے ایرانی صدر مسعود پژشکیان نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ان سے گزارش کی تھی کہ وہ اسرائیلی ڈرونز کی جانب سے آذربائیجان کی فضائی حدود کے استعمال کی تحقیقات کریں۔
لیکن آذربائیجان کے سرکاری میڈیا کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا گیا۔ تاہم کچھ تجزیہ کار اس خاموشی کی وجہ آذربائیجان میں میڈیا پر کنٹرول کو قرار دے رہے ہیں۔
باکو میں ایران کے نئے سفیر کے ساتھ ایک ملاقات میں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے ان الزامات کو ’مکمل طور پر بے بنیاد‘ قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ آذربائیجان کی سرزمین ’کبھی بھی کسی دوست اور برادر ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔‘
آذربائیجان کے ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان ای سی او (اقتصادی تعاون تنظیم) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے آذربائیجان جانے والے تھے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اس حالیہ معاملے کی وجہ سے خاصی کشیدگی پائی جا رہی ہے۔
انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ کشیدگی اور اس کے بعد ہونے والی جنگ بندی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نو مئی کی رات جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وزیراعظم نریندر مودی کو فون کیا تو اُس وقت وہ اُس کمرے میں موجود تھے جہاں یہ بات ہوئی۔
انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر کواڈ ممالک کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں شرکت کے لیے امریکہ میں موجود ہیں۔ اس دورے کے دوران امریکی میگزین ’نیوز ویک‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا ’وہ نو مئی کی رات تھی۔ امریکی نائب صدر نے کہا کہ پاکستان انڈیا پر بہت بڑا حملہ کرے گا اگر ہم نے کچھ باتیں تسلیم نہیں کیں۔‘ جے شنکر نے مزید کہا کہ اس پر وزیر اعظم نریندر مودی نے عندیہ دیا کہ انڈیا بھی جواب دے گا۔
’اُس رات پاکستان نے بڑے پیمانے پر حملہ کیا تھا۔ ہم نے فوری جوابی کارروائی کی۔‘ جے شنکر نے دعویٰ کیا کہ ’اس سے اگلی صبح امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے مجھے فون کیا اور کہا کہ پاکستان بات چیت کے لیے تیار ہے۔ تو میں صرف اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر آپ کو بتا سکتا ہوں کہ کیا ہوا۔‘
جے شنکر کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارا دنیا کو یہ پیغام ہے کہ دہشت گردی کے لیے برداشت صفر ہونی چاہیے اور کسی بھی قسم کی صورت حال یا حالات میں کسی کو دہشت گردوں کی مدد یا مالی معاونت نہیں کرنی چاہیے۔‘
جے شنکر نے دعویٰ کیا کہ ’انڈیا چار دہائیوں سے دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے اور پہلگام حملے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم دہشت گردوں کو کھلی آزادی سے ایسا نہیں کرنے دے سکتے۔ یہ تصور کہ وہ سرحد کی دوسری جانب ہیں اور کسی قسم کی کارروائی کا انھیں خطرہ نہیں، اسے چیلنج کرنے کی ضرورت تھی اور ہم نے ایسا ہی کیا۔‘
’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم دہشت گردوں کو پراکسی کی طرح نہیں سمجھیں گے اور اس حکومت کو جو ان کی مدد یا مالی معاونت کرتی ہے، ہم جوہری بلیک میلنگ کی اجازت نہیں دیں گے کہ اس کی وجہ سے ہم کارروائی نہ کر سکیں۔‘
پاکستان نے رواں ماہ کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی ہے۔
نائب وزیراعظم اسحق ڈار نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ ’ہم نے صدارت ایسے وقت میں سنبھالی جب دنیا بڑھتے ہوئے تنازعات اور انسانی بحران میں گھری ہوئی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان سلامتی کونسل کو مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل پر مبنی موثرلائحہ عمل کی طرف لے جانے کی کوشش کرے گا۔‘
اسحق ڈار نے ایکس پر مزید لکھا کہ ’پاکستان جامع ،متوازن اور عملی اقدامات کے لیے اقوام متحدہ کے تمام رکن ملکوں کے ساتھ کام کرنے کا خواہشمند ہے۔‘
نائب وزیراعظم نے کہا کہ ’وہ کثیرالجہتی لائحہ عمل کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر امن و سلامتی برقرار رکھنے سمیت تنازعات کے پرامن حل اور اقوام متحدہ اور او آئی سی کے درمیان تعاون کے حوالے سے رواں ماہ اعلیٰ سطح کے دو اجلاسات کی صدارت کریں گے۔‘
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار کا صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’پاکستان دنیا بھر میں تنازعات کا مذاکرات کے ذریعے حل کا حامی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تنازعات کا پرامن حل چاہتا ہے اور دنیا بھر میں تنازعات کا مذاکرات کے ذریعے حل کا حامی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان سفارت کاری اور ثالثی کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے اور ڈائیلاگ کے فروغ کی حمایت کرتا ہے۔‘
واضح رہے کہ پاکستان نے گزشتہ روز سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی ہے۔
پاکستان کا یہ سلامتی کونسل میں آٹھواں دور ہے، جبکہ صدارت کا اعزاز اسے 2013 کے بعد پہلی بار حاصل ہوا ہے۔ پاکستان نے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے اپنا موجودہ دو سالہ دور جنوری 2025 میں شروع کیا تھا، جو دسمبر 2026 تک جاری رہے گا۔
اگرچہ سلامتی کونسل کی صدارت ماہانہ بنیاد پر بدلتی ہے اور اسے براہِ راست انتظامی اختیارات حاصل نہیں ہوتے، تاہم صدارت کا حامل ملک کونسل کے ایجنڈے، مباحثوں کے انداز اور ترجیحات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان جاری شدید جنگ کے درمیان امریکا نے یوکرین کو کچھ ہتھیاروں کی فراہمی روک دی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے منگل کو کہا کہ یہ فیصلہ ’امریکہ کے مفادات کو مقدم رکھنے‘ کے لیے کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے ’دیگر ممالک کو امریکی فوجی امداد اور تعاون‘ کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔
فروری سنہ 2022 میں روسی حملے کے بعد امریکہ نے یوکرین کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد بھیجی ہے، جس کی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ میں کچھ لوگوں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا کہ اس کے امریکہ پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
یوکرین نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ تاہم امریکی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ کون سی کھیپ روکی جا رہی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس اعلان کے بعد فضائی دفاعی میزائل اور گولہ بارود متاثر ہونے والے ہتھیاروں میں شامل ہیں۔
یہ فیصلہ گزشتہ ہفتے نیدرلینڈز میں نیٹو سربراہ اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے اپنے ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی کی ملاقات کے فورا بعد سامنے آیا ہے۔
بلوچستان میں حالات کی خرابی بعد سے اس کے ضلع مستونگ میں بھی سنگین بدامنی کے واقعات پیش آرہے ہیں، لیکن منگل کے روز ضلع مستونگ کے ہیڈ کوارٹر مستونگ شہر میں مسلح افراد نے جو حملہ کیا وہ دن کی روشنی میں اپنی نوعیت کا پہلا اور بڑا واقعہ تھا۔
سرکاری حکام کے مطابق مسلح افراد نہ صرف شہر کے مختلف علاقوں میں ڈیڑھ گھنٹے تک موجود رہے بلکہ تحصیل آفس کے علاقے سمیت بعض دیگر علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ ان کی جھڑپیں بھی ہوئیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی بروقت اور موثر کارروائی نے اس حملے کو ناکام بنا دیا۔
مقامی پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق مسلح افراد صبح ساڑھے دس بجے کے قریب مستونگ شہر کے مختلف علاقوں میں داخل ہوئے اور ان کے حملے میں سب سے زیادہ نقصان تحصیل آفس اور اس کے قریب بینکوں میں ہوا۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ایک سولہ سالہ لڑکا مارا گیا اور 7 افراد زخمی ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں دو حملہ آور ہلاک ہوئے۔
مسلح افراد شہر کے مختلف علاقوں سے داخل ہوئے
مستونگ میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد 30 سے 40 کے قریب تھی جو کہ ساڑھے 10 اور 11 بجے کے درمیان شہر کے مختلف علاقوں میں داخل ہوئے۔
انھوں نے بتایا کہ ان میں سے بعض نے تحصیل آفس پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں دفتر کو شدید نقصان پہنچا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تحصیل آفس کے سکیورٹی پر مامور لوگوں نے خطرے کو بھانپ لیا تو انھوں نے تحصیل کے دفتر کے مین گیٹ کو بند کیا جس پر مسلح افراد مین گیٹ سے اندر داخل نہیں ہوسکے تاہم وہ دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔
اہلکار نے بتایا کہ تحصیل آفس کے اندر جو لوگ تھے ان کو مسجد کے اندر بند کیا گیا جس کے بعد انھوں نے اس کے مختلف حصوں کو نقصان پہنچایا۔
ان کا کہنا تھا کہ تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ حملہ آور تحصیل آفس سے کوئی اسلحہ وغیرہ لے جاسکے یا نہیں۔
’حملے میں تحصیل آفس کو زیادہ نقصان پہنچا‘
مستونگ پولیس کے ڈی ایس محمد یونس مگسی نے رابطہ کرنے پر فون پر بتایا کہ مسلح افراد نے تحصیل آفس میں گرینیڈ سمیت دیگر دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا جس سے تحصیل آفس کے اندر گاڑیوں کو آگ لگنے کے علاوہ اس کے مختلف حصوں میں آگ لگی۔
انھوں نے بتایا کہ آگ کی وجہ سے تحصیل کے دفاتر میں پڑی فرنیچر اور ریکارڈ کو بھی نقصان پہنچا۔
’حملے میں تین بینکوں کو بھی نقصان پہنچا‘
ڈی ایس پی یونس مگسی نے بتایا تحصیل کے دفتر کو نقصان پہنچانے کے علاوہ حملہ آوروں نے اس کے قریب واقع نیشنل بینک، مسلم کمرشل بینک اور بینک الحبیب کے برانچوں پر حملہ کرکے ان کو نقصان پہنچایا۔
انھوں نے بتایا کہ ان بینکوں کو بھی نقصان پہنچانے کے لیے گرینیڈ اور دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا گیا جن سے آگ لگنے کی وجہ سے دو بینکوں کو زیادہ نقصان پہنچا۔
سینیئر صحافی فیض درانی نے باہر سے بینکوں کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی جائزہ لیا۔
انھوں نے بتایا کہ ’تحصیل کے قریب واقع نیشنل بینک کی عمارت چونکہ پرانی تھی اور لکڑی سے بنی ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس کی عمارت کو زیادہ نقصان پہنچا تھا جبکہ دوسرے نمبر پر زیادہ نقصان مسلم کمرشل بینک کو نقصان پہنچا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’تیسرے بینک کے برانچ کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا تھا تاہم اس کے شیشے وغیرہ ٹوٹ گئے تھے۔‘
بینکوں پر حملے کے وقت اور اس کے بعد کی صورتحال کے بارے میں جب مسلم کمرشل بینک کے متائثرہ برانچ کے سینیئر آفیسر سجاد بلوچ سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ چونکہ یکم جولائی کو بینک ہالیڈے کی وجہ سے بینک بند تھے اس لیے وہ کام پر نہیں گئے تھے۔‘
’حملہ آوروں سے پہلا مقابلہ تحصیل کے دفتر کے قریب ہوا‘
صحافی فیض درانی نے بتایا کہ مسلح افراد کے حملے کے بعد تحصیل آفس کی جانب سے شدید فائرنگ کی آوازوں کے علاوہ دھماکوں کی بھی آوازیں سنائی دی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے اندازہ ہورہا تھا کہ حملے کی شدت اور سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان مقابلہ تحصیل آفس کے گردونواح میں زیادہ ہورہا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ حملہ آور اندازاً ڈیڑھ گھنٹے تک مستونگ شہر میں رہے۔
انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ مستونگ شہر میں طویل عرصے سے سنگین بدامنی کے واقعات ہورہے ہیں لیکن شہر کے اندر مسلح افراد کی بڑی تعداد کے ساتھ یہ اپنی نوعیت کی پہلی بڑی کارروائی تھی۔
پولیس کے آفیسر یونس مگسی نے بتایا کہ مسلح افراد نے تحصیل آفس پر حملہ کیا تو ان کے ساتھ سب سے پہلا مقابلہ سی ٹی ڈی اور پولیس کا ہوا۔
انھوں نے بتایا کہ سی ٹی ڈی کے اہلکار بکتر بند گاڑی میں آگے تھے جبکہ پولیس ان کی پشت پر تھی۔ انھوں نے راکٹ داغنے کے علاوہ دیگر اسلحے سے حملے کیئے لیکن بکتر بند گاڑی میں ہونے کی وجہ سے سی ٹی ڈی اور پولیس کے اہلکار محفوظ رہے۔
انھوں نے کہا کہ حملے کے ساتھ ہی فرنٹیئر کور کی نفری بھی آئی اور مختلف علاقوں میں مسلح افراد کی موجودگی تک ان کے درمیان مقابلہ ہوتا رہا۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کے مطابق واقعے کے فوراً بعد ایف سی، سی ٹی ڈی اور لیویز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا جس کی وجہ سے مسلح افراد پسپا ہوگئے۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو گھیرے میں لے لیا اور شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
ترجمان کے مطابق سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو حملہ آور مارے گئے جبکہ تین زخمی ہوئے۔
ہیلی کاپٹروں کی پروازیں اور انٹرنیٹ کی بندش
صحافی فیض درانی نے بتایا کہ تحصیل آفس پر حملے اور شہر کے مختلف علاقوں میں مسلح حملہ آوروں کی آمد کے بعد شہر میں دکانیں، دفاتر اور سکول وغیرہ بند ہوگئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ سہہ پہر تین بجے تک کلیئرینس آپریشن مکمل ہوگیا تھا لیکن اس کے بعد شہر میں دکانیں وغیرہ نہیں کھلیں بلکہ رات گئے تک بند رہیں۔
انھوں نے بتایا کہ اس حملے کے باعث جہاں شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی نقل و حمل میں اضافہ ہوا بلکہ شہر کی فضا میں ہیلی کاپٹر بھی رات دیر تک چکر لگاتے رہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد شہر میں موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس بھی بند ہوگئی جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
’حملہ آوروں اور ان کے پشت پناہوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا‘
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک بیان میں مستونگ میں تحصیل آفس، بینک اور دیگر عمارات پر ’دہشت گردانہ‘ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام اور ریاستی ادارے مل کر ایسی سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’مستونگ میں سکیورٹی فورسز کے بروقت اور مؤثر ردعمل نے حملہ آوروں کے عزائم خاک میں ملا دیا۔‘
انھوں نے واضح کیا کہ ’بلوچستان میں اب کسی بھی دہشت گرد، سہولت کار یا بیرونی ایجنڈے کے حامل عناصر کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’سکیورٹی ادارے مکمل اختیارات کے ساتھ کارروائی جاری رکھیں گے اور حملہ آوروں سمیت ان کے پشت پناہوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘
مستونگ کہاں واقع ہے؟
مستونگ شہرضلع مستونگ کا ہیڈ کوارٹر ہے اور یہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب میں اندازا پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس ضلع کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متاثر ہیں۔
مستونگ میں اگرچہ بلوچ عسکریت طویل عرصے سے متحرک ہیں تاہم مستونگ شہر اور اس کے مختلف علاقوں میں مذہبی شدت پسند تنظیمیں بھی سرگرم عمل رہی ہیں۔
تاہم مذہبی شدت پسند تنظیموں کی کارروائیاں ماضی کے مقابلے میں کم ہوگئی ہیں لیکن ان میں انسانی جانوں کا ضیاع زیادہ رہا ہے۔ گزشتہ چند سال کے دوران مذہبی شدت پسندی کے حوالے سے مستونگ میں ہونے والی بعض بڑی کارروائیوں کی ذمہ داریاں کالعدم تنظیم داعش کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔
گزشتہ ایک ڈیڑھ سال کے دوران مستونگ کے مختلف علاقوں میں بلوچ عسکریت تنظیوں کی کارروائیوں میں تیزی اور اضافہ دیکھنے میں آئی ہے۔
گزشتہ دو ڈھائی ہفتوں کے دوران مستونگ میں کردگاپ، دشت اور ولی خان کے علاقوں میں لیویز فورس کے تھانوں کو نذر آتش کرنے کے علاوہ مسلح افراد ان سے اسلحہ بھی لے گئے۔
کردگاپ کے علاقے میں نادرا آفس کو نذر آتش کرنے کے علاوہ دو دیگر سرکاری دفاتر کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
اگرچہ بلوچستان میں لیویز فورس اور عام پولیس دہشت گردی جیسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے نہیں ہیں تاہم فرائض میں غفلت کی بنیاد پر کردگاپ اور دشت میں لیویز فورس کے 30 اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔
مستونگ کے مقامی حکام کے مطابق گزشتہ ایک ڈیڑھ ہفتے کے دوران مستونگ میں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر کھڈکوچہ پر ناکہ بندی کے علاوہ معدنیات لے جانے والی گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔
مقامی حکام کے مطابق کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ان حملوں میں دس سے زائد گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ جبکہ اس سے قبل کردگاپ میں ناکہ بندی کے دوران کوئٹہ تفتان شاہراہ پر ناکہ بندی میں ایران سے گیس لانے والے بعض ٹینکروں کو نقصان پہنچایا گیا۔
گزشتہ ایک ڈیڑھ سال کے دوران مستونگ میں بلوچ عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کی ذمہ داریاں بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔
امریکی سینیٹ میں کئی گھنٹوں کے تعطل کے بعد ریپبلکنز نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیکس اور اخراجات سے متعلق میگا بل کو منظور کر لیا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ مجوزہ قانون نے ایک اہم رکاوٹ کو دور کر دیا ہے۔
24 گھنٹے سے زیادہ کی بحث کے بعد ’دی ون بگ بیوٹیفل بل ایکٹ‘ نائب صدر جے ڈی وینس کے ووٹ کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔
اب یہ بل ایوان زیریں کی طرف واپس جائے گا جہاں اسے زیادہ مخالفت کا سامنا ہے۔ اس سے قبل ایوان نمائندگان کے ریپبلکن ارکان نے ایک ووٹ کے فرق سے اس کی منظوری دی تھی۔
ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کے زیر کنٹرول کانگریس کو 4 جولائی تک کی ڈیڈ لائن دی تھی تاکہ وہ بل کو حتمی قانون کی شکل دے سکیں۔
وینس نے منگل کی سہ پہر کہا کہ ’ترمیم شدہ بل منظور ہو گیا ہے۔‘ اُن کے ایسے کہنے پر سینیٹ میں موجود ریپبلکنز نے تالیاں بجائیں جبکہ ڈیموکریٹس کی جانب سے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔
ٹیکس، سماجی پروگراموں اور اخراجات کی سطح پر تنازعات نے ریپبلکنز کے لیے چیلنجز پیدا کر دیے تھے۔ جس کی وجہ سے پیش رفت رک گئی تھی اور ٹرمپ کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کیا گیا تھا کہ بل کی منظوری کے لیے ان کی ڈیڈ لائن کو پورا کرنا ’بہت مشکل‘ ہوگا۔
پارٹی کو متحرک کرنے کی کوششوں کے باوجود سینیٹ کے اکثریتی رہنما جان تھون کو تین ریپبلیکن ارکان مینے کی سوسن کولنز، شمالی کیرولائنا کے تھوم ٹیلس اور کینٹکی کے رینڈ پال کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کولنز، ٹیلس اور پال نے بل کے خلاف ووٹ دینے میں تمام ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔
کئی دنوں کے مذاکرات کے بعد، ریپبلکن رہنما بالآخر الاسکا کی سینیٹر لیزا مرکووسکی کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ جو اپنی ریاست میں میڈیکیڈ میں کٹوتی کے اثرات کے خدشات کی وجہ سے ان کی حمایت سے انکار کر رہی تھیں۔
فلوریڈا میں تارکین وطن کی حراستی مرکز کے دورے کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے بل کی منظوری پر خوشی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک بہت اچھا بل ہے۔ اس میں سب کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور ہے۔‘
یہ قانون سازی، جسے ٹرمپ کی دوسری مدت کے ایجنڈے کا سنگ بنیاد سمجھا جاتا ہے، ٹیکسوں میں مستقل طور پر بڑی کٹوتی کرے گی جو عارضی طور پر اس وقت نافذ کی گئی تھیں جب وہ پہلی بار اقتدار میں تھے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کو حتمی شکل دینے کے لئے ’ضروری شرائط‘ پر اتفاق کیا ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ مجوزہ معاہدے کے دوران ’ہم جنگ کے خاتمے کے لئے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’قطری اور مصری، جنھوں نے امن لانے کے لیے بہت محنت کی ہے اس حتمی تجویز کو پیش کریں گے۔ مجھے اُميد ہے۔۔۔ حماس اس معاہدے کو اس لیے قبول کرے گی کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو حالات بہتر نہیں بلکہ مزید خراب ہو جائیں گے۔
اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد غزہ میں فوجی حملوں کا آغاز کیا تھا۔ حماس کے اسرائیل پر حملے کے نتیجے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم اس کے بعد سے جاری اسرائیلی افواج کے حملوں سے متعلق حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس وقت تک غزہ میں کم از کم 56,647 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
تاہم تقریباً 50 اسرائیلی یرغمالی اب بھی غزہ میں موجود ہیں، جن میں سے کم از کم 20 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہے کہ حماس جنگ بندی کی شرائط قبول کرے گی یا نہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کا یہ اعلان اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے ساتھ آئندہ ہفتے طے شدہ ملاقات سے قبل سامنے آیا ہے جس میں امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ ’بہت واضح‘ رہیں گے۔
امریکی صدر نے منگل کے روز کہا تھا کہ ان کے خیال میں نیتن یاہو غزہ میں جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’وہ جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ وہ ایسا ہی چاہتا ہے اور میرے خیال میں ہم اس مسئلے پر آئدنہ ہفتے ایک معاہدہ کر لیں گے۔‘
منگل کے روز اسرائیل کے سٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر کی واشنگٹن میں مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات متوقع تھی۔
گزشتہ ہفتے حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ثالثوں نے غزہ میں نئی جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں لیکن اسرائیل کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ تنازع تبھی ختم ہو سکتا ہے جب حماس کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ دوسری جانب حماس طویل عرصے سے مستقل جنگ بندی اور غزہ سے اسرائیل کے مکمل انخلا کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کے درمیان ملاقات آئندہ ہفتے پیر کو متوقع ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے پیر کو میڈیا بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کے سینیئر مشیر رون ڈرمر اس وقت وائٹ ہاؤس میں حکام سے ملاقات کر رہے ہیں۔
دوسری جانب واشنگٹن میں ایک اسرائیلی افسر نے تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ اور نتن یاہو کے درمیان ملاقات اگلے پیر کو ہوگی اور اس ملاقات میں ’ایران، غزہ، شام اور خطے کے دیگر چیلنجز‘ پر بات چیت ہوگی۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ٹرمپ ایک مرتبہ پھر ’غزہ میں معاہدے‘ اور ’یرغمالیوں کی واپسی‘ کی بات کر رہے ہیں۔
سنیچر کو ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم ’اس وقت‘ حماس کے ساتھ کسی معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں۔
انڈیا کی ریاست تلنگانا میں پیر کو ایک دواؤں کی فیکٹری میں لگنے والی آگ کے سبب اموات کی تعداد 34 ہو گئی ہے۔
نیوز ایجنسیوں کے مطابق یہ آگ ریاستی دارالحکومت حیدرآباد کے قریب سیگاچی انڈسٹریز کے ایک یونٹ میں دھماکے کے بعد لگی تھی۔
حیدرآباد میں ایک سینیئر پولیس افسر پاریتوش پنکج نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا کہ ’ملبے سے 31 لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ تین افراد دورانِ علاج ہسپتال میں ہلاک ہوئے ہیں۔‘
پولیس نے ہلاک ہونے والے ایک شخص کے بیٹے کی مدعیت میں سیگاچی انڈسٹریز کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
دوسری جانب کمپنی نے 90 روز کے لیے اپنے آپریشنز کو بند کر دیا ہے۔
سیگاچی انڈسٹریز سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بدقسمتی سے اس واقعے میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔‘
حکام کا کہنا ہے جس وقت دھماکے کے باعث عمارت گرِی اس وقت وہاں تقریباً 60 افراد موجود تھے۔
وہاں موجود بہت سارے ملازمین کا تعلق جھاڑکنڈ، اوڈیشہ، بہار، اُتر پردیش اور مغربی بنگال سے تھا۔
پاکستان حکومت کی جانب سے افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز اور ملک میں غیر قانونی طور پر قیام پذیر افغان باشندوں کے خلاف آپریشن کے بعد پروف آف رجسٹریشن کارڈ (پی او آر) کے حامل افغان شہریوں کے خلاف کارروائی کے لیے اسلام اباد اور صوبوں کی انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔
اس سے قبل پی او آر کے حامل افغان شہریوں کو پاکستان چھوڑنے کے لیے 30 جون کی ڈیڈلائن دی گئی تھی۔
وزارت داخلہ کی جانب سے متعلقہ حکام کو لکھے جانے والے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ چونکہ حکومت کی جانب سے ابھی تک اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی ار سے رجسٹرڈ شدہ افغان باشندوں کی پاکستان میں قیام میں توسیع کا فیصلہ نہیں کیا گیا اس لیے ان کے خلاف اسی طرح کی کارروائی جاری رکھی جائے جس طرح افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کے خلاف کی گئی تھی۔
اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حوالے سے فہرستیں پہلے سے ہی تیار ہیں اور پولیس اہلکاروں نے ان علاقوں کی نشاندہی بھی کرلی ہے جہاں پر پی او آر کارڈ کے حامل افغان باشندے رہائش پذیر ہیں۔
انھوں نے کہا کہ محرم کی مجالس کا سلسلہ جاری ہے اس لیے پولیس کی زیادہ تر نفری ان مجالس میں شریک افراد کی سکیورٹی پر تعینات کی گئی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے افغان باشندوں کی واپسی کے لیے جو انتظامات کیے تھے وہ اپنی جگہ پر برقرار ہیں۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ چند روز قبل سرحدی اور ریاستی امور کی وزارت کے حکام سے اقوام متحدہ کے نمائندوں نے ملاقات کی تھی اور ان سے ایسے افغان باشندوں کے قیام میں توسیع کرنے کی درخواست کی تھی جن کے پاس پی او آر کارڈز ہیں۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ متعقلہ وزارت کی جانب سے جو مراسلہ وزارت داخلہ کو بھجوایا گیا ہے اس کے مطابق ایسے افغان باشدوں کے قیام میں تین سے چھ ماہ اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ تاہم اس درخواست کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ منگل کو وفاقی کابینہ کا اجلاس نہیں ہے لیکن اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ ایک سرکلر سمری کے ذریعے اس کی منظوری لی جائے۔
وزارت داخلہ کے مطابق اس وقت پاکستان میں 12 لاکھ سے زیادہ افغان باشندے قیام پذیر ہیں جن کے پاس پی او ار کارڈز ہیں۔
دنیا کے 130 سے زیادہ فلاحی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں نے اسرائیل اور امریکہ کی حمایت یافتہ غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان اداروں اور تنظیموں کا کہنا ہے کہ غزہ میں تین مہینوں تک جاری رہنے والے اسرائیلی محاصرے کے بعد مئی میں جی ایچ ایف نے کام کرنا شروع کیا تھا اور تب سے اب تک امداد کے منتظر 500 فلسطینی ہلاک اور تقریباً 4 ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔
جی ایچ ایف کو بند کرنے کا مطالبہ کرنے والے اداروں میں آکسفام، سیو دا چلڈرن اور ایمنیسٹی انٹرنیشنل بھی شامل ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج اور مسلح گروپ ’روٹین میں‘ امداد کے منتظر فلسطینیوں پر فائرنگ کرتے ہیں۔
اسرائیل نے امداد کے منتظر افراد پر جان بوجھ کر فائرنگ کرنے کی تردید کی ہے اور جی ایچ ایف کے نظام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اداراہ حماس کی مداخلت کے بغیر براہ راست ضرورت مند لوگوں کو امداد فراہم کرتا ہے۔
منگل کو فلاحی اداروں اور تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جی ایچ ایف امدادی کاموں کے دوران تمام اقدار کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور تقریباً 20 لاکھ لوگوں کو پُرہجوم علاقوں اور فوجی زونز میں دھکیل رہی ہے۔
جب سے جی ایچ ایف نے غزہ میں کام کرنا شروع کیا ہے تب سے اب تک طبی کارکنان، عینی شاہدین یا حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کی جانب سے تقریباً روزانہ ہی ایسی اطلاعات آتی ہیں کہ اسرائیلی فوج نے امداد کے منتظر افراد پر فائرنگ کر دی ہے۔
غزہ میں پہلے 400 ایسے مقامات تھے جہاں امداد تقسیم کی جاتی تھی لیکن اس کے بعد جی ایچ ایف کو امداد تقسیم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی اور اسرائیلی فوج کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں امدادی مقامات کی تعداد چار کر دی گئی۔
دنیا بھر کے 130 سے زیادہ فلاحی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ’آج فلسطینیوں کے سامنے دو ناممکن آپشنز ہیں: یا وہ بھوکے رہیں یا پھر اپنے خاندانوں کا پیٹ بھرنے کے لیے کھانے حاصل کرنے کی کوشش میں گولی لگنے کا خطرہ مول لیں۔‘
’مرنے والوں میں یتیم بچے اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے بھی شامل ہیں۔ ان مقامات پر عام شہریوں پر ہونے والے حملوں میں نقصان سہنے والوں میں سے آدھی سے زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔‘
حکومتِ بلوچستان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سرکاری عمارت اور بینکوں پر حملہ آور ہونے والے مسلح افراد اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں کم از کم دو شدت پسندوں سمیت تین افراد ہلاک ہوئے۔
منگل کے روز حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے بتایا تھا کہ شدت پسندوں کے اس حملے میں ایک 16 سالہ بچہ ہلاک جبکہ سات افراد زخمی ہوئے۔ ترجمان کے مطابق تین شدت پسند زخمی بھی ہوئے۔
ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری رہا اور واقعے کے فوراً بعد ایف سی، سی ٹی ڈی اور لیویز اہلکاروں نے علاقے کا محاصرہ کر لیا جس کی وجہ سے دہشت گرد پسپا ہو گئے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ’سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو گھیرے میں لے لیا جس کے نتیجے میں فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا اور دو دہشت گرد مارے گئے جبکہ تین زخمی ہوئے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’سکیورٹی اداروں نے حملہ آوروں کے سہولت کاروں کی تلاش بھی شروع کر دی ہے۔‘
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس 2426 پوائنٹس اضافے کے بعد 128053 پوائنٹس کی سطح تک جا پہنچا۔
ملکی سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ روز بھی تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا تھا جو آج بھی جاری ہے۔ مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری میں دلچسپی کی وجہ سے انڈیکس میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ بجٹ کی منظوری کے بعد مختلف شعبوں کے لیے ٹیکس اقدامات کے واضح ہونے کے ساتھ ملکی شرح سود میں کمی بھی ہے۔
تجزیہ کار محمد سہیل کے مطابق بجٹ اقدامات کے واضح ہونے کے بعد مقامی سرمایہ کاروں کی جانب سے زیادہ خریداری کی جا رہی ہے۔
تاہم تجزیہ کار شہر یار بٹ کے مطابق ملکی سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ معاشی اشاریوں میں تیزی کے علاوہ آئندہ کارپوریٹ سیکٹر کے نتائج سے وابستہ توقعات ہیں۔