’شاید ورلڈ کپ جیتنا وطن واپسی سے زیادہ آسان تھا‘: طوفان میں پھنسی انڈین کرکٹ ٹیم آخر کار نئی دہلی پہنچ گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹیم انڈیا نے سنیچر کو جنوبی افریقی ٹیم کے خلاف ایک سنسنی خیز مقابلے میں ٹی20 کا ورلڈ کپ جیت لیا تھا لیکن ورلڈ چیمپیئن بننے والے کرکٹرز کی جھلک دیکھنے کے لیے انڈیا میں موجود فینز کو پانچ دن کا طویل انتظار کرنا پڑا۔
پانچ دن کی تاخیر کے بعد بالآخر انڈیا کی کرکٹ ٹیم جمعرات کو اپنے ملک واپس پہنچ گئی ہے جہاں ان کے پرستاروں نے ان کا نئی دہلی ایئرپورٹ پر استقبال کیا۔
جنوبی افریقہ کی ٹیم نے تو اتوار کے روز ہی بارباڈوس کی سرزمین چھوڑ دی تھی اور ان کے ساتھ ساتھ ورلڈ کپ میں شامل امپائرز اور کمینٹیٹرز بھی اپنی اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گئے لیکن طوفان کے باعث انڈین ٹیم کی پرواز منسوخ کر دی گئی تھی۔
ایک سپورٹس صحافی نے لکھا تھا کہ شاید کپ جیتنا وطن واپسی سے زیادہ آسان تھا کیونکہ تاخیر پر تاخیر ہوتی جا رہی ہے۔
ٹی20 ورلڈ چیمپیئن بننے والی ٹیم کے انڈیا پہنچنے میں تاخیر کے سبب ملک میں لوگوں میں بے چینی پائی جا رہی تھی، لیکن بالآخر انڈین کرکٹرز نے اپنے ملک واپس پہنچ کر ان کی بے چینی کو ختم کردیا۔
منگل کے روز بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا نے ٹیم کی واپسی میں تاخیر کا سبب بتاتے ہوئے کہا تھا کہ تین دن سے بارباڈوس میں طوفان کی وجہ سے پھنسی ٹیم کو بدھ کی شام دہلی پہنچنا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ایئر انڈیا کی ایک خصوصی چارٹرڈ پرواز اے آئی سی 24 ڈبلیو سی یعنی ایئر انڈیا چیمپیئنز 24 ورلڈ کپ فاتح انڈین سکواڈ، ٹیم کے معاون عملے، کھلاڑیوں کے اہلخانہ، بورڈ کے کچھ عہدیداروں اور میڈیا کے نمائندوں کو بارباڈوس سے واپس انڈیا لائی۔
بارباڈوس میں پھنسے کھلاڑیوں میں وہ کرکٹرز بھی شامل تھے جنھیں زمبابوے کے خلاف کرکٹ سیریز میں شرکت کرنی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کھلاڑیوں میں سنجو سیمسن، یشسوی جیسوال، رنکو سنگھ اور خلیل احمد شامل تھے۔
انڈیا پہنچنے کے بعد یہ چاروں کھلاڑی اب جمعرات کی شام ہی دہلی سے ہرارے کے لیے فلائٹ لیں گے، جہاں شبھمن گل اور ان کے ساتھی پہلے ہی پہنچ چکے ہیں اور ان کے منتظر ہیں کیونکہ ان کے میچز 6 جولائی سے شروع ہو رہے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق اس تاخیر کی وجہ سے یہ کھلاڑی بظاہر ابتدائی میچز نہیں کھیل سکیں گے۔

،تصویر کا ذریعہHindustan Times
ٹیم انڈیا کی واپسی کے بعد فینز کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا اور ان کی جانب سے ورلڈ چیمپیئن بننے والے کھلاڑیوں کے بھرپور استقبال کی تیاریاں بھی جا رہی ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
میچ کے بعد ٹیم انڈیا نے چار گھنٹے میدان میں ہی گزارے
سنیچر کے روز ٹیم انڈیا نے میچ جیتنے کے بعد ٹرافی لینے، فوٹو گرافی اور انٹرویوز دینے میں کوئی چار گھنٹے میدان میں ہی گزارے۔
سمندری طوفان کے بعد ان کا پروگرام منگل کو ایک چارٹرڈ طیارے سے پرواز کا تھا اور بدھ کی شام انھیں دارالحکومت دہلی پہنچنا تھا۔ رات کو ٹیم کا قیام ہوٹل میں تھا اور پھر صبح کو وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات متوقع تھی کیونکہ گذشتہ سال 19 نومبر کو جب ٹیم انڈیا احمدآباد کے مودی سٹیڈیم میں آسٹریلیا کے ہاتھوں ون ڈے ورلڈ کپ میں شکست سے دو چار ہوئی تھی تو وزیر اعظم مودی انھیں ڈھارس دینے کے لیے ڈریسنگ روم میں گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہbcci
بارباڈوس میں پھنسے انڈین کھلاڑیوں نے کیا کیا؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کھیلوں کے صحافی ومل کمار نے برج ٹاؤن سے بتایا کہ سوموار کی رات ٹیم انڈیا کے لیے خصوصی ڈنر کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں تمام کھلاڑیوں نے اپنے خاندانوں کے ساتھ شرکت کی اور انھوں نے بی سی سی آئی کے سکریٹری جے شاہ کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کیے۔
انھوں نے بتایا کہ اس دوران ورات کوہلی سب سے زیادہ خوش نظر آ رہے تھے اور ان سے ملاقات کے دوران وہ کافی دیر تک مزاحیہ انداز میں ان سے باتیں کرتے رہے۔
’ایسا لگتا ہے جیسے کوہلی پر سے پتھر جیسا وزن اٹھا لیا گیا ہو۔‘
انھوں نے بتایا کہ روہت شرما کوہلی کی طرح خوش نظر نہیں آ رہے تھے اور شاید اس کی وجہ اطمینان بھی ہو اور دوسرے خوابوں کو پورا کرنے کا خیال بھی ہو۔
انھوں نے کہا کہ ’روہت کو دیکھ کر لگتا ہے کہ انھوں نے اگلے مشن کی تیاری ابھی سے شروع کر دی ہے۔‘
اس سے قبل اتوار کو کوچ ڈراوڑ، کپتان روہت شرما اور سوریہ کمار یادو کے ساتھ کلدیپ یادو نے کئی گھنٹے ساحل پر گزارے۔
ومل کمار نے ایکس پر لکھا کہ ’شاید ورلڈ کپ جیتنا وطن واپسی سے زیادہ آسان تھا۔ اس وقت تک ٹیم کو دہلی کے لیے چارٹرڈ فلائٹ میں ہونا تھا لیکن اس میں مزید تاخیر ہوئی۔ اچھی بات یہ ہے کہ زیادہ تر کھلاڑی اپنے اہلخانہ کے ساتھ ہیں اور بارباڈوس اور ٹیم ہوٹل معیاری وقت گزارنے کے لیے بہترین جگہوں میں سے ایک ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@karishmasingh22
سوشل میڈیا پر اظہار تشکر
انڈین ٹیم کی آمد میں تاخیر پر شوسل میڈیا پر طرح طرح کی باتیں ہو رہی تھیں۔ مفددل ووہرا نے ایکس پر لکھا کہ ’ٹیم انڈیا کی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد وہ کھلی جیپ میں ممبئی میں ٹرافی لے کر نکلیں گے۔‘
بہت سے صحافیوں نے بی سی سی آئی سیکریٹری جے شاہ کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے بارباڈوس میں پھنسے انڈین صحافیوں کو بھی چارٹرڈ طیارے میں جگہ دی۔
صحافی تپس بھٹاچاریہ نے لکھا کہ ’آپ کا بہت بہت شکریہ بی سی سی آئی اور جے شاہ۔ سمندری طوفان میں پھنسے صحافیوں کے لیے بارباڈوس سے دہلی کے لیے خصوصی پرواز کا انتظام کرنے کے لیے آپ کا ایک ٹن شکریہ۔‘
ان کے جواب میں کئی صارفین نے لکھا کہ پورا ملک آپ لوگوں کے استقبال کا منتظر ہے۔











