اقوام متحدہ کی جانب سے بلیک لسٹ کیے جانے والے عبدالرحمان مکی کون ہیں؟

abdul rehman

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی دہشتگردوں پر پابندیاں عائد کرنے والی کمیٹی کی جانب سے کالعدم مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ کے نائب امیر عبدالرحمان مکی کو ’بین الاقوامی دہشتگرد‘ قرار دیتے ہوئے بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس جون میں چین نے عبدالرحمان مکی کو اس فہرست میں شامل کرنے کی مشترکہ تجویز کو آخری لمحات میں روک دیا تھا تاہم اب چین نے ان کا نام اس فہرست میں شامل کرنے کی درخواست واپس لے لی ہے۔

اگر کوئی شخص یا تنظیم اس کمیٹی کی جانب سے بلیک لسٹ کر دیا جائے تو ان کے اثاثے منجمد ہو جاتے ہیں، ان پر سفری اور اسلحہ رکھنے کی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔

عبدالرحمان مکی کالعدم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کے ماموں زاد ہیں اور کالعدم جماعت کے شعبہ سیاسی و خارجی امور کے نگران بھی ہیں۔

حافظ سعید کی شادی عبدالرحمان مکی کی بہن سے ہوئی جبکہ عبدالرحمان مکی حافظ سعید کی بہن سے بیاہے ہوِئے ہیں۔

اس تناظر میں جماعت میں عبدالرحمان مکی اپنی ایک الگ اہمیت کے حامل ہیں، اسی لیے وہ عملی طور پر جماعت الدعوہ کے نائب امیر ہیں۔

القاعدہ کے سابق سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری سے قریبی روابط

بہاولپور میں سال 1948 میں پیدا ہونے والے عبدالرحمان مکی 80 کی دہائی میں اسلام آباد میں اسلامی یونیورسٹی میں معلم کی حیثیت سے کام کرتے رہے ہیں۔

یہ وہ دور تھا جب اسلامی یونیورسٹی میں اسامہ بن لادن کے استاد عبداللہ عزام سمیت متعدد عرب اور افغان اساتذہ اس ادارے سے منسلک تھے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ اسلامی یونیورسٹی میں قیام کے دوران مکی کا عبداللہ عزام یا دیگر جہادی رہنماؤں سے کوئی رابطہ رہا تاہم یہ ضرور کہا جاتا ہے کہ پروفیسر عبدالرحمان مکی کے القاعدہ کے سابق سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری سے قریبی روابط رہے ہیں۔

یہ روابط اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں بنے یا کہیں اور اس کا کسی کو کچھ علم نہیں۔ اسلامی یونیورسٹی میں قیام کے دوران ہی عبدالرحمان مکی تعلیم کے حصول کے لیے سعودی عرب گئے جہاں مکہ کی جامعہ القرا یونیورسٹی سے اسلامی سیاست کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

یہ بھی پڑھیے

جماعت الدعوہ میں انھیں پروفیسر مکی کے نام سے ہی جانا جاتا ہے۔ پروفیسر مکی کے والد حافط عبداللہ علی گڑھ یونیورسٹی انڈیا سے تعلیم یافتہ تھے۔

تقسیم ہند کے موقع پر وہ اپنے خاندان اور دیگر افراد کے ہمراہ پاکستان منتقل ہوئے تھے۔ پاکستان میں عبداللہ نے اپنے خاندان کے ہمراہ بہاولپور میں سکونت اختیار کی جہاں وہ ایف سی کالج بہاولپور میں شعبہ درس و تدریس سے منسلک ہوگئے تھے۔

حافظ عبداللہ جمہوریت مخالف نظریات کے پرچار کرتے تھے۔ حافظ سعید کی طرف سے کالعدم جماعت الدعوہ اور لشکر طیبہ کی بنیاد رکھنے میں حافظ عبداللہ کا بنیادی کردار تھا۔

حافظ عبداللہ اپنے بیٹے عبدالرحمان مکی کو بھی جہاد کے راستے پر دیکھنا چاہتے تھے۔ مکی ابھی سعودی عرب میں ہی مقیم تھے کہ ان کے والد عبداللہ پاکستان میں وفات پا گئے۔

سنہ 1995 میں وطن واپسی پر عبدالرحمان مکی اپنے والد کی خواہش پر جماعت الدعوہ میں شامل ہوگئے۔

مکی عربی اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے خاص خاندانی پس منظر کے باعث انڈیا کے خلاف سخت مؤقف کے حامی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

پاکستان آنے اور کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ میں شمولیت کے بعد عبدالرحمان مکی مبینہ طور پر افغانستان بھی آتے جاتے رہے۔

نومبر 2008 میں انڈین شہر ممبئی میں شدت پسندی کے واقعات کے بعد امریکہ کی طرف سے مکی کو دہشتگرد قرار دیا گیا اور ان کی معلومات دینے والے کو امریکی ریوارڈ فار جسٹس پروگرام کے تحت دو ملین ڈالرز کے انعام بھی اعلان کیا گیا۔

عبدالرحمان مکی کا مؤقف

جماعت الدعوۃ پاکستان کے مرکزی رہنما عبدالرحمن مکی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کمیٹی 1267 کی طرف سے اپنا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں نہ تو کبھی تعلیم حاصل کی اور نہ ہی کبھی وہاں بطور معلم ملازمت اختیار کی ہے۔

ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’میری القاعدہ کے ایمن الظواہری، اسامہ بن لادن یا عبداللہ عزام سے بھی کبھی کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی میرا ان سے کسی قسم کا رابطہ رہا ہے۔ میں نے اسلامی سیاست میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل نہیں کی بلکہ سعودی عرب کی ام القریٰ یونیورسٹی میں علم حدیث میں ڈاکٹریٹ کیا ہے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ بی بی سی کی رپورٹ میں لکھی گئی باتیں غلط ہیں جس سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حوالے سے ان کا موقف شروع دن سے بالکل واضح ہے اور یہ کہ انھوں نے اوپر بیان کی گئی القاعدہ کی تینوں شخصیات کے نظریات کی کبھی حمایت نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ یو این کی سلامتی کمیٹی کی طرف سے ان کا مؤقف سُنے بغیر محض انڈیا کے پراپیگنڈے پر دہشت گردوں کی فہرست میں اُن کا نام شامل کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس کے خلاف وہ جلد اپیل دائر کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’میرا القاعدہ یا داعش جیسی کسی تنظیم سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ جہاں تک کشمیر کی بات ہے تو ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مظلوم کشمیری مسلمانوں کی تحریک آزادی کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ یہ پاکستان کا قومی ایشو ہے اور ہر پاکستانی کی خواہش ہے کہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دیا جائے۔‘