جب انڈونیشیا میں برطانوی فوج کے ساتھ لڑنے والے 600 انڈین فوجیوں نے بغاوت کی

پوسٹر

،تصویر کا ذریعہIWM SE 5979

،تصویر کا کیپشنانڈونیشیا کے جنگجوؤں نے ایک پوسٹر لگا کر انڈین فوجیوں سے لڑائی میں حصہ نہ لینے کی اپیل کی تھی
    • مصنف, تریشا دانتیانی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، انڈونیشیا

سنہ 1945 میں برطانوی فوج کے ساتھ لڑنے والے تقریباً 600 انڈین فوجیوں نے بغاوت کی اور انڈونیشیا کی آزادی کی تحریک کی حمایت کر دی۔

بی بی سی نے برطانوی دور کے پنجاب میں وزیر آباد سے آنے والے ان فوجیوں میں سے ایک کے خاندان کا سراغ لگایا اور ان سے ان کے تجربات پر بات کی۔

سنیوگ سریواستو ایک انڈین ہیں جو انڈونیشیا کے شہر سورابایا میں گذشتہ 25 سالوں سے مقیم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سورابایا کی جنگ انڈیا اور انڈونیشیا دونوں کے لیے جذباتی اہمیت کی حامل ہے۔

سورابایا میں ان کے گھر سے بی بی سی انڈونیشیا کو دیے گئے ایک ورچوئل انٹرویو میں سنیوگ سریواستو نے کہا ’دونوں پر طویل عرصے تک غیر ملکی حملہ آوروں نے ظلم کیا اور جب انگریزوں کے ماتحت انڈین فوج کے سپاہی یہاں آئے تو انھوں نے دیکھا کہ وہ اپنے ہی لوگوں سے لڑنے پر مجبور ہیں۔‘

جب انھوں نے جنگ میں مارے گئے فوجیوں کی یاد میں قومی یادگار 'ٹوگو پہلوان' کا دورہ کیا تو انھوں نے ان انڈین فوجیوں کے نام تلاش کرنے کی کوشش کی جنھوں نے انڈونیشیا کے آزادی پسندوں کے ساتھ اپنی جانیں قربان کیں۔

وہ کہتے ہیں ’اگر آپ یادگار کا دورہ کرتے ہیں، تو آپ کو کچھ اور چیزیں معلوم ہوں گی۔ یہاں کے انڈین نژاد لوگ اور جنھوں نے انڈونیشیا کے سکولوں میں تعلیم حاصل کی ہے، وہ سب اس تاریخ کے بارے میں جانتے ہیں۔‘

تاہم وہ محسوس کرتے ہیں کہ انڈین نژاد زیادہ تر لوگ انڈیا اور انڈونیشیا کے اس مشترکہ ورثے سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ وہ امید کرتے ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کہانی کی تہہ تک پہنچیں گے۔

سنیوگ کہتے ہیں ’مجھے لگتا ہے کہ یہ دلوں کو قریب لائے گا اور انسانیت کے احساس میں اضافہ کرے گا۔ انڈین تارکین وطن میں دونوں ممالک کے تئیں ذمہ داری کا احساس پیدا کرے گا اور دونوں ثقافتوں کے میل ملاپ، ایک دوسرے کا احترام اور امن کا احساس اور مل کر کام کرنے کا باعث بنے گا۔‘

برطانوی فوج کے پانچھویں انڈین ڈویژن کے سپاہی

،تصویر کا ذریعہIWM SE 6735

،تصویر کا کیپشنبرطانوی فوج کے پانچویں انڈین ڈویژن کے سپاہی سورابایا سے 10 میل دور گریسک قصبے پر گولہ باری کر رہے ہیں

سورابایا کی جنگ اور 600 انڈین فوجیوں کا کردار

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سورابایا کی جنگ اہم تھی کیونکہ یہ ایشیا میں برطانوی سلطنت کی آخری بڑی جنگ تھی۔

اس وقت اتحادی افواج ستمبر 1945 میں سورابایا میں تعینات تھیں۔ برطانیہ کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا کے فوجی بھی یہاں موجود تھے۔

لیکن انڈونیشیا کے لوگوں کو برطانیہ کے ساتھ ڈچ فوجیوں کو دیکھ کر غصہ آیا اور ان کا خیال تھا کہ ہالینڈ صرف ان کے ملک پر دوبارہ قبضہ کرنے میں برطانیہ کی مدد کر رہا ہے۔

انڈونیشیا کی جدید تاریخ کے ماہر اور آکسفورڈ مورخ پیٹر کیری کے مطابق ’ایک طرح سے 1946 میں، برطانیہ نے ڈچ کے لیے دوبارہ آنے کا دروازہ کھول دیا۔ تاہم ستمبر 1945 سے مارچ 1946 تک برطانیہ ایک سرویئر تھا۔

اس دوران انڈیا پر برطانیہ کی حکومت تھی اور اس نے ابھی تک آزادی حاصل نہیں کی تھی۔

لہٰذا سورابایا میں قیام امن کے لیے انگریزوں نے وہاں پنجاب، مدراس، مہاراشٹر اور دیگر علاقوں سے بھرتی ہونے والے ہزاروں فوجیوں کو تعینات کیا تھا۔

محقق وقار مصطفی کے مطابق اے جی خان نے 12 مئی 2012 کے ایک مضمون ’ہندوستانی مسلمان فوجی: انڈونیشیا کی آزادی میں بہادرانہ کردار‘ میں لکھا ہے کہ ’مسلم فوجیوں کے تین بریگیڈ ڈچ کے زیر قبضہ جاوا جزیرے پر اترے۔ بریگیڈ 1 جکارتہ، بریگیڈ 38 سیمارنگ اور بریگیڈ 49 سورابایا میں اترا۔‘

’بریگیڈ 1 کے ڈویژن 32 کی کمانڈ عبدالمتین اور غلام علی نے کی۔ ان کا پہلا کام تمام جاپانیوں کو غیر مسلح کرنا اور قیدی بنانا اور مقامی باشندوں سے ہتھیار ضبط کرنا تھا۔‘

’اپنی کارروائیوں کے دوران میں انھوں نے محسوس کیا کہ انھیں جاپانیوں سے لڑنے کے لیے نہیں بلکہ انڈونیشیا کے باشندوں کو دبانے کے لیے تعینات کیا گیا تھا جو ڈچ غلامی سے آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔‘

600مسلمان فوجی برطانوی افواج سے منحرف ہو کر اپنے ہتھیاروں اور گولا بارود کے ساتھ آزادی پسندوں کے انڈونیشیا کے مزاحمتی گروپ میں شامل ہو گئے۔

پروفیسر پیٹر کیری کے مطابق ’پانچویں انڈین ڈویژن میجر جنرل رابرٹ مانسرگ کی قیادت میں سورابایا میں اتری۔ انڈین ڈویژن میں 6000 فوجی تھے جنھیں فضائیہ اور بحریہ کی مدد فراہم کی گئی تھی۔

لیکن برطانوی فوج کو اندازہ نہیں تھا کہ تقریباً 600 انڈین فوجی برطانوی کمانڈ کے خلاف بغاوت کر کے انڈونیشیا کے آزادی پسندوں کے ساتھ مل کر ڈچ-برطانوی فوج کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے۔

’پانچ ویںڈویژن کو مانسرگ کی طرف سے آزادی کے لیے لڑنے والے انڈونیشین جنگجوؤں کے خلاف محاذ کھولنے کے احکامات موصول ہوئے۔‘

وہ کہتے ہیں: ’انڈین فوجیوں نے کہا - جب ہم خود برطانیہ سے اپنی آزادی چاہتے ہیں تو پھر ہم برطانیہ کے لیے کیوں فائر کریں؟‘

سورابایا کی جنگ میں ہلاک ہونے والے ہیروز کی یاد میں قومی یادگار

،تصویر کا ذریعہSANYOG SRIVASTAVA JI

،تصویر کا کیپشنسنیوگ سریواستو اور ان کی اہلیہ سورابایا کی جنگ میں ہلاک ہونے والے ہیروز کی یاد میں قومی یادگار کے سامنے کھڑے ہیں

مشترکہ ثقافت اور قوم پرستی کا احساس

قوم پرستی کے احساس کے علاوہ انڈین فوجیوں اور انڈونیشیا کے آزادی پسندوں کے درمیان اچانک اتحاد کے احساس کی ایک وجہ ان کا مشترکہ عقیدہ تھا۔

جنگ کے دوران انڈونیشیا کے جنگجوؤں اور شہریوں کی جانب سے 'اللہ اکبر' کے نعروں نے انھیں یہ محسوس کرایا کہ وہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف کھڑے ہیں۔

ظہیر خان کی کتاب 'ان دی رول آف پاکستان ڈونگ دی انڈونیشیا اسٹرگل' میں بتایا گیا ہے کہ بریگیڈ ون کے 32ویں ڈویژن کے کمانڈر غلام علی اور دیگر مسلمان فوجیوں نے انڈونیشین شہریوں میں چاول، چینی، نمک اور دیگر سامان تقسیم کیا۔

چونکہ انڈونیشیا کے لوگوں کے پاس کافی خوراک نہیں تھی اور وہ سنگین طبی مسائل کا سامنا کر رہے تھے اس لیے اس مدد کو بہت سراہا گیا۔

دراصل، غلام رسول اور سات دیگر فوجیوں نے ایک خفیہ میٹنگ کی اور جمہوریہ انڈونیشیا کی فوج کے سلیوانگی ڈویژن کے کمانڈر سے رابطہ کیا۔

اس کا کوڈ 'السلام علیکم' تھا۔ پروفیسر کیری کا کہنا ہے کہ اس بھائی چارے کا تعلق مذہب سے زیادہ قومیت کے احساس سے تھا۔

وہ کہتے ہیں: ’صرف مذہبی عنصر نہیں تھا۔ بلکہ، قومیت کا عنصر کہیں زیادہ تھا، جس نے نوآبادیاتی مخالف جذبات کو گہرا کیا۔‘

اس جنگ میں بہت سے لوگ مارے گئے۔ اس جنگ میں 27 ہزار لوگ مارے گئے اور ڈیڑھ لاکھ لوگ بے گھر ہوئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔

جنگ کے اختتام پر 600 میں سے صرف 75 انڈین فوجی بچے رہ گئے تھے۔

پروفیسر کیری کے مطابق ’یہ ایک بہت ہی شدید لڑائی تھی جس میں 800 برطانوی فوجی مارے گئے تھے۔‘

سورابایا کی جنگ کے دوران برطانوی فوج کے قبضے میں لیے گئے ٹینک کی حفاظت کرتے ہوئے ایک انڈین سپاہی

،تصویر کا ذریعہIWM SE 5866

،تصویر کا کیپشنسورابایا کی جنگ کے دوران برطانوی فوج کے قبضے میں لیے گئے ٹینک کی حفاظت کرتے ہوئے ایک انڈین سپاہی

’ہم ڈچ کے لیے کیوں مریں؟‘

برطانوی فوج میں ایک کیپٹن پی آر ایس مانی نے اپنی کتاب 'دی اسٹوری آف انڈونیشین ریولوشن 1945-1950' میں یاد کیا کہ ایک راجپوت سپاہی نے اسے اپنی موت سے پہلے اپنے دل کی بات کہی تھی۔

مانی بعد میں فری پریس جرنل ممبئی کے کل وقتی نامہ نگار بن گئے۔

پی آر ایس مانی لکھتے ہیں: ’وہ لیٹا تھا۔ اسے انڈونیشیائی فوجی نے سینے میں گولی ماری تھی۔ وہ مرنے ہی والا تھا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ جناب! ہم ڈچ کے لیے کیوں مریں؟‘ (صفحہ 107، 1989)

اپنی یادداشتوں (صفحات 92-108) میں وہ لکھتے ہیں کہ بغاوت میں آزادی پسندوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر لڑنے والے انڈین فوجیوں کو انڈونیشیائی قوم پرست بہت عزت دیتے تھے۔

پی آر ایس مانی نے بعد میں لکھا کہ انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کی طرف سے عوامی دباؤ تھا اور برطانوی فوج سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ انڈونیشیا سے انڈین فوجیوں کو نکال کر گھر بھیج دیں۔

ان کی اپیل بالآخر قبول کر لی گئی جب 20 نومبر 1945 کو برطانوی فوج نے ہتھیار ڈال دیے۔ آہستہ آہستہ انڈین فوجیوں کو انڈیا واپس بھیج دیا گیا، جہاں انھیں ایک اور جنگ لڑنی پڑی اور اس بار انھیں اپنی آزادی کی جنگ خود جیتنی تھی۔

محقق وقار مصطفی کے مطابق اے جی خان نے 12 مئی 2012 کے مضمون 'ہندوستانی مسلمان فوجی: انڈونیشیا کی آزادی میں بہادرانہ کردار' میں لکھا گیا ہے کہ ’جب انڈونیشیا نے 1945 میں اپنی آزادی حاصل کی، تب تک یہ فوجی 600 سے کم ہو کر صرف 75 رہ گئے تھے۔‘

’مشن ختم ہونے پر بہت سے زندہ بچ جانے والے فوجیوں نے انڈونیشیا ہی میں رہنے کو ترجیح دی۔ انھیں ٹینتارہ کیمانان راکیات، بدان کیمانان راکیات نامی یونٹوں میں ضم کر دیا گیا۔ میجر احمد حسین کو لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے کے ساتھ رجمنٹ 3 کا کمانڈر بنادیا گیا۔‘

’ان میں سے کچھ نے مقامی طور پر شادی کی اور جنھوں نے اپنے وطن (ہندوستان/پاکستان) واپس جانے کا انتخاب کیا ان کو انڈونیشیا کے سفارت خانوں نے بطور سیکورٹی افسر جذب کر لیا۔‘

’ان ہندوستانی فوجیوں کی جنگ آزادی میں نمایاں شراکت کے اعتراف میں انڈونیشیا کی حکومت نے انہیں ملک کے اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ ایک بعد از مرگ ایوارڈ تھا۔ غلام علی کوصدارتی حکم کے تحت یانوتم ایوارڈ (1963) دیا گیا۔‘

نائک میر خان، گلمر بانی، محمد یعقوب، عمر دین، غلام رسول، غلام علی، میجر عبدالستار، محمد صدیق، محمد خان، فضل، سنجہ فضل دین اور ضیا الحق سورابایا کی جنگ میں شامل کچھ مشہور سپاہی ہیں۔

ضیا الحق نے برطانوی فوج میں ہوتے ہوئے دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا اور وہ برما، مالایا اور انڈونیشیا میں تعینات رہے۔ تقسیم ہند سے قبل وہ رائل انڈین ملٹری اکیڈمی سے گریجویٹ ہونے والے فوجی افسروں کے آخری گروہ میں شامل تھے۔

جنرل ضیا الحق بعد میں پاکستان کے چھٹے صدر بنے۔

جمہوریہ انڈونیشیا کے پہلے صدر سوکارنو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجمہوریہ انڈونیشیا کے پہلے صدر سوکارنو نے 17 اگست 1945 کو ملک کی آزادی کا اعلان کیا

محقق وقار مصطفی کے مطابق اے جی خان نے 12 مئی 2012 کے مضمون 'ہندوستانی مسلمان فوجی: انڈونیشیا کی آزادی میں بہادرانہ کردار' میں لکھا گیا ہے کہ ’ایک خاص موقع پر، ضیا الحق (مزاحمتی رہنما اور بعد میں انڈونیشیا کے صدر) سوکارنو کو بچانے کے لیے پہنچ گئے جو نیدرلینڈز انڈیز سول ایڈمنسٹریشن کے فوجیوں کے گھیرے میں ایک کار کے اندر پھنسے تھے۔ اگرچہ سوکارنو بال بال بچ گئے لیکن کار کو کافی نقصان پہنچا۔‘

ضیا الحق کے بیٹے محمد اعجاز الحق نے ان کی سوانح عمری ’شہیدِ اسلام جنرل محمد ضیاء الحق‘ میں اس تعیناتی پر مختصر طورپر یہی لکھا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران ضیاء نے برما، ملایا[ملائشیا] اور جاوا [انڈونیشیا] کے محاذوں پر دادِ شجاعت دی۔‘

اسی کتاب میں ضیاء کے ایک قریبی ساتھی جنرل خالد محمود عارف کا ایک مضمون ’ضیاء الحق بحیثیت سپاہی‘ شامل ہے۔ ان کے مطابق ضیاء کو 12 مئی 1945 کو کمیشن ملا اور سیکنڈ لیفٹیننٹ ضیا کو برما کے محاذ پر 13 لانسرز میں تعینات کیا گیا۔

انڈیا اور انڈونیشیا کے تعلقات پر اس جنگ کا اثر

سورابایا میں انڈین ایسوسی ایشن (آئی اے ایس) کے صدر منوجیت داس کا خیال ہے کہ انڈینز کو تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے اور دونوں ممالک اور لوگوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط ہونا چاہیے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’دوسری چیزوں کے علاوہ انڈیا اور انڈونیشیا کے درمیان ایک خاص حد تک ثقافتی یکسانیت ہے۔ ثقافت تقریباً ایک جیسی ہے اور یہ دونوں ممالک دنیا کے سب سے زیادہ گنجان آباد ممالک میں شامل ہیں۔‘

سورابایا میں رہنے والے 55 انڈین خاندانوں کے 180 افراد اس ایسوسی ایشن کے رکن ہیں۔

ان میں زیادہ تر ایسے لوگ ہیں جو انڈیا سے ہجرت کر کے آئے ہیں لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو تین یا چار نسلوں سے انڈونیشیا میں مقیم ہیں۔

منوجیت داس کا دعویٰ ہے کہ پانچویں ڈویژن اور دیگر برٹش انڈین ڈویژنز کے خاندان سورابایا چھوڑ کر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک چلے گئے یا اپنے ملکوں کو لوٹ گئے ہیں۔

ان کی خواہش ہے کہ لوگوں کو انڈونیشیا میں تعینات انڈین فوجیوں اور آزادی کی جدوجہد میں دونوں ممالک کی ایک دوسرے کی مدد کے بارے میں لوگوں کو معلومات ہونی چاہیے۔

وہ کہتے ہیں، ’یہ کہانی عام لوگوں تک پہنچنی چاہیے۔ تب لوگوں کو معلوم ہوگا اور ان میں دلچسپی پیدا ہوگی کہ اس دور میں آخر کیا ہوا تھا۔‘

1947 میں جب انڈیا کو خوراک کی کمی کا سامنا تھا، انڈونیشیا نے 10,000 ٹن چاول انڈیا کو برآمد کیے تاکہ مغربی بنگال کو قحط سے نکالا جا سکے۔

پروفیسر پیٹر کیری کہتے ہیں ’انڈیا، انڈونیشیا کے دوست کی طرح تھا اور آزادی کے بعد اسے تسلیم کرنے والے پہلے ممالک میں سے ایک تھا۔ بھارت اس کا اتحادی اور دوست تھا۔‘

جواہر لال نہرو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جب نہرو نے خط میں انڈونیشیا کی تعریف کی

ایک قابل ذکر مثال ایشیا-افریقہ کانفرنس کے دوران نہرو اور سوکارنو کے درمیان تعاون تھا، جس کی میزبانی انڈونیشیا نے بنڈونگ میں کی تھی۔

پروفیسر کیری کے مطابق ’نہرو نے ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن کو خط میں لکھا کہ 'میں انڈونیشیا کی میزبانی سے بہت متاثر ہوا۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہم بھی اسے اتنے اچھے طریقے سے نہیں کر سکتے تھے۔‘

سنیوگ سریواستو سنہ 2012 سے 2014 کے درمیان سورابایا میں انڈین ایسوسی ایشن کے صدر تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایسوسی ایشن اُس وقت سے موجود ہے جب انڈونیشیا ابھی تک آزاد بھی نہیں تھا۔

پی آر ایس مانی کے مطابق جب جنرل اے ڈبلیو ایس مالابی کو گولی لگی تو سورابایا میں انڈین ایسوسی ایشن کے اس وقت کے صدر کندن ان کے بہت قریب تھے انھیں معمولی چوٹیں بھی آئیں۔

سنیوگ سریواستو محسوس کرتے ہیں کہ انڈین تارکین وطن کمیونٹی مقامی لوگوں کے تئیں احترام اور ذمہ داری کا احساس رکھتی ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’ہم سب جو انڈیا سے دور دوسرے ممالک میں رہ رہے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ اُس ملک کے لیے ہمارا تعاون بہت اہم ہے۔ اور یہ بالآخر ہمارے اپنے ملک میں حصہ ڈالنے میں مدد دیتا ہے۔‘

’خاص طور پر انڈونیشیا میں رہتے ہوئے کبھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ ہم انڈیا سے دور ہیں۔ ثقافتی طور پر ہم بہت قریب ہیں۔ ہمارے خیالات، ہماری سوچ، اپنے بزرگوں کا احترام اور اگلی نسل کو آگے لے جانے کی خواہش یہ سب ایک جیسے ہیں۔‘

وہ امید کرتے ہیں کہ انڈین تارکین وطن انڈونیشیا میں انڈین فوجیوں کی کہانی سے سیکھیں گے اور اس معاشرے میں جہاں وہ رہتے ہیں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے پر عزم ہوں گے۔

سنیوگ سریواستو کہتے ہیں ’یہ آپ کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ آپ جس ملک میں رہتے ہیں اس کی سرحد اور زمین کی حفاظت کریں اور اس کی مدد کریں۔ اس ملک اور اس میں رہنے والے لوگوں کی ترقی میں مدد کرکے آپ اپنے ملک کی بھی مدد کرتے ہیں۔'