پاکستان میں آزاد ہند فوج کے ’آخری سپاہی‘ احسان قادر کی داستان

،تصویر کا ذریعہCOURTESY "TAREEKH KA AIK GUMSHUDA WARQ"
- مصنف, عقیل عباس جعفری
- عہدہ, محقق و مؤرخ، کراچی
وہ پاکستان میں ادارہ شہری دفاع کے کمانڈنٹ تھے۔ اخبارات کے مطالعے میں غرق رہتے اور خبروں کے تراشے جمع کرتے۔ جلد ہی انھوں نے سیاسی تقریریں شروع کر دیں اور صدر مملکت فیلڈ مارشل ایوب خان کو اپنی تنقید کا نشانہ بنانے لگے۔
اُن کے افسران بالا نے اُن کی رپورٹ تیار کر کے صدر مملکت تک پہنچائی تو فوجی آمر نے کسی کارروائی کا حکم دینے کی بجائے فائل پر صرف اتنا لکھا: ’اُنھیں بولنے دو، کسی کارروائی کی ضرورت نہیں۔‘
ادارہ شہری دفاع کے اس کمانڈنٹ کا نام احسان قادر تھا۔
احسان قادر کون تھے؟ اس کے لیے ہمیں ماضی میں جانا پڑے گا۔ وہ سر شیخ عبدالقادر کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ وہی سر شیخ عبدالقادر جنھوں نے سنہ 1901 میں اُردو کا مشہور ادبی جریدہ ’مخزن‘ جاری کیا تھا۔
دنیائے ادب میں ’مخزن‘ کو یہ اختصاص حاصل ہوا کہ علامہ محمد اقبال کی بیشتر نظمیں پہلی مرتبہ ’مخزن‘ ہی میں شائع ہوئی تھیں۔ علامہ اقبال سے سرشیخ عبدالقادر کے روابط کا حال یہ تھا کہ ان کے پہلے اردو مجموعہ کلام ’بانگ درا‘ کا دیباچہ انھوں نے ہی لکھا تھا۔
سر شیخ عبدالقادر کے بیٹوں میں احسان قادر، منظور قادر اور الطاف قادر معروف ہوئے۔
احسان قادر 12 ستمبر 1912 کو پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ ہو جانے کے باوجود فوج میں شمولیت کو ترجیح دی اور سنہ 1934 میں انڈین آرمی میں شامل ہو گئے۔ سنہ 1939 میں جب دوسری عالمی جنگ کا آغاز ہوا تو احسان قادر کو ملایا بھیج دیا گیا۔
امداد صابری نے لکھا ہے کہ سنہ 1939 سے سنہ 1941 کے دوران احسان قادر انگریز فوج کی طرف سے سنگاپور میں ہی خدمات انجام دیتے رہے اور اس دوران اُن کی اہلیہ بھی اُن کے ساتھ تھیں۔ اُن کی سب سے چھوٹی بیٹی پروین قادر کی پیدائش بھی سنگاپور میں ہوئی اور جب جاپان نے سنگاپور میں حملہ کیا تو اُن کی اہلیہ اپنی بچیوں کے ساتھ ہندوستان واپس آگئیں مگر احسان قادر ’غائب‘ ہو گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
احمد سلیم نے اپنی کتاب 'تاریخ کا ایک گمشدہ ورق' میں لکھا ہے کہ ’احسان قادر کے اچانک غائب ہونے کا دورانیہ واضح نہیں۔ قیاس ہے کہ وہ سنہ 1941 کے اواخر سے 1942 کے ابتدائی چند ماہ تک روپوشی میں رہے ہوں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہCOURTESY "TAREEKH KA AIK GUMSHUDA WARQ"
احمد سلیم امداد صابری کے حوالے سے احسان قادر کے منظرِ عام پر آنے کے بعد پہلی سرگرمی کی تاریخ تین فروری 1942 کو قرار دیتے ہیں، جب انھوں (احسان قادر) نے سائیگاوں میں جنرل موہن سنگھ کے قائم کردہ آزاد ہند ریڈیو کو چلانے کا کام سرانجام دیا تھا۔
وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’وہ ریڈیو سے ہندوستانی فوجیوں کے پیغامات نشر کرتے تھے جنھیں لاکھوں ہندوستانی بڑے شوق سے سُنتے تھے۔ برطانوی ہند کی سرکار اس نشریات کو روکنے سے قاصر تھی البتہ اس نے ان پروگراموں کو سننا ممنوع قرار دے دیا تھا۔ اس پابندی کے باوجود اس ریڈیو کی نشریات روز بروز مقبول ہوتی گئی۔ یہ پہلی آزاد ہند فوج کا دور تھا۔‘
’پہلی آزاد ہند فوج کے رہنما جنرل موہن سنگھ تھے جو پنجاب رجمنٹ کی ایک کمپنی کے کمانڈر کی حیثیت سے جاپانی فوج کے نرغے میں آ گئے تھے۔ انھوں نے جاپانیوں کے ہاتھوں مرنے کی بجائے فیصلہ کیا کہ کیوں نہ جاپانیوں کی مدد سے ہندوستان میں انگریز حکومت کے خاتمے کی جدوجہد کی جائے۔‘
’جاپانیوں نے انھیں اپنی امداد کا یقین دلایا۔ جنرل موہن سنگھ نے پندرہ ہزار ہندوستانی جنگی قیدی جاپان کے حوالے کیے جنھیں وہ ہندوستان کی انگریزی حکومت کے خلاف لڑنے پر آمادہ کر چکے تھے۔ جاپان نے ان جنگی قیدیوں کا سربراہ جنرل موہن سنگھ کو بنایا۔ مگر جلد ہی جنرل موہن سنگھ جاپانیوں کے بعض اقدامات سے بھانپ گئے کہ جاپان انھیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال تو کر رہا ہے مگر ان پر اعتماد نہیں کر رہا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنرل موہن سنگھ نے اس پہلی آزاد ہند فوج کو توڑنے کا فیصلہ کیا۔ جاپانیوں نے جنرل موہن سنگھ کو گرفتار کر کے سماٹرا میں نظر بند کر دیا۔ ان کی گرفتاری کے ساتھ ان کی قائم کردہ آزاد ہند فوج ٹوٹ گئی اور اس فوج سے متعلقہ تمام دستاویزات نذر آتش کر دی گئیں۔
احسان قادر اور دوسرے افسران اس صورتحال کا مشاہدہ کرتے رہے۔ جاپانیوں کے ساتھ کشمکش کے اس دور میں انھوں نے آزاد ہند فوج کو منتشر ہونے نہیں دیا بلکہ اس کی دوبارہ تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
اُن کے ساتھیوں میں کرنل بھونسلے، کرنل کیانی، لوک ناتھن اور راش بہاری بوس شامل تھے۔ 13 جون 1943 کو سبھاش چندر بوس جرمنی سے ایک آبدوز کے ذریعے ٹوکیو پہنچ گئے، جن کا استقبال کرنے والوں میں جاپانی وزیراعظم بھی شامل تھے۔ راش بہاری بوس نے سبھاش چندر بوس کو آزاد ہند فوج کی باگ ڈور سنبھالنے پر آمادہ کیا، یوں دوسری آزاد ہند فوج وجود میں آ گئی۔
یہ بھی پڑھیے
سبھاش چندر بوس کی قیادت سنبھالنے سے آزاد ہند فوج کو نہ صرف استحکام حاصل ہوگیا بلکہ 21 اکتوبر 1943 کو آزاد حکومت ہند کے قیام کا اعلان بھی کر دیا گیا جسے جاپان، برما اور جرمنی سمیت نو ممالک نے تسلیم کر لیا۔
دو روز بعد آزاد حکومت ہند نے برطانیہ اور امریکہ کے خلاف اعلان جنگ کر دیا جس کے بعد اس کا ہیڈ کوارٹر رنگون منتقل کر دیا گیا جہاں سے ہندوستان کی سرحد پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی گئی۔
تاریخی حوالوں کے مطابق چار فروری 1944 کو آزاد ہند فوج نے برما کی سرحد سے ہندوستان پر حملہ کر دیا جہاں 18 مارچ 1944 کو اس نے صوبہ آسام کے کئی مقامات پر قبضہ کر کے وہاں آزاد حکومت ہند کا پرچم لہرا دیا۔ مگر بدقسمتی سے یہی وہ زمانہ تھا جب بحرالکاہل میں جاپانیوں کی پسپائی کا آغاز ہوا، ان کی اس شکست نے انھیں آزاد ہند فوج کی امداد سے ہاتھ اٹھا لینے پر مجبور کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چار ماہ بعد 18 جولائی 1944ء کو آزاد ہند فوج کو بھی پسپا ہونا پڑا اور اُن کے مفتوحہ علاقوں پر دوبارہ ہندوستانی فوج کا قبضہ ہو گیا۔
13 مئی 1945 کو برما کے دارالحکومت رنگون پر انگریزوں کا قبضہ ہوگیا۔ یہی وہ شہر تھا جو آزاد ہند فوج کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ چنانچہ رنگون پر انگریزوں کا قبضہ ہوتے ہی آزاد ہند فوج کے افسروں اور سپاہیوں کو بھی ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہونا پڑا اور وہ جنگی قیدی بنا لیے گئے۔
سبھاش چندر بوس اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ رنگون سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ مگر ان کی بدقسمتی کہ 18 اگست 1945 کو جب وہ سائیگاوں سے جاپان جا رہے تھے تو راستے میں تائیوان میں تائی ہوکو کے ایئر پورٹ پر ان کا طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا اور وہ اس حادثے میں ہلاک ہو گئے۔
آزاد ہند فوج کے افسران اور سپاہیوں کو جنگی قیدی بنا کر ہندوستان لایا گیا جہاں پانچ نومبر 1945 کو ان پر مقدمے کا آغاز ہوا۔
منشی عبدالقدیر کی کتاب ’تاریخ آزاد ہند فوج‘ کے مطابق ’ان جنگی قیدیوں میں جنرل شاہ نواز خان، کیپٹن پی کے سہگل اور لیفٹیننٹ جی ایس ڈھلن کے نام سرفہرست تھے۔‘
یہ مقدمہ 31 دسمبر 1945 تک جاری رہا اور اس مقدمہ میں ان افسران اور سپاہیوں کو مختلف سزائیں سُنا دی گئیں۔ مگر چند ہی روز بعد عوامی احتجاج پر حکومت کو اپنا یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔
رہا ہونے والے جنگی قیدیوں میں احسان قادر بھی شامل تھے مگر قید کے دوران اُن پر کچھ ایسا مبینہ تشدد کیا گیا کہ اسن کی دماغی حالت خراب ہو گئی۔
رہائی کے بعد اُن کے اہلخانہ انھیں لاہور لے آئے جہاں ان کا علاج کیا گیا اور رفتہ رفتہ اُن کی صحت سنبھل گئی۔ 26 اپریل 1946 کو سر عبدالقادر کی رہائش گاہ پر اُن کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہCOURTESY "TAREEKH KA AIK GUMSHUDA WARQ"
احسان قادر ہندوستان کی تقسیم کے حامی نہیں تھے۔
وہ سبھاش چندر بوس کے ’سپاہی‘ تھے اور سمجھتے تھے کہ ہندوستان کو ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی اتحاد کی ضرورت ہے۔ سنہ 1947 میں ہندوستان کی تقسیم نے انھیں شدید متاثر کیا مگر انھوں نے پاکستان میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔
پاکستان کے کمانڈر انچیف نے انھیں پیغام بھیجا کہ اگر وہ اس بات کا اقرار کر لیں کہ آزاد ہند فوج میں شمولیت اختیار کر کے انھوں نے غلطی کی تھی اور وہ اس پر معذرت خواہ ہیں تو انھیں معاف کر کے فوج میں واپس لیا جا سکتا ہے، مگر آزاد ہند فوج کے بعض دیگر مسلمان افسران کے برعکس انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
احمد سلیم لکھتے ہیں کہ ’فوج میں واپسی کا موقع گنوانے کے بعد پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے انھیں وزارت خارجہ میں آنے اور بیرون ملک تعینات ہونے کی پیشکش کی جسے انھوں نے یہ کہہ کر قبول نہ کیا کہ وہ ملک چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’احسان قادر کے بھائی منظور قادر ایک کامیاب قانون دان بن چکے تھے۔ احسان قادر نے بھی وہی راستہ اپنانے کی کوشش کی۔ قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے پریکٹس بھی شروع کر دی لیکن پاکستان کے حالات بہت بدل چکے تھے۔ قانونی پیشے کی باریکیاں اور موشگافیاں احسان قادر کو ایک بڑی سطح کا جھوٹ لگنے لگیں۔ منافقت ان کے بس کا روگ نہیں تھا اس لیے وہ قانون کے شعبے سے بھی دلبرداشتہ ہو گئے۔‘
مزید پڑھیے
’مگر اس کی ایک وجہ اور بھی تھی۔ ذہنی طور پر وہ اپنے آپ کو فوجی زندگی سے علیحدہ نہیں کر پائے تھے۔ رہائی کے بعد بھی کچھ عرصے تک انھوں نے آزاد ہند فوج کی یونیفارم کو ترک نہیں کیا تھا، نئی آزاد اسلامی مملکت کا انگریز کمانڈر انچیف انھیں معافی مانگے بغیر مسلح افواج کا حصہ بنانے پر آمادہ نہیں تھا۔ آخر کار انھیں سول ڈیفنس (محکمہ شہری دفاع) کے ٹریننگ سکول کے کمانڈنٹ کا عہدہ مل گیا۔ اس نئے کام میں کم سے کم فوج سے ملتی جلتی وردی تو تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہCOURTESY "TAREEKH KA AIK GUMSHUDA WARQ"
وہ لکھتے ہیں کہ ’شہری دفاع کا محکمہ بھی دیگر تمام محکموں کی طرح تقسیم ہند کے بعد سے مسائل سے دوچار تھا۔ اپنے مزاج کے مطابق کرنل احسان قادر نے یہاں بھی بہت محنت کی۔ محکمے کو منتظم کرنے کے لیے انھوں نے رات دن ایک کر دیا۔ اس دھن میں انھیں ایک بار پھر گھر سے نکلنا پڑا لیکن اس بار وہ اپنے ہی وطن میں تھے۔ سکول کے پرنسپل کی حیثیت سے راولپنڈی میں تعینات رہنے کے بعد انھیں کچھ عرصہ مری میں گزارنا پڑا۔ پھر یہ سکول لاہور شفٹ ہوگیا۔ بعدازاں وہ سول ڈیفنس اکیڈمی کے کمانڈنٹ مقرر ہو گئے۔‘
احمد سلیم لکھتے ہیں کہ ’اس ساری سرگرمی کے دوران کوئی چیز، کوئی جذبہ انھیں اندر ہی اندر بے چین رکھتا تھا۔ ان کے مزاج کی سنجیدگی اب ایک دبے دبے اور خاموش غصے میں بدل گئی تھی۔ انھوں نے اپنی زبان پر جیسے خاموشی کی مہر لگا لی تھی۔ یہ ہی نہیں وہ جلد ہی غصے سے پھٹ پڑتے۔ شہری دفاع انھیں شہریوں کا دفاع محسوس نہیں ہوتا تھا شاید وہ غلط جگہ پر آ گئے تھے۔‘
اسی دوران وہ واقعہ پیش آیا جس کا ذکر ہم ابتدا میں کر چکے ہیں، جب فوجی آمر ایوب خان نے ان کی فائل پر لکھا ’انھیں بولنے دو، کسی کارروائی کی ضرورت نہیں۔‘
’سنہ 1967 میں وہ اپنی ملازمت سے سبکدوش ہوگئے۔ اب ان کا زیادہ وقت گھر پر ہی گزرتا۔ آزاد ہند فوج کی دنیا دور کہیں ماضی میں کھو چکی تھی۔ رہائی کے بعد اور تقسیم سے قبل کے ڈیڑھ برس میں وہ ایک کل ہند سیاسی رہنما کے طور پر ابھرے تھے۔ لیکن تقسیم ہند کے بعد وہ خود گمنامی کے اندھیروں میں ڈوب گئے۔ ایوب خان کے خلاف ایک بے ربط اور غیر منظم جدوجہد نے انھیں اپنے اندر اور بھی تنہا کر دیا۔ ان کے بھائیوں میں جسٹس منظور قادر اور جنرل الطاف قادر اپنے اپنے شعبوں میں بہت آگے پہنچ چکے تھے، جنھیں کسی ناکامی کی خلش بھی درپیش نہیں تھی۔‘
احمد سلیم مزید لکھتے ہیں کہ ’کرنل احسان قادر کی تنہائی اور فرسٹریشن خود ساختہ نہیں تھی۔ وہ ایک سچے اور حقیقی مجاہد تھے، انھوں نے ایک ہیرو کی زندگی گزاری تھی، نیک نامی کمائی تھی، ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ غلط حالات کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کر سکتے تھے۔‘
’احسان قادر کو بیوی اور بچیوں کی طرف سے سکھ ہی سکھ تھا۔ ان کی بڑی صاحبزادی انگلینڈ میں تھیں، ملازمت سے سبکدوشی کے بعد انھیں دل کا عارضہ لاحق ہو گیا، وہ تشخیص اور علاج کے لیے اپنی بڑی بیٹی کے پاس انگلینڈ گئے، کچھ عرصے کے بعد وہ وطن واپس آگئے اور 23 دسمبر 1969 کو حرکت قلب بند ہو جانے سے ان کی وفات ہو گئی۔‘
احسان قادر کی چھوٹی صاحبزادی پروین قادر آغا نے سول سروس میں خدمات انجام دیں اور وفاقی سیکریٹری کے عہدے سے سبکدوش ہوئیں۔ یہ وہی پروین قادر آغا ہیں جن کے نام پروین شاکر نے اپنا ایک مجموعہ کلام بھی منسوب کیا ہے۔ پروین شاکر کی وفات کے بعد ان ہی پروین قادر آغا نے پروین شاکر ٹرسٹ قائم کیا اور پروین شاکر کے کاموں اور وراثت کی حفاظت کی۔










