مودی کی والدہ جنھیں معلوم تھا کہ ایک دن ان کا بیٹا انڈیا کا وزیر اعظم بنے گا

    • مصنف, اقبال احمد
    • عہدہ, نامہ نگار، بی بی سی

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کی والدہ ہیرا بین 100 سال کی عمر میں چلی بسی ہیں۔ ہیرا بین کو بدھ کے روز احمد آباد کے یو این مہتا ہسپتال میں ان کی طبیعت خراب ہونے پر داخل کرایا گیا تھا۔

وزیر اعظم مودی نے اپنی والدہ کی موت پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایک شاندار صدی کا اختتام ہو گیا ہے۔ ’میں نے ماں کو ہمیشہ ایک تریمورتی کے روپ میں دیکھا، جن میں ایک سنیاسی کا سفر، بے لوث کرمایوگی کی علامت اور اقدار سے وابستہ پرعزم زندگی شامل ہے۔

وزیر اعظم مودی نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ ’جب میں ان کی 100ویں سالگرہ پر ان سے ملا تو انھوں نے ایک بات کہی تھی، جو ہمیشہ یاد رکھو گا کہ دانشمندی سے کام لو اور پاکیزہ زندگی گزارو۔‘

ہیرا بین کی پیشگوئی

اسے ماں کی دعا کا اثر کہا جائے، علم غیب کا یا نریندر مودی کی محنت یا ان تینوں وجوہات کا اثر، مودی کی والدہ ہیرا بین نے سال 2002 میں ہی کہا تھا کہ ایک دن نریندر مودی انڈیا کے وزیر اعظم بنیں گے۔

گجرات کے سینیئر صحافی بھارگو پاریکھ نے ہیرا بین کا تین بار انٹرویو کیا ہے۔ شاید وہ واحد صحافی ہوں گے یا وہ ان چند صحافیوں میں شامل ہوں گے جنھیں ہیرا بین کا انٹرویو کرنے کا موقع ملا تھا۔

بھارگو پاریکھ نے 2002، 2012 اور 2014 میں ہیرا بین کا انٹرویو کیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ 2002 میں جب مودی اسمبلی الیکشن لڑ رہے تھے، اس دوران انھیں ہیرا بین سے بات کرنے کا موقع ملا۔

ہیرا بین نے اس انٹرویو میں کہا تھا کہ ایک دن وہ (مودی) وزیراعظم بنیں گے۔

گجرات کے ایک اور صحافی دیواسی براد بھی بھارگو پاریکھ کی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ انھوں نے بھی 2007 میں ہیرا بین کا انٹرویو کیا تھا۔

دیواسی براد کا کہنا ہے کہ ہیرا بین نے انھیں بتایا تھا کہ ان کا خواب ہے کہ نریندر مودی وزیر اعظم بنیں۔

ہیرا بین نے انھیں ایک قصہ سنایا تھا کہ جب نریندر مودی بہت چھوٹے تھے تو ان کے گھر ایک راہب آیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ نریندر مودی ایک غیر معمولی انسان بن جائیں گے۔ وہ گھر چھوڑ کر سنیاسی بن جائے گا، لیکن سیاست میں واپس آئے گا اور ملک اور بیرون ملک شہرت پائے گا۔

پیدائش اور ابتدائی زندگی

وزیر اعظم نریندر مودی کی والدہ ہیرا بین 18 جون 1923 کو گجرات کے مہسانہ ضلع کے وس نگر میں پیدا ہوئیں۔ یہ گاؤں وڈ نگر کے قریب ہے۔ وڈ نگر وزیر اعظم نریندر مودی کا آبائی شہر ہے۔

لوگ ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔ نریندر مودی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد چند لوگوں کو ان کے بارے میں معلوم ہوا اور مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد گجرات سے باہر کے لوگوں کو ان کے بارے میں پتا چلا تھا۔

ہیرا بین مکمل طور پر نجی زندگی گزارنے والی اور اقتدار کی چکاچوند سے دور رہنے والی شخصیت تھیں۔

خود نریندر مودی کے ایک بلاگ سے ان کے بارے میں کافی معلومات دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ نریندر مودی کے بارے میں لکھی گئی کچھ کتابیں ہیں جن سے ہمیں ان کی والدہ ہیرا بین کے بارے میں کچھ معلومات ملتی ہیں۔

مودی نے جون 2022 میں اپنی سالگرہ کے موقع پر ایک بلاگ لکھا تھا۔

اس بلاگ میں مودی نے لکھا ہے کہ ان کی ماں نے سکول کا دروازہ نہیں دیکھا یعنی وہ ان پڑھ تھیں، انھوں نے صرف گھر میں غربت دیکھی۔ ہیرا بین کی والدہ کی موت ان کے بچپن میں ہی ہوگئی تھی۔ اس لیے وہ اپنی ماں کی محبت حاصل نہ کر سکیں۔

اس زمانے کے مطابق ان کی شادی کم سنی میں دامودر داس مودی سے کر دی گئی تھی۔ دمودر داس کیا کام کرتے تھے یا ان کی روزی روٹی کا ذریعہ کیا تھا اس بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔

جبکہ نریندر مودی نے خود بتایا تھا کہ ان کے والد ریلوے سٹیشن پر چائے بیچتے تھے اور مودی خود بچپن میں ان کی مدد کیا کرتے تھے۔

شادی کے بعد نریندر مودی کے والدین وڈ نگر میں آباد ہو گئے۔ دامودر داس اور ہیرا بین کے کل چھ بچے تھے، جن میں پانچ بیٹے (سوما مودی، امرت مودی، نریندر مودی، پرہلاد مودی، پنکج مودی) اور ایک بیٹی وسنتی مودی شامل ہیں۔ نریندر مودی ان کے تیسرے بیٹے ہیں۔

وڈ نگر کا گھر بہت چھوٹا تھا اور انھوں نے اپنے چھ بچوں کی پرورش اسی گھر میں کی تھی۔

ماں کی زندگی کی جدوجہد

اپنی والدہ کی زندگی کی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے انڈین وزیر اعظم مودی لکھتے ہیں کہ ’گھر چلانے کے لیے دو چار پیسے زیادہ کمانے کے لیے، ماں دوسروں کے گھر کے برتن دھوتی تھی۔ روئی چننے کا کام، روئی سے دھاگے بنانے کا کام کرتی تھی۔ مجھے ڈر رہتا تھا کہ کہیں روئی کے کانٹے انھیں چبھ نہ جائے۔‘

اپنی ماں کے طرز زندگی کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے لکھا ہے کہ ان کی ماں شروع سے ہی صفائی کو اہمیت دیتی رہی ہیں۔ گھر کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے وہ خود رنگ و روغن کرتی تھی، گھر کی دیواروں پر مختلف اشکال میں شیشے کے ٹکڑے چسپاں کرتی تھیں۔

مودی اسی بلاگ میں لکھتے ہیں کہ ’وہ ہر کام میں کمال کی مہارت رکھتی تھی اور اس عمر میں بھی ایسا ہی ہے۔ اور اب گاندھی نگر میں میرے بھائی کا خاندان ہے، میرے بھتیجے کا خاندان، وہ آج بھی اپنی پوری کوشش کرتی ہے کہ اپنا کام خود کریں۔‘

نریندر مودی کے والد کا انتقال 1989 میں ہوا تھا۔ تب ہیرا بین نے وڈ نگر کا گھر چھوڑ دیا اور اپنے چھوٹے بیٹے پنکج مودی کے ساتھ گاندھی نگر کے مضافات میں رائسان گاؤں میں رہنے لگی۔ پنکج مودی حکومت گجرات کے محکمہ اطلاعات میں کام کرتے تھے اور انھیں ایک سرکاری مکان ملا تھا۔

مودی اور ماں کا رشتہ

مودی نے جون میں لکھے گئے اپنے بلاگ میں اپنی ماں کی زندگی کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ جس طرح ایک ماں دودھ پلانے کے بعد اپنے بچے کا منھ پونچھتی ہے، اسی طرح ان کی والدہ بھی ان کے ساتھ ایسا ہی کرتی ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ ’میں جب بھی ان سے ملنے جاتا ہوں، وہ مجھے اپنے ہاتھ سے مٹھائی کھلاتی ہے۔ آج بھی میری ماں مجھے کھانا کھلانے کے بعد رومال سے میرا چہرہ پونچھتی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے ساتھ رومال یا چھوٹا تولیہ رکھتی ہیں۔‘

نریندر مودی صرف 16، 17 سال کی عمر میں گھر سے نکلے تھے۔ صحافی دیواسی براد کہتے ہیں کہ انھوں نے ہیرا بین اور خاندان کے دیگر افراد سے ان بارے میں پوچھا تھا۔ ان کے مطابق، خاندان میں سب کا ماننا تھا کہ بچپن سے ہی مودی گھر میں لوگوں کی خدمت کو ترجیح دیتے تھے۔

فرانسیسی مصنف سونتال ڈیلوبیلے آرڈینو نے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی پر ایک کتاب لکھی ہے، ’نریندر مودی اے لائف فار انڈیا۔ اس کتاب میں وہ لکھتی ہیں کہ وڈ نگر میں 17 سال رہنے کے بعد مودی نے جشودا بین کے ساتھ دنیاوی زندگی شروع نہ کرنے اور گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کے مطابق نریندر مودی روحانیت، سادھوؤں اور سنتوں کی صحبت میں دلچسپی رکھتے تھے۔

اپنی کتاب میں ہیرا بین کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے ماں اور بیٹے کے درمیان مکالمے کا ذکر کیا ہے۔

وہ لکھتی ہیں کہ ’ماں ہمارے ہاں روایت ہے کہ بیٹی اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر شوہر کے گھر چلی جاتی ہے۔ میری الوداعی کو اس طرح دیکھو اور میں جو بھی کروں گا، ملک کے لیے کروں گا۔‘

مودی کی والدہ نے مزید کہا کہ ’وہ گھر چھوڑ کر جانے سے قبل دو دن تک میرے پاس رہے۔۔۔ میں نے اس کے ماتھے پر تلک لگایا اور کچھ پیسے دیے، وہ گھر سے چلا گیا۔۔۔ اس کے بعد کچھ مہینوں تک میں افسردہ رہی کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔‘

بھارگو پاریکھ کا کہنا ہے کہ جب نریندر مودی 2001 میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا رہے تھے تو ہیرا بین دور کونے میں بیٹھی تھیں اور بہت کم لوگ یہ جانتے تھے کہ وہ نریندر مودی کی ماں ہیں۔

بھارگو کے مطابق، 2003 میں جب ہیرا بین پہلی بار وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر آئیں تو وہاں ایک عشایئے کی تقریب تھی۔ نریندر مودی 12 سال تک گجرات کی وزیر اعلیٰ رہے اور اس دوران شاید ہی وہ ایک دو بار وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ گئیں۔

سیاست اور اقتدار کی چمک دمک سے دور

وزیر اعظم مودی نے اپنے بلاگ میں لکھا تھا کہ ’آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا، میری ماں کبھی بھی کسی سرکاری یا عوامی تقریب میں میرا ساتھ نہیں دیتی، اب تک ایسا صرف دو بار ہوا ہے جب وہ کسی عوامی تقریب میں میرے ساتھ آئی ہیں۔‘

ان دو مواقع کا تذکرہ کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’جب وہ پہلی بار سری نگر کے لال چوک پر ترنگا لہرانے کے بعد واپس آئے تھے تو احمد آباد میں منعقدہ شہری اعزاز کے پروگرام میں ان کی والدہ سٹیج پر ان کے ساتھ تھیں۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’دوسری بار عوامی سطح پر وہ میرے ساتھ اس وقت تھیں جب میں نے پہلی بار وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ 20 سال قبل تقریب حلف برداری کی تقریب میں والدہ میرے ساتھ موجود تھیں۔‘ وہ کبھی کسی پروگرام میں میرے ساتھ نہیں آئیں۔

یہ بھی پڑھیے

مودی نے اپنی ماں کو اپنے پاس کیوں نہیں رکھا؟

سال 2014 میں نریندر مودی وزیر اعظم بنے اور دہلی میں رہنے لگے۔ وہ گذشتہ آٹھ برسوں سے انڈیا کے وزیر اعظم ہیں اور اب تک صرف ایک بار عوامی سطح پر دیکھا گیا ہے کہ ان کی والدہ دہلی میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ان سے ملنے آئی تھیں۔ مودی نے خود اپنے سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر شیئر کی تھیں۔

اپوزیشن پارٹی سمیت کئی لوگ سوال پوچھتے ہیں کہ نریندر مودی اپنی ماں کو اپنے ساتھ کیوں نہیں رکھتے؟ جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تب بھی ان کی والدہ اپنے چھوٹے بیٹے پنکج مودی کے ساتھ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ سے صرف تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر رہتی تھیں۔ مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد بھی وہ اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ ہی رہتی تھیں۔

دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے اس بات کو لے کر نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

یہ جنوری 2017 کی بات ہے۔ مودی اپنی ماں سے ملنے گاندھی نگر گئے۔ مودی نے ٹویٹ کر کے بتایا کہ وہ یوگا چھوڑ کر اپنی ماں سے ملنے گئے اور ان کے ساتھ ناشتہ کیا۔

اس پر کیجریوال نے مودی پر تنقید کرتے ہوئے ٹویٹ کیا تھا کہ ’میں اپنی ماں کے ساتھ رہتا ہوں، ہر روز ان کا آشیرباد لیتا ہوں، لیکن میں شور نہیں کرتا۔ میں سیاست کے لیے اپنی ماں کو بینک کی قطار میں نہیں لگاتا۔‘

مودی پر سیاسی فائدے کا الزام

کیجریوال سمیت بہت سے لوگ مودی پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ اپنے سیاسی فائدے کے لیے اپنی والدہ کے ساتھ تصاویر یا ویڈیو استعمال کرتے رہے ہیں۔

سنہ 2017 کے اتر پردیش کے انتخابات کی مہم کے دوران مودی نے فتح پور میں ایک ریلی میں کہا تھا کہ ان کی ماں زندگی بھر چولہے میں لکڑیاں جلا کر کھانا پکاتی تھیں۔ اس نے ان کا درد دیکھا اور محسوس کیا۔

اس پر کیجریوال نے طنزیہ ٹویٹ کیا تھا کہ مودی اپنی ماں کو اپنے پاس کیوں نہیں رکھتے۔

کیجریوال نے ملک میں پرانے نوٹ بند کرنے کے موقع پر بھی پیسے نکالنے کے لیے ان کی والدہ کے بینک جانے پر بھی مودی کو نشانہ بنایا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ اگر کبھی انھیں لائن میں کھڑا ہونا پڑا تو وہ خود لائن میں کھڑے ہوں گے، لیکن اپنی ماں کو لائن میں نہیں لگائیں گے۔

مودی کا جواب

مودی کی ماں نے شاید کبھی عوامی سطح پر یہ نہیں کہا کہ وہ اپنے تیسرے بیٹے کے ساتھ کیوں نہیں رہتیں، لیکن نریندر مودی نے خود ایک بار اس کا جواب دیا تھا۔

سال 2019 میں مودی نے فلم سٹار اکشے کمار کے ساتھ بات چیت میں اس کا ذکر کیا تھا۔ وہ گفتگو مکمل طور پر غیر سیاسی تھی اور اس دوران اکشے کمار نے ان سے ان کی زندگی کے بارے میں کئی سوالات پوچھے۔ ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ وہ اپنی والدہ یا خاندان کے دیگر افراد کو اپنے ساتھ کیوں نہیں رکھتے؟

اس سوال کے جواب میں مودی نے کہا تھا کہ وہ بہت چھوٹی عمر میں گھر سے نکلے تھے کیونکہ وہ زندگی بہت مختلف تھی۔

بات چیت میں مودی نے کہا تھا کہ ’اگر میں وزیر اعظم کے طور پر گھر چھوڑتا تو میں چاہتا تھا کہ سب ایک ساتھ رہیں لیکن میں نے بہت چھوٹی عمر میں ہی گھر چھوڑ دیا تھا اور اس لیے میری تربیت جن حالات میں ہوئی اس وجہ سے خاندان سے لگاؤ وغیرہ سب ختم ہو گیا۔‘

’میری ماں کہتی ہے کہ میں تمہارے گھر رہ کر کیا کروں گی، تم سے کیا بات کروں گی۔‘