ٹرینڈی اراگوا: وینزویلا کا خطرناک گینگ جس سے ’امریکہ کو بھی خطرہ ہے‘

    • مصنف, لیزہ لمبرٹ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے وینزویلا کے 200 سے زائد شہریوں کو خطرناک گینگ ٹرین ڈی اراگوا کا رکن ہونے کے الزام میں ایل سلواڈور کی سپر میکس نامی جیل میں بھیج دیا ہے۔

تاہم اس کیس میں ایک امریکی جج نے وینزویلا کے شہریوں کی ملک بدری روکنے کے احکامات جاری کیے تھے تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم نامہ جاری ہونے سے پہلے ہی ملزمان کو ملک بدر کر دیا گیا تھا۔

اس حوالے سے ال سلواڈور کے صدر نائب بوکیل نے بھی سوشل میڈیا پر لکھا کہ وینزویلا کے گینگ ٹرین ڈی آراگوا کے 238 ارکان اتوار کی صبح وسطی امریکی ملک پہنچے ان کے ساتھ بین الاقوامی گینگ ایم ایس -13کے 23 ارکان بھی تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کو وینزویلا کے گینگ ٹرین ڈی اراگوا پر ’امریکہ کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کا ارتکاب کرنے، کوشش کرنے اور دھمکی دینے‘ کا الزام لگایا تھا۔

یہ گینگ وینزویلا کے خطرناک ترین گینگ میں سے ایک ہے۔ اس کی ملک میں دہشت اور گرفت کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ ستمبر 2023 میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے اپنے ملک کی شمالی ریاست ’آراگوا‘ میں واقع بدنام جیل ’ٹوکورون‘ پر دھاوا بولنے کے لیے 11 ہزار فوجیوں کو روانہ کیا تھا۔ اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں کو وہاں بھیجنے کا مقصد جیل میں قیدیوں کی جانب سے برپا کیے جانے والے کسی ممکنہ فساد کو روکنا نہیں تھا۔

بلکہ ان 11 ہزار فوجیوں کو محض ایک ہی ٹاسک دیا گیا تھا یعنی ایک طاقتور جرائم پیشہ گروہ کے مقید افراد سے اس جیل کا کنٹرول واپس لینا۔ ان جرائم پیشہ افراد کے گروہ نے اس جیل کو ایک پُرتعیش مقام میں تبدیل کر دیا تھا جس میں ناصرف ایک چڑیا گھر بنایا گیا تھا بلکہ یہاں ریستوران، نائٹ کلب اور سوئمنگ پول جیسی سہولیات بھی بنائی گئی تھیں۔

مگر اس کارروائی کے دوران اس گینگ کا سرغنہ، ہیکٹر گوریرو فلورس، فرار ہونے میں کامیاب رہا تھا۔ یہ گینگ ٹرین ڈی آراگوا‘ تھا۔

اور اب یہی گینگ اور اس سے منسلک افراد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف شروع کیے گئے بڑے آپریشن کی زد میں ہے۔ غیرقانونی افراد کی ملک بدری کے اپنے وعدے کے تحت صدر ٹرمپ نے امریکی سرزمین پر قید غیر ملکی مجرموں کو امریکہ سے نکالنے کا اعلان کیا تھا۔

مگر ہم اس بدنام گینگ ’ٹرینڈی آراگوا‘ کے بارے میں کیا جانتے ہیں۔

گینگ کا آغاز کیسے ہوا؟

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ’ٹرین ڈی آراگوا‘ دراصل ابتدا میں ایک جیل گینگ تھا جسے اس گینگ کے سرغنہ، ہیکٹر گوریرو فلورس، نے وقت کے ساتھ ایک ’بین الاقوامی مجرمانہ تنظیم‘ میں تبدیل کر دیا۔

یاد رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے ہیکٹر کی گرفتاری میں کسی بھی طرح کی مدد فراہم کرنے پر 50 لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔

41 سالہ ہیکٹر گوریرو فلورس گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ’ٹوکورون‘ جیل آتے جاتے رہے ہیں۔ سنہ 2012 میں وہ ایک گارڈ کو رشوت دے کر فرار ہوئے تھے تاہم سنہ 2013 میں انھیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اور اس کے بعد جیل میں اپنے قیام کے دوران ہیکٹر نے اِسی جیل کو ایک تفریحی کمپلیکس میں تبدیل کر دیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنے گینگ کے اثر و رسوخ کو جیل کی چار دیواری سے باہر بڑھایا اور ریاست بولیوار میں سونے کی کانوں، کیریبین کے ساحل پر منشیات فروشی کے روٹس، اور وینزویلا اور کولمبیا کے درمیان دیگر خفیہ سرحدی گزرگاہوں پر اپنا تسلط جما لیا۔

’آراگوا‘ وینزویلا کی 23 ریاستوں میں سے ایک ریاست کا نام ہے اور ’ٹرین ڈی آراگوا‘ کا لفظی ترجمہ ’ٹرین آف آراگوا‘ ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ نام اسے ریلوے ورکرز یونین سے ملا ہو۔

وینزویلا کی سینٹرل یونیورسٹی کے کرمنالوجی کے پروفیسر لوئس ایزکوئل نے بی بی سی کو بتایا کہ ورکرز یونین نے ریلوے کے اُس ایک حصے کو کنٹرول کر رکھا تھا جو ریاست آراگوا سے گزرتا تھا اور یونین سے وابستہ افراد یہاں سے اپنا مال لے کر گزرنے والے ٹھیکیداروں سے بھتہ وصول کرتے تھے اور وہ کانیں جہاں سے معدنیات نکالی جاتی تھیں وہاں نوکریوں کی خرید و فروخت میں ملوث تھے۔

’ٹرین ڈی آراگوا‘ گینگ نے ہیکٹر گوریرو فلورس کی قیادت میں کولمبیا، ایکواڈور، پیرو اور چلی تک اپنے غیرقانونی آپریشنز کو پھیلایا اور تارکین وطن کی جنسی سمگلنگ، کانٹریکٹ کِلنگ اور اغوا برائے تاوان جیسے جرائم کا آغاز کیا۔

یہ گینگ کتنا بڑا ہے؟

ماہرین کے مطابق ’ٹرین ڈی آراگوا‘ نے وینزویلا سے نکل کر دیگر ممالک تک اپنا اثر و رسوح سنہ 2014 میں اُس وقت پھیلایا جب وینزویلا میں معاشی بحران سنگین ہوا۔ اور اب کہا جاتا ہے کہ یہ گینگ وینزویلا کے علاوہ آٹھ دیگر ممالک بشمول امریکہ میں بھی آپریٹ کرتا ہے۔

یہ گینگ دیگر ممالک میں مقامی جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ شراکت داری کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔

مثال کے طور پر ایکواڈور میں یہ گروہ میکسیکو کے ’سینالووا کارٹیل‘ کے ساتھ منسلک ہے جبکہ حکام کے مطابق کولمبیا میں یہ بائیں بازو کے گوریلا گروپ، نیشنل لبریشن آرمی، کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرتا ہے۔

اس گروہ پر لکھی گئی ایک کتاب کی مصنف رونا ریسکیز نے گذشتہ سال اپنی تحقیق کی بنیاد پر دعویٰ کیا تھا اس گروپ کے اندازاً پانچ ہزار کارندے ہیں اور یہ سالانہ ایک کروڑ ڈالر سے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کے درمیان منافع کماتا ہے۔

چلی میں ایک پراسکیوٹر نے ’ٹرین ڈی آراگوا‘ کو ایک ’سفاکانہ تنظیم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ گروہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے قتل اور تشدد کا عام استعمال کرتا ہے۔

تاہم یہ گروہ لاطینی امریکہ کے دیگر بڑے جرائم پیشہ گروہوں کے مقابلے میں چھوٹا اور کم دولت مند ہے۔ ٹرین ڈی آراگوا کا موازنہ اکثر ال سلواڈور کے انتہائی پرتشدد ’ایم ایس 13‘ گینگ سے کیا جاتا ہے۔

اس گروہ پر الزام ہے کہ اس کے کارندوں نے سنہ 2024 میں پولیس افسران کا بھیس بدل کر وینزویلا کے فوجی افسر رونالڈ اوجیڈا کو اغوا کیا تھا، رونالڈ کی لاش مارچ 2024 میں چلی کے علاقے سینٹیاگو سے ملی تھی۔

جو بائیڈن کے دور اقتدار میں امریکہ نے اس گروہ پر یہ کہتے ہوئے پابندی لگائی تھی کہ ٹرین ڈی آراگوا امریکہ میں سرحد پار جنسی سمگلنگ کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔

کیا امریکہ کو اس گروہ سے کوئی خطرہ ہے؟

گذشتہ سنیچر کو صدر ٹرمپ نے ’ٹرین ڈی آراگوا‘ پر امریکہ کے خلاف حملوں کے ارتکاب کا الزام عائد کرتے ہوئے سنہ 1798 کے ’ایلئنز اینیمیز ایکٹ‘ کا نفاذ کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ یہ گینگ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی ہدایت پر امریکہ کے خلاف ’غیر روائتی جنگ‘ میں مصروف تھا۔

رواں برس جنوری میں اپنے منصب کا عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے ٹرین ڈی آراگوا کو ایک ’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیتے ہوئے اس گروہ کو نام نہاد دولت اسلامیہ اور اسلام پسند عسکریت پسند گروہ بوکو حرام کی کیٹگری میں شامل کیا تھا۔

حالیہ مہینوں میں امریکی ریاستوں ٹیکساس، فلوریڈا اور نیو یارک وغیرہ سے اس گینگ کے مبینہ اراکین کو مبینہ قتل اور اغوا جیسے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

امریکہ کے محکمہ ’امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ‘ کے مطابق حال ہی میں ٹائمز سکوائر پر ایک پولیس افسر کے ساتھ مار پیٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیے گئے دو مشتبہ افراد کا تعلق بھی مبینہ طور پر اسی گروہ سے ہے۔

سنہ 2024 کے اوائل میں اسی گینگ کے ایک رُکن پر فلوریڈا کے ایک 48 سالہ رہائشی کے اغوا اور قتل کے شبے کا اظہار بھی کیا گیا تھا۔

این بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا اندازہ ہے کہ امریکہ میں موجود وینزویلا سے تعلق رکھنے والے 600 تارکین وطن کا اس گروہ سے کسی نہ کسی طرح تعلق ہے جبکہ 100 افراد اس کے باقاعدہ رُکن ہیں۔

مائیگریشن پالیسی انسٹیٹیوٹ کے مطابق سنہ 2023 تک امریکہ میں 770,000 وینزویلا کے شہری مقیم تھے جو امریکہ میں موجود تارکین وطن کے دو فیصد سے کچھ کم ہے۔

ٹرمپ حالیہ مہینوں میں کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ وینزویلا میں جرائم کی شرح ریکارڈ حد تک کم اس لیے ہو گئی ہے کیونکہ وینزویلا نے اپنے تمام جرائم پیشہ افراد کو جیلوں سے نکال پر امریکہ بطور تارکین وطن بھیج دیا ہے۔

وینزویلا وائلنس آبزرویٹری کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ جزوی طور پر درست ہو سکتا ہے کیونکہ سنہ 2015 سے سنہ 2023 کے درمیان وینزویلا میں قتل کی شرح میں نمایاں حد تک کم ہوئی ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غیرقانونی نقل مکانی اور وینزویلا کے شہروں میں محفوظ پناہ گاہیں بننے کی وجہ شاید یہی ہو۔