آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
وینزویلا: ٹی وی پر امریکیوں کا حکومت گرانے کی منصوبہ سازی کا ’اعتراف‘
وینزویلا کے سرکاری ٹی وی پر ایک ویڈیو پیغام میں ایک امریکی شہری کو وینزویلا کے صدر نکولس مدورو کی حکومت کا تختہ الٹنے اور انھیں امریکہ لانے کی منصوبہ سازی کا اعتراف کرتے دکھایا گیا ہے۔
لیوک ڈنمن نامی یہ شخص ان 13 افراد میں سے ایک تھا جنھیں اتوار کے روز گرفتار کیا گیا تھا۔
وینزویلا کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ 'اجرتی باغی' تھے جن کی حکومت الٹنے کی مسلح کوشش کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔
وینزویلا کے صدر نکولس مدرو نے اکثر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک پر حملہ کرنا اور انھیں اقتدار سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔
تاہم صدر ٹرمپ نے اس ہفتے کے آغاز میں کسی بھی طرح اس میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے شہریوں کی وطن واپسی کے لیے 'تمام وسائل بروئے کار' لائے گا۔
واضح رہے کہ لاطینی امریکی کے ملک وینزویلا کی حکومت نے تین مئی کو کہا تھا کہ اس نے کولمبیا کے ’کرائے کے سپاہیوں‘ کے ذریعے سمندری حملے کی ایک کوشش اور ملک میں صدر کا تختہ الٹنے کی بغاوت کو ناکام بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وینزویلا کے سرکاری ٹی وی پر کیا نشر کیا گیا؟
بدھ کے روز وینزویلا کے ٹی وی پر نشر کیے جانے والے ویڈیو پیغام میں 34 سالہ ڈنمن یہ بتاتے دکھائی دیے کہ انھیں وینزویلا کے شہریوں کو کاراکس میں ہوائی اڈے کا کنٹرول سنبھالنے اور صدر مدورو کو ملک سے باہر لے جانے کے بارے میں کولمبیا میں ٹریننگ دینے کے لیے رکھا گیا تھا۔
ڈنمن جو امریکی سپیشل آپریشن فورس کے سابق رکن ہیں انھیں یہ کہتے دکھایا گیا کہ 'میں وینزویلا کے شہریوں کو اپنا ملک واپس لینے میں مدد کر رہا تھا۔'
ڈنمن کا کہنا تھا کہ انھیں اور 41 سالہ آئرین بیری سے جورڈن گئوڈریو جو کہ امریکی فوج کے ماہر سابق رکن ہیں اور فلوریڈا میں قائم ایک کمپنی سلورکورپ کے سربراہ ہیں نے اس آپریشن کو سرانجام دینے کے لیے رابطہ کیا تھا۔
وینزویلا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ گیؤڈریو جنھوں نے اس آپریشن میں ملوث ہونا قبول کیا ہے کی گرفتاری کی کوشش کریں گے۔
صدر مدورو کے مطابق سلورکورپ نامی کمپنی نے ملک کے حزب اختلاف کے رہنما جویان گوئیڈو کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔جویان گوئیڈو کو امریکہ اور متعدد یورپی ممالک وینزویلا کا اصل رہنما سمجھتے ہیں۔
ڈنمن کا بیان نشر کیے جانے کے بعد صدر مدورو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 'اس حملے کے براہ راست سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔'
وینزویلا کے صدر کا کہنا تھا کہ امریکیوں کہ خلاف انصاف کے تقاصے پورے کیے جائیں گے۔
تاہم انھوں نے ان افراد کو کس جگہ پر زیر حراست رکھا گیا ہے اس بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی۔ اب تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کیا ان افراد کو وکیل تک رسائی میسر ہے یا نہیں۔
زیر حراست امریکی شہری کون ہیں؟
ڈنمن اور بیری نامی امریکی شہریوں کے بارے میں زیادہ تفصیلات موجود نہیں ہیں
وینزویلا کے اعلیٰ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دونوں افراد امریکی فوج کے رکن ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ سابق فوجی ارکان ہیں تاہم ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
وینزویلا کا کہنا ہے کہ ان کے علاوہ 11 دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جبکہ آٹھ مسلح افراد مبینہ بغاوت کی کوشش میں مارے گئے ہیں۔
اس سب کا پس منظر کیا ہے؟
گوئڈریو نے گوئڈو کے ساتھ ماضی کی وابستگیوں کے بارے میں بھی بار بار دعوے کیے ہیں۔
تاہم پیر کو انھوں نے گؤئیڈو کے ساتھ کسی بھی تعلق کی تردید کی۔
اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ امریکی فوج کے سابق رکن کے 'ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ اس کے کسی فعل کے ذمہ دار نہیں ہیں۔'
انھوں نے وینزویلا کے صدر مدورو کے انتظامیہ کو بھی تنقید کے نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں حالیہ تشددکے واقعات سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان واقعات میں جمعہ کو جیل میں ہنگامہ آرائی ہوئی تھی جبکہ سنیچر کو دارالحکومت کراکس میں دو گروہوں میں خونی تصادم ہوا تھا۔