انڈیا پاکستان کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا پر لاکھوں ویوز حاصل کرنے والی گمراہ کن ویڈیوز کی حقیقت کیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images/SOPA Images
- مصنف, میٹ مرفی، اوگلا رابنسن اور شایان سرداریزادے
- عہدہ, بی بی سی نیوز
پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر سات مئی کو ہونے والے انڈین حملوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غلط معلومات کے پھیلاؤ کی ایک نئی لہر کو جنم دیا ہے۔
اس حملے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر غلط معلومات پر مبنی ایسی وائرل ویڈیوز موجود ہیں جن کو اب تک لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں۔
بی بی سی ویریفائی نے ایسی ہی بعض ڈرامائی ویڈیوز کی تحقیق کی جن میں انڈین فوجی اڈے پر حملے اور پاکستان میں انڈین جنگی طیارے کو مار گرائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایسی ہی ایک چار لاکھ سے زیادہ بار دیکھی جانے والی ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ پاکستان کے جوابی حملے سے ہونے والے دھماکے کی فوٹیج ہے۔ درحقیقت سال 2020 کا یہ ویڈیو کلپ لبنان کے شہر بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے کی ویڈیو تھی۔
بی بی سی ویریفائی سے بات کرتے ہوئے تحقیقاتی ویب سائٹ بیلنگ کیٹ (Bellingcat) کے بانی ایلیٹ ہیگنز نے بتایا کہ جب کسی صورتحال میں تناؤ بڑھ جاتا ہے یا کوئی ڈرامائی واقعہ درپیش آتا ہے تو غلط معلومات کے پھیلنے کا امکان کئی گنا بڑھ جاتا ہے جو بداعتمادی اور عداوت کو ہوا دے سکتا ہے۔
ایلیٹ ہیگنز نے مزید کہا کہ ’صرف تنازعات ہی نہیں بلکہ کسی بھی اہم واقعے کے دوران پرانی ویڈیوز کو دوبارہ استعمال کیا جانا ایک معمول کی بات ہے۔ الگورتھمز سی یا حقیقت کو نہیں بلکہ ایسے مواد کو زیادہ پھیلاؤ دیتے ہیں جو دلچسپ ہو اور تنازعات یا آفات کی ویڈیوز اصارفین کے لیے اکثر پرکشش ہوتی ہیں، چاہے ان کے پیچھے حقیقت کچھ باور ہی کیوں ہو۔‘
ایکس پر سب سے زیادہ وائرل ہونے والی ویڈیوز میں سے ایک ویڈیو، میں دعویٰ کیا گیا کہ انڈیا کے حملوں سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والے دھماکوں کی فوٹیج ہے۔ اس کلپ کو صرف چند گھنٹوں میں 30 لاکھ سے زیادہ بار دیکھا گیا۔
گوگل پر اس ویڈیو کے سکرین شارٹس کو جانچا گیا تو پتا چلا کہ یہ دراصل 13 اکتوبر 2023 کی غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں کی ایک ویڈیو تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اگرچہ زیادہ تر جانچے جانی والی غلط معلومات پر مبنی ویڈیوز میں انڈین حملوں کے فوری بعد کے نتائج کو ظاہر کرنے کا دعوی کیا گیا تاہم بی بی سی ویریفائی کی طرف سے کچھ ایسے ویڈیو کلپس کا تجزیہ کیا گیا جن میں کچھ کلپس پاکستانی ردعمل کو حقیقت سے کہیں زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے تھے۔
ایسی ہی ایک ویڈیو جسے سوشل پلیٹ فارم ایکس ہر چھ لاکھ سے زیادہ بار دیکھا گیا ہے ، دعویٰ کیا کہ 'پاکستانی فوج نے انڈین بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔
اندھیرے میں فلمایا گیا یہ کلپ دراصل گزشتہ ماہ یوٹیوب پر گردش کرنے والی ایک غیر متعلقہ ویڈیو کا ہے۔
ایسی ہی بعض پوسٹس میں شیئر کی جانے والی تصاویر میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ تصاویر پاکستان کی فضائیہ کی طرف سے چھ مئی 2025 کے ابتدائی اوقات میں انڈین فارورڈ ایئر بیسز' کو نشانہ بنانے کے آپریشن کی ہیں۔
درحقیقت یہ تصاویر ویڈیو گیم بیٹلڈ گیم تھری کی سکرین شارٹس کی تھیں۔
پاکستانی فوج کے مطابق انھوں نے بدھ کی صبح مقامی وقت کے مطابق انڈیا کے پانچ جیٹ طیارے تباہ کر دیے۔ اس اعلان کے بعد بعض سوشل میڈیا صارفین نے غیر متعلقہ کلپس شیئر کیے جن میں انڈین لڑاکا طیاروں کا ملبہ دکھاینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ان میں سے کچھ ویڈیوز کو لاکھوں ویوز مل چکے ہیں۔
تاہم وائرل ہونے والی یہ دو تصاویر دراصل انڈیا کی فضائیہ کے ماضی کے طیارے حادثات کی تھیں جن میں سے ایک واقعہ 2024 میں راجستھان میں پیش آیا تھا اور دوسرا 2021 میں انڈین ریاست پنجاب کا ہے۔
ان دونوں حادثات کی اس وقت وسیع پیمانے پر خبریں رپورٹ کی گئی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہX/Sulaiman Ahmed
یارک یونیورسٹی کے پروفیسر اندرجیت رائے کہتے ہیں کہ یہ تصاویر اس مقصد سے پھیلائی جا رہی ہیں کہ پاکستان میں فوج کے لیے عوامی حمایت حاصل کی جا سکے۔'
پاکستانی فوج کی طرف سے منسوب کیا جانے والا ویڈیو کلپ بعد میں نیوز ایجنسیوں نے واپس لے لیا کیونکہ وہ کلپ کسی غیر متعلقہ واقعے سے متعلق تھیں۔ ان کے مطابق 'سرحد کے دونوں جانب قوم پرست عناصر موجود ہیں، اور ان کے پاس ایک بہت بڑا پلیٹ 'ایکس' کی صورت میں موجود ہے جہاں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح جھوٹی سچی خبروں کو بڑھا چڑھا کر یا مسخ کر کے اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ دوسری طرف کے لیے نفرت، دشمنی اور عداوت پیدا ہو۔'
کشمیر کا تنازع طویل عرصے سے آن لائن غلط معلومات کا مرکز رہا ہے۔ گزشتہ ماہ انڈیا کے سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے حملے کے بعد،مصنوعی ذہانت سے تیار کی جانے والی تصاویر گردش کرنے لگیں جن کا مقصد بعض اوقات حملے کے مناظر کو ڈرامائی انداز میں پیش کرنا تھا۔
خبر رساں ادارے فرانس 24 سے وابستہ صحافی ویدیکا باہل کہتے ہیں کہ پہلگام حملوں کے بعد تنازعے کے گرد دونوں جانب سے غلط معلومات کے پھیلاؤ میں واضح اضافہ ہوا ہے۔
ان کے مطابق 'ان میں سے زیادہ تر غلط معلومات کی ابتدا ایکس سے ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ معلومات واٹس ایپ تک پہنچ جاتی ہیں، جو کہ جنوبی ایشیائی کمیونٹیز میں پیغام رسانی کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ذریعہ ہے۔












