نوآبادیاتی ہندوستان میں اشتہارات نے خواتین کو صابن اور گولیاں کیسے فروخت کیں؟

اشتہار
،تصویر کا کیپشنسنہ 1933 کے ایک اشتہار میں خاتون کو لپ سٹک، بندی اور منگل سوتر کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے
    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, نمائندہ بی بی سی، انڈیا

ایک نوجوان نے سنہ 1937 میں کنزیومر گڈز یعنی روز مرہ کے استعمال کی اشیا بنانے والی ایک بڑی کمپنی یونی لیور میں مینیجر کے طور پر شمولیت اختیار کی اور انھوں نے ممکنہ طور پر گھریلو انٹرویوز پر مبنی ملک کے پہلے بڑے مارکیٹنگ سروے میں حصہ لیا۔

نوجوان مینیجر پرکاش ٹنڈن بعد میں ایک بااثر کاروباری رہنما بنے۔ انھوں نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ اس وقت کی سماجی روایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خواتین انٹرویوز لینے والیوں نے اجنبیوں کے گھروں کا دورہ کرکے متوسط ​​طبقے کی گھریلو خواتین سے پوچھا کہ وہ کون سا صابن استعمال کرنا پسند کرتی ہیں۔

انٹرویو لینے والے ایک جانا پہچانا جواب کہ 'میرے شوہر چیزیں پسند کرتے ہیں' موصول ہونے کے بعد بھی ان پر ان کی رائے جانے کے لیے مزید دباؤ ڈالتے۔ یہ جواب اس وقت کی روایتی سوچ کے مطابق تھا کہ کس طرح ہندوستانی مرد اپنے خاندانوں کی خریداری کو کنٹرول کرتے تھے۔

صارف خواتین کی مزید حوصلہ افزائی کرنے پر انھیں ایک خاتون نے کہا: 'اوہ میں آپ کا مطلب سمجھتی ہوں۔ میرے شوہر ضرور پسند کرتے ہیں لیکن میں انھیں بتاتی ہوں کہ کیا انتخاب کرنا ہے۔'

اس سروے کے بعد، لیور برادرز (اس وقت یونی لیور کی ذیلی انڈین کمپنی) نے گھریلو خواتین کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی مصنوعات کے لیے اشتہاری مہم کی ابتدا کی۔

ڈارٹ ماؤتھ کالج میں تاریخ کے پروفیسر ڈگلس ای ہینس کہتے ہیں کہ اس سے یہ ظاہر ہوا کہ کس طرح ایک ملٹی نیشنل یعنی کثیر ملکی کمپنی نے 'فیصلہ سازی میں (انڈین) خواتین کی مرکزیت کی اپنی دریافت کو تیزی سے نافذ کیا۔'

پروفیسر ہینس نے نوآبادیاتی ہندوستان میں پیشہ ورانہ اشتہارات کے ظہور پر تحقیق کی ہے جو کہ بطور خاص دونوں جنگ عظیم کے درمیان کے سالوں پر مبنی ہے۔

ان کی نئی کتاب 'دی ایمرجینس آف برانڈ۔نیم کیپٹلزم ان لیٹ کالونیل انڈیا' دلچسپ بصیرت فراہم کرتی ہے کہ کس طرح ملٹی نیشنلز نے سنہ 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں برصغیر میں اشتہارات کے ابتدائی دنوں کے دوران ہندوستانی خواتین اور متوسط ​​طبقے کو اپنی جانب راغب کیا۔

اشتہار
،تصویر کا کیپشنستمبر سنہ 1933 کے ایک اشتہار میں خواتین کو صحت مند رکھنے کی جانب راغب کیا گيا ہے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ان کمپنیوں نے مقامی روایات کے مطابق صابن، دوا کی گولیاں، پرفیوم (عطریات، خوشبوئیں) اور کریمیں فروخت کرنے کے لیے خواتین کی تصاویر کی تشہیر کی جو شادی اور زچگی کے نظریات پر مبنی تھیں۔

کمپنیوں نے ایسے وقت میں شوہروں کے لیے مصنوعات بھی پیش کیں جب بہت سی گھریلو خواتین خریداری کے لیے بازار اور دکانوں میں نہیں جاتی تھیں اور اکثر مرد ہی خریداری کیا کرتے تھے۔

پروفیسر ہینس کہتے ہیں: 'سنہ 1930 کی دہائی اس حوالے سے ایک واٹرشیڈ (پن دھارا) تھی جو کہ (انڈیا میں) خواتین صارفین کی کثیر القومی مارکیٹنگ کی کوششوں میں ڈرامائی آمد کا باعث ہوئی۔

خواتین کے لیے 'فیلونا' نامی ایک مشہور جنوبی افریقہ کی صحت کی گولی انڈیا میں جس طرح سے لانچ کی گئی وہ ایک دلچسپ مثال پیش کرتی ہے کہ کس طرح خواتین کو ٹارگٹ کیا گیا تھا۔

گجراتی زبان کے اخبارات میں جو ابتدائی اشتہارات نظر آئے ان میں یورپی خواتین صحت کی گولی سے رجھاتی اور ہندوستانی شوہروں کو براہ راست مخاطب کرتی نظر آئيں۔ ایک اشتہار میں وہ براہ راست پوچھتی ہیں کہ 'آپ کی بیوی - کیا وہ تکلیف میں ہے؟' ایک دوسرے اشتہار میں کہا گیا کہ شوہرو، اپنی بیویوں کی صحت کا خیال رکھو۔'

یہ بھی پڑھیے

اشتہارات میں 'زچگی کی پریشانیوں' کے بارے میں بات کی گئی تھی اور شوہر پر زور دیا گیا تھا کہ وہ '(اپنی اہلیہ پر) زور دیں کہ فیلونا کا کورس لیں۔۔۔ انھیں صحت مند رکھیں تاکہ ماں بننے کے حقیقی معنی سے لطف اندوز ہوں۔'

جلد ہی اشتہارات میں ہندوستانی خواتین کو دکھایا جانے لگا۔ ایک اشتہار میں ساڑھی میں ملبوس ہندوستانی خاتون مسز مہتا کی کہانی بیان کی گئی تھی۔ وہ ٹینس کا ریکیٹ لیے ہوتیں 'ہفتے میں ٹینس کے دو یا تین سیٹس' کھیلتیں۔

مسز مہتا کو ایسی خاتون کے طور پر بیان کیا گیا جو ہمیشہ 'صحت مند اور خوش نظر آتی ہیں'۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ انھوں نے اشتہار میں ایک اور خاتون مسز وکیل کو باقاعدگی سے شکست دی جو 'کھیل میں، کام پر، سماجی طور پر' ایک 'بیمار عورت' کر رہی تھیں۔

اشتہار
،تصویر کا کیپشنسنہ 1923 کا ایک اشتہار جس میں خوبصورتی کو برقرار رکھنے کی بات کہی گئی ہے

اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ اس اشتہار میں کھیلوں سے محبت کرنے والی، جدید ہندوستانی خاتون خانہ کے بارے میں ایک اہم اطلاع تھی۔ اس میں واضح انداز میں کہا گیا تھا کہ 'وہ اپنا گھر بہت اچھی طرح سے چلاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس خدشے کو دور کیا گیا تھا کہ ٹینس سے ان کی محبت ان کے خاندانی فرائض کی راہ میں حائل نہیں ہے۔

کچھ اشتہارات میں تارکین وطن، نوآبادیاتی گھریلو خواتین اور انڈین گھریلو خواتین سے الگ الگ اپیل کی گئی۔

پروفیسر ہینس کے مطابق سفوف سے تیار کردہ مشہور برطانوی ہیلتھ ڈرنک اووالٹائن نے انگریزی اور مقامی اخبارات، سڑک کے ہورڈنگزمیں اس کی علامات پر ایک اشتہاری مہم چلائی جس میں 'یورپی صارفین کی اقدار کے حامل غیر ملکی اور اشرافیہ انڈینز کو مخاطب کیا گیا۔

اووالٹائن کو 'گرم موسم کے مشروب' کے طور پر ہندوستانی آب و ہوا سے نمٹنے کے لیے نوآبادیاتی گھریلو خواتین کو فروخت کیا جاتا تھا۔ ہندوستانیوں کو مخاطب کرنے والے مقامی اشتہارات میں یورپی نظر آنے والے گھروں کی جگہ ہندوستانیوں نے سادہ فرنشننگ کے ساتھ ہندوستانی کپڑے پہنے ہوئے تھے اور گھر میں کوئی مددگار نظر نہیں آتا تھا۔ اب اس میں گھریلو خاتون کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ 'خاندان کے ہر فرد کو ضروری اور خالص غذائیت فراہم کرے۔'

پروفسیر ہینس کہتے ہیں کہ بیوٹی پراڈکٹس کی مارکیٹنگ قدرے مختلف انداز میں ہوتی تھی۔ اگرچہ سنہ 1920 کی دہائی تک پونڈز اور یونی لیور جیسی ملٹی نیشنل کمپنیاں انڈین خواتین کو خوبصورتی کے ایک تصور کے ساتھ نشانہ بنا رہی تھیں جسے 'شادی شدہ خاندان کے تصور کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہے۔'

مقبول اشتہاری مہموں میں خوبصورتی کا مطلب مرد کی توجہ حاصل کرنا، شوہر کو خوش رکھنا وغیرہ شامل تھا۔ مثال کے طور پر صابن کے ایک اشتہار میں واضح طور پر اعلان کیا گیا تھا کہ یہ 'سماجی ضرورت' اور یہ کہ خوبصورت خواتین کو بہتر رشتے ملتے ہیں اور انھیں کم جہیز دینا پڑتا ہے۔

زیادہ تر اشتہارات میں جلد کے 'جوان نظر آنے' اور گورے رنگ کے ہونے کی اہمیت کے بارے میں بات کی گئی تھی۔ کچھ لوگوں نے کھل کر گورے رنگ کی ترجیحات کو پیش کیا۔ ایک کریم نے تو 'سیاہ جلد کو مستقل طور پر گورا' بنانے کا دعوی کیا۔

پروفیسر ہینس کے مطابق ان اشتہارات میں عام طور پر چھوٹے بالوں والی نوجوان یورپی لڑکیوں یا خوبصورت، مہنگے لباس میں ملبوس یورپی خواتین کو پیش کیا جاتا جو 'عیش و عشرت اور اعلیٰ معیار کا اظہار' تھیں۔ پھر اس کے بعد سالوں میں بہت سی فرموں نے اپنے صابن کو فروغ دینے کے لیے بمبئی کی فلمی اداکاراؤں کو اپنے اشتہار کے لیے سائن کیا۔

اشتہار
،تصویر کا کیپشن1936 کے اس اووالٹائن کے اشتہار میں انڈیا کے متوسط طبقے کے ایک خاندان کو پیش کیا گیا ہے

پروفیسر ہینس کا کہنا ہے کہ 'خوبصورتی کا کموڈیفیکیشن (اسے مصنوعات بنا دینا) سنہ 1920 اور 1930 کی دہائی کی ایک اہم پیش رفت تھی جسے بڑی حد تک نظر انداز کر دیا گیا ہے۔'

واضح طور پر گھریلو خواتین اشتہارات میں غالب خاتون کی تصویر بن گئیں۔ لیکن پروفیسر ہینس کے مطابق بمبئی (اب ممبئی) کے سینیما میں صنفی دقیانوس تصورات کو چیلنج کرنے والی خواتین کی جگہ ایک زیادہ ریڈیکل 'جدید لڑکی' بھی آہستہ آہستہ متعارف کرائی گئی۔

خواتین سے متعلق اشتہار کی حد کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش والا ایک ابتدائی اشتہار خواتین کے لیے ایک ٹانک کا اشتہار تھا جس کا نام استری متر (عورت کی دوست) تھا۔ اس میں ایک عورت کو دکھایا گیا تھا جو ساڑھی میں ملبوس ہے اور جس کے بال پیچھے بندھے ہوئے ہیں اور لپ سٹک لگا رکھی ہے اور مانگ میں بندی اور گلے میں منگل سوتر ہے جو اس بات کا واضح اشارہ فراہم کرتے ہیں کہ وہ شادی شدہ ہے۔ خیال رہے کہ منگل سوتر شادی شدہ ہندو خواتین اپنے سہاگ کی نشانی کے طور پر پہنتی ہیں اور مانگ میں سیندور لگاتی ہیں۔

کیا اشتہارات میں 'جدید' خواتین کی اس تصویر کشی نے کسی سماجی ردعمل کو جنم دیا؟ پروفیسر ہینس کا کہنا ہے کہ انھیں ایسے شواہد نہیں ملے۔

انڈیا کے بابائے قوم مہاتما گاندھی نے اشتہارات میں کنزیومر کلچر اور 'جدید لڑکی' دونوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

گاندھی نےسنہ 1939 میں لکھا: 'مجھے خوف ہے کہ جدید لڑکی نصف درجن رومیوں کے ساتھ جولیٹ کا کردار ادا کرنا پسند کرتی ہے۔ وہ ایڈونچر پسند کرتی ہے۔۔۔ لباس اپنی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ توجہ حاصل کرنے کے لیے پہنتی ہے۔ وہ قدرتی حسن کو نکھارنے اور بہتر نظر آنے کے لیے میک اپ کرتی ہے۔' لیکن ان کی یہ تنقید بھی نوآبادیاتی ہندوستان میں خواتین صارفین کو راغب کرنے والی فرموں کو روک نہیں سکی۔