ڈاکٹر بہو: اشتہار میں خواتین ڈاکٹرز کو پریکٹس کی اجازت نہ دینے پر چرچا، سوشل میڈیا پر پذیرائی

شان

،تصویر کا ذریعہShan Foods

،تصویر کا کیپشنشان فوڈز کے نئے اشتہار میں خاتون، شادی شدہ ڈاکٹر کی مشکلات کی عکاسی کی گئی ہے
    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

’میں تو سب لڑکیوں سے کہتی ہوں کہ اگر پڑھائی کریں تو اس کا استعمال بھی ضرور کریں۔ مجھے افسوس ہے کہ میں اتنی محنت کر کے ڈاکٹر بنی لیکن پریکٹس نہ کر سکی۔‘

سدرہ (فرضی نام) اپنی زندگی کے بیتے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اب تو وہ دو بچوں کی نانی بن گئی ہیں لیکن یہ افسوس اُنھیں مرتے دم تک رہے گا۔

سدرہ اکیلی ایسی خاتون ڈاکٹر نہیں جنھوں نے شادی کے بعد نوکری نہیں کی یا انھیں کرنے نہیں دی گئی۔

پاکستان میڈیکل کونسل کے مطابق 70 فیصد سے زائد خواتین ڈاکٹر ڈگری حاصل کرنے کے بعد پریکٹس نہیں کرتیں اور یہ مسئلہ صرف میڈیکل کے شبعے تک ہی محدود نہیں بلکہ زیادہ تر خواتین تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوکری نہیں کرتیں یا پھر انھیں نوکری کرنے دی نہیں جاتی۔

اسی مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے مصالحہ جات بنانے والی کمپنی ’شان‘ کی جانب سے ایک اشتہار نشر کیا گیا جس میں شادی کے بعد لڑکی سے وابستہ توقعات اور پھر سسرال والوں کی جانب سے دی جانے والی سپورٹ کے بارے بات کی گئی۔

اس اشتہار میں دکھایا گیا کہ اس گفتگو کی وجہ سے وہ خاتون ڈاکٹر اپنی پروفیشنل ڈیوٹی اور گھریلو زندگی میں توازن برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔

اشتہار میں یہ بھی دکھایا گیا کہ کھانا بنانا یا بچہ سنبھالنا صرف بہو یا ماں کی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ یہ کام ساس اور شوہر بھی کر سکتے ہیں۔

اس اشتہار میں دیے گئے پیغام کی تعریف میں سوشل میڈیا پر بھی اس موضوع پر بات کی جا رہی ہے۔ زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خواتین کے اپنے خواب پورے کرنے، نوکری اور اُنھیں سپورٹ کرنے کے حوالے اس اشتہار کو سراہا جا رہا ہے۔

ذیل میں سدرہ کی کہانی بیان کی جا رہی ہے کہ کیسے اُنھیں شادی کے بعد اپنی پریکٹس نہیں کرنے دی گئی اور یہاں تک کہ طعنوں کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

Presentational grey line

میرے ماں باپ نے میری شادی جلدی کر دی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ آخری سال کے امتحانات کا نتیجہ نہیں آیا تھا اور میری رخصتی کر دی گئی۔ میں ہاؤس جاب کرنا چاہتی تھی اور مجھ سے یہ وعدہ بھی کیا گیا کہ میں شادی کے بعد نوکری کر سکتی ہوں لیکن جب شادی ہوئی تو میرے شوہر نے مجھے شادی کے بعد نوکری نہیں کرنے دی۔ میں گائناکولوجسٹ بننا چاہتی تھی۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ میری ساس بڑے فخر سے رشتہ داروں کو بتاتی تھیں کہ میری بہو ڈاکٹر ہے جبکہ سب کے پیچھے وہ چاہتی تھیں کہ میں گھر پر رہوں اور ان کے بیٹے کا خیال رکھوں۔

مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مجھے صرف اس لڑکے اور اس کے گھر والوں کا خیال رکھنے اور کھانا پکانے کے لیے لایا گیا ہے اور شادی کے بعد میری اپنی کوئی شخصیت نہیں۔ جب بھی میں نے اپنے شوہر کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ’میں اتنی محنت کر کے ڈاکٹر بنی ہوں، مجھے پریکٹس کرنے دیں تو وہ کہتے کہ تم نے ڈاکٹر بن کر کوئی تیر نہیں مارا، مجھ پر اپنی ڈاکٹری کا رعب جھاڑنے کی ضرورت نہیں۔‘

یہ تمام جملے بہت تکلیف دہ تھے جو مجھے آج تک یاد ہیں۔

جب میری بیٹی ہوئی تو میرے سسرال والوں نے پہلے دن سے کہنا شروع کر دیا کہ یہ تو ماں کی طرح ڈاکٹر بنے گی۔

جب وہ یہ کہتے تھے تو میں سوچتی تھی کہ کیا فرق پڑتا ہے کہ اگر وہ ڈاکٹر بن بھی گئی تو کون سا اسے نوکری کرنے دی جائے گی۔ خیر میرے شوہر نے میری بیٹی کو ڈاکٹر تو بنا لیا لیکن آج اس کے شوہر نے بھی اس سے نوکری یہ کہہ کر چھڑوا دی کہ بچے اور گھر کی دیکھ بھال صحیح نہیں ہو رہی۔

کاش کہ میں اپنے یا اپنے بیٹی کے لیے کچھ کر سکتی لیکن ہمارے معاشرے میں جب عورت اپنے بنیادی حق کے لیے بھی کھڑی ہوتی ہے تو اس سے تمام رشتے ختم کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جو اس کے پیروں کی زنجیر بن جاتی ہے۔

Presentational grey line

ہمارے معاشرے میں لڑکی کے گھر والوں کی جانب سے زیادہ تر جو باتیں سننے کو ملتی ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ لڑکی ہے، اتنا پڑھ کر کیا کرے گی، آخر میں تو شادی ہی ہو جانی ہے۔ دوسری طرف ایک رائے یہ بھی ہوتی ہے جس میں عموماً کہا جاتا ہے کہ لڑکی کو پڑھا لکھا دو تاکہ وہ اپنی زندگی بہتر انداز میں گزار سکے اور اس کے ساتھ ساتھ رشتہ بھی اچھی جگہ ہو جائے گا۔

جہاں ایک طرف لڑکی کے گھر والوں کی یہ سوچ ہوتی ہے وہیں دوسری جانب زیادہ تر لڑکے والوں کو بھی ڈاکٹر بہو چاہیے ہوتی ہے ‘جو گول روٹی بھی بنا سکے‘ اور گھر پر رہ کر بچے بھی بہترین انداز میں پال سکے۔

اس معاشرتی سوچ پر اکثر تنقیدی سوالات بھی اٹھائے جاتے ہیں کہ اگر لڑکی کو پڑھائی کے بعد نوکری نہیں کرنے دینی تو اسے پھر پڑھاتے ہی کیوں ہیں۔

رابعہ (فرضی نام) کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی تھی مگر انھیں ایک جگہ سے سپورٹ مل گئی جس نے انھیں یہ تمام چیلنجز عبور کرنے میں مدد کی۔ ان کی کہانی، ان کی زبانی پڑھیے۔

Presentational grey line

میرے والد حیات نہیں ہیں، اس لیے میری امی نے میری شادی میڈیکل کی تعلیم مکمل ہونے سے پہلے ہی کر دی تھی۔ میں میڈیکل کالج کے تیسرے سال میں تھی جب میری شادی ہوئی۔ شروع شروع میں میرے شوہر نے مجھے کافی سپورٹ کیا اور دو سال مزید مجھے پڑھنے دیا تاکہ میں ڈاکٹر بن سکوں۔

اس تمام عرصے میں میرے سسرال والوں نے مجھے ایک دن بھی سکون نہیں لینے دیا۔ میں نے وہ دو سال بہت مشکل میں گزارے۔

مشکل پڑھائی، گھر کا کام کاج، اور پھر بچہ۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ سب کے طعنے اور ناخوش چہرے۔ میں نے پڑھائی ختم کرنے کے بعد لاہور کے جناح ہسپتال میں ہاؤس جاب کی۔

اس وقت ہاؤس جاب کے دوران 24 ہزار روپے تنخواہ ملا کرتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ میری ساس نے یہ تک کہا کہ ہمیں تو لگتا تھا کہ ڈاکٹر بڑا پیسہ کماتے ہیں۔ تم دن رات باہر رہتی ہو پھر بھی چند روپے کماتی ہو۔ لگتا ہے جیسے تم اپنا گھر بار نہیں سنبھال سکتی ویسے ہی تمھیں ڈاکٹری کرنی بھی نہیں آتی۔

ان تمام تر باتوں کا اثر میرے ساتھ ساتھ میرے شوہر پر ہونے لگا اور انھوں نے بھی میری نوکری چھڑوا دی۔

اس سب کے کچھ عرصے بعد میرا بھائی بھی فوت ہو گیا جو میرا سب سے بڑا سپورٹر تھا۔ وہ ایک لمحہ مجھے ڈپریشن میں لے جانے کے لیے کافی تھا۔

میں کافی عرصے تک بیمار رہی اور سات سال بعد میں اپنے شوہر کو منانے میں کامیاب ہو گئی کہ مجھے نوکری کرنے دیں۔ آج میرے تین بچے ہیں اور میں بطور میڈیکل آفسر لاہور کے سرکاری ہسپتال میں کام کر رہی ہوں۔

سوچیں اگر ایسی خواتین کو تھوڑی سی بھی سپورٹ مل جائے، گھر والوں اور سسرال والوں سے تو ہمارا ملک بھی ترقی کرے گا اور یہ معاشرہ بھی۔میں تو اپنی ہر جونیئیر کو یہی کہتی ہوں کہ پلیز پڑھ لکھ کر اپنے آپ کو ضائع مت کرنا۔ اگر کوئی روکے تو اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا اور کام کرنا۔

Presentational grey line

‘ویلڈن شان فوڈز!‘

میڈیکل کے شعبے سے منسلک افراد اس بات پر بھی زور دیتے ہیں ڈاکٹر بننے کے لیے انتہائی مشکل پڑھائی کرنی پڑتی ہے جو ایک محنت طلب کام ہے تو پھر لڑکیوں کو ڈاکٹر بنا کر انھیں گھر پر بٹھانا ان خواتین کے ساتھ زیادتی ہے کیونکہ اس طرح زیادہ تر خواتین ان سیٹوں پر داخلہ لینے میں کامیاب ہوتی ہیں جن پر ایسے افراد کو داخلہ ملنا چاہیے جو ڈاکٹر بن کر فیلڈ میں کام بھی کریں۔

اسی موضوع پر ٹوئٹر پر ایک صارف نے اس حوالے سے ذاتی تجربہ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ جب وہ میڈیکل سکول میں تھیں تو اُن کی والدہ اُنھیں کچن میں زیادہ وقت بِتانے اور کھانا پکانا سیکھنے پر زور دیتی تھیں اور اُن کے والد کہتے تھے کہ ’ہماری بیٹی جو کر رہی ہے وہ صرف کھانا پکانا سیکھنے سے کہیں زیادہ بڑے مقصد کے لیے ہے۔ اسے وہی کرنے دو۔ کھانا پکانا وہ وقت کے ساتھ خود سیکھ جائے گی۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

ماضی میں مختلف اتھارٹیز اور لوگوں کی جانب سے میڈیکل کے شعبے میں خواتین کے لیے کوٹا سسٹم نافذ کرنے کے حق میں اقدامات اٹھائے گئے، یہاں تک کہ عدالتوں میں ان اقدامات کو چیلنج بھی کیا گیا لیکن کئی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ڈاکٹر خواتین کی بڑی تعداد شادی کے بعد نوکری نہیں کرتیں۔

اسی مطالبے کی عکاسی کرتے ہوئے سید علی حیدر نے لکھا کہ ’ایک قیمتی سیٹ ضائع کرنے کا کیا مقصد جب آپ نے خاتون ڈاکٹر کے طور پر پریکٹس نہیں کرنی؟ حکومت کو چاہیے کہ وہ میڈیکل کے تمام طلبا بالخصوص خواتین سے ضمانتی معاہدے پر دستخط کروائے کہ وہ حکومت کی جانب سے فی نشست دی گئی سبسڈی لوٹائیں گے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

کشور انعام نے شان فوڈ کو ویلڈن کہتے ہوئے ٹویٹ کی اور کہا کہ آئیے ہم اپنے نوجوان پیشہ ور افراد کا ساتھ دیں اور ان کی محنت اور خوابوں کو سبوتاژ نہ کریں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

وقار امیر نے لکھا کہ شان فوڈز نے اپنے اشتہار میں ڈاکٹر بہو کی حقیقی تصویر کشی کی۔

’یہ اشتہار ایک شاندار پیغام دےرہا ہے کہ خواتین کو اپنے منتخب کرئیر کو آگے بڑھانے کی اجازت ہونی چاہیے۔‘

ٹوئٹر صارف سہیل نے لکھا کہ چاہے وہ بیٹی ہو، بیوی ہو، بہو ہو یا بہن، ہر عورت کو اپنے خوابوں پر عمل کرنے کا حق ہے اور انھیں اس کام میں مدد دینی چاہیے۔

ہدیٰ نوید نے لکھا کہ ہمارے معاشرے میں کئی لوگوں کو اپنے بیٹوں کے لیے ڈاکٹر بہو چاہیے ہوتی ہے اور ان ڈاکٹروں کو اپنے خوابوں کی تکمیل سے روکنا درست نہیں۔ ان کی تعلیم ضائع نہ ہونے دیں۔