’شاداب خان کی ماسٹر کلاس بازی لے گئی‘: سمیع چوہدری کا کالم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
جس منزل تک رسائی کو یہ قدم پیہم عزم سے دوڑتے چلے آتے تھے، وہ منزل تو عین سامنے آ گئی مگر وائے قسمت کہ یکبارگی یہ قدم ہی بوجھل ہو رہے اور شکستہ پا سلطانز ایک اور فائنل کھیل کر بھی ٹرافی سے محروم لوٹ گئے۔
محمد رضوان سر جھکائے پویلین کی طرف بڑھ رہے تھے اور نسیم شاہ اس میچ کی قیمتی ترین وکٹ کا جشن منا رہے تھے کہ اچانک ٹیکنالوجی بیچ میں آ گئی اور وہ گیند ’نو بال‘ قرار پائی۔
قسمت نے عین موقع پہ رضوان کی یاوری کر دی۔
مگر رضوان خود ہی اپنی یاوری نہ کر پائے۔
لمبے ٹورنامنٹس میں تسلسل سے فتوحات سمیٹنے والی ٹیموں کو فائنل کی ایسی انہونی کا خدشہ ہمیشہ دامن گیر رہتا ہے اگر ان کی بیشتر فتوحات ایک دو کرداروں کے گرد گھومتی رہی ہوں۔ سلطانز کی اس سیزن میں کامیابی عموماً محمد رضوان اور عثمان خان کی بیٹنگ پہ منحصر رہی ہے جبکہ بولنگ میں اسامہ میر اور محمد علی اس کی زینت رہے ہیں۔
لیکن جیت کا جو سانچہ سلطانز نے ڈھال رکھا تھا، اس میں محمد رضوان کا کردار اس قدر نمایاں تھا کہ ان کے بغیر کہانی مکمل ہو پانا ممکن نہیں تھا۔ بھلے وہ کوئی برق رفتار اننگز کھیل کر تگڑے مجموعے کا پلیٹ فارم مہیا کریں، بھلے مشکلات سے دوچار اننگز کو روایتی انداز میں کھینچ تان کر ایک کنارہ سنبھالے رکھیں، ان کا کریز پہ موجود رہنا سلطانز کے لیے ناگزیر تھا۔
مگر یونائیٹڈ کی ریسرچ اور ڈیٹا پہ مبنی اپروچ نے اس اہم ترین معرکے میں محمد رضوان کو اس قدر لاچار کر چھوڑا کہ ایک چانس ملنے کے باوجود وہ گھٹن کا شکار رہے اور اسی گھٹن کے ہاتھوں بالآخر ڈھیر بھی ہو گئے۔
سلطانز کی دھواں دھار کارکردگی کا دوسرا اہم ترین مہرہ عثمان خان تھے جو غیر روایتی اور روایتی، دونوں طرح کی بیٹنگ میں بھرپور مہارت رکھتے ہیں۔ یونائیٹڈ کی ریسرچ اور شاداب کی پلاننگ نے ان پہ شارٹ پچ کا ہتھیار آزمایا اور ان کی ابتدائی یلغار کو مسدود کر ڈالا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گو عثمان خان نے بھی خوب مقابلہ کیا اور بعد ازاں پلٹ کر اسی شارٹ پچ کو نشانہ بھی بنایا مگر ان کے سنبھلنے تک میچ کافی آگے بڑھ چکا تھا اور سلطانز کا سکور بورڈ خاصا پیچھے رہ چکا تھا۔ اگر افتخار احمد کی حتمی یلغار شاملِ حال نہ ہوتی تو بیٹنگ کے لئے نہایت سازگار پچ پہ میچ بالکل ہی یکطرفہ ہو رہتا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یونائیٹڈ کے بولنگ پلانز پرفیکشن کے عکاس تھے۔ شاداب خان کی کپتانی ماسٹر کلاس کی سی تھی اور عماد وسیم کی بولنگ جس تزویراتی دانش اور ورائٹی سے مالا مال تھی، وہاں سلطانز کے بلے بازوں کا بھی شاید اتنا قصور نہیں تھا کہ ایسی بہترین بولنگ کے جواب میں اس سے بہتر بیٹنگ کاوش ممکن بھی نہیں ہوتی۔
لیکن بحیثیتِ مجموعی ٹورنامنٹ میں سلطانز کی بولنگ صرف یونائیٹڈ ہی نہیں، سبھی فرنچائزز سے کہیں بہتر رہی ہے۔ ٹورنامنٹ کے دو سرکردہ بولرز محمد علی اور اسامہ میر رہے ہیں۔ تو ایسے وسائل کی موجودگی میں بھلا رضوان جیسے زیرک کپتان ہمت ہارنے کا سوچتے بھی کیسے؟
سلطانز نے نہ صرف بہترین بولنگ کا مظاہرہ کیا بلکہ فیلڈنگ میں بھی جان لڑائی۔ اور رضوان کی کپتانی بھی جرات آموز رہی کہ ڈیتھ اوورز میں افتخار احمد کو اٹیک میں لائے اور دم توڑتے مقابلے کو اس قدر زندہ کیا کہ لو آخری گیند تک بجھنے نہ پائی۔
جس قدر عدم توجہی کا شکار یہ پی ایس ایل رہی ہے، ایسا کانٹے دار فائنل ہی اس کی کوالٹی کا بہترین ثبوت ہو سکتا تھا جہاں دو ڈیٹا کی بنیاد پہ استوار ٹیمیں آمنے سامنے ہوئیں اور ایک متوسط سے مجموعے کے باوجود میچ کو آخری گیند تک زندہ رکھا۔
سلطانز کے لئے دل شکستگی رہی کہ متواتر تیسرا فائنل ہارنے کا ملال مقدر ہوا تو یونائیٹڈ کے لئے سرشاری کا سامان ہے کہ نصف عشرے بعد پہلے فائنل کے لئے کوالیفائی کیا اور تین ٹائٹلز جیتنے والی پی ایس ایل کی تاریخ میں پہلی ٹیم بن گئی۔













