آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گھر آئے مہمان کو غلطی سے گولی لگنے پر میزبان کی دل کا دورہ پڑنے سے موت
انڈیا کی ریاست کرناٹک میں ایک نیو ایئر پارٹی نے اس وقت ایک خوفناک موڑ اختیار کر لیا جب میزبان کی بندوق سے ایک مہمان کو غلطی سے گولی لگ گئی اور یہ دیکھ کر ان کی خود دل کا مہلک دورہ پڑنے سے موت ہوگئی۔
دوسری جانب انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں سال 2023 کے آغاز کے چند گھنٹے بعد ہی ایک سڑک حادثے میں ایک نوجوان خاتون کی المناک موت پر شہریوں کی جانب سے غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
’غلطی سے ٹریگر دب گیا‘
منجوناتھ اولیکر جن کی عمر 67 سال بتائی جا رہی ہے، وہ سنیچر کو شیوموگا شہر میں اپنے گھر میں جاری پارٹی میں جشن کے لیے فائرنگ کرنے کی خاطر اپنی بندوق تیار کر رہے تھے۔
مگر اس دوران غلطی سے گولی چل گئی اور ان کے ساتھ کھڑے ان کے بیٹے کے 34 سالہ دوست وِنے کو لگ گئی۔
پولیس نے اس واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔
انڈیا کے کئی حصوں میں شادیوں اور دیگر تقریبات کے موقع پر ہوائی فائرنگ کرنا عام ہے اور ان کی وجہ سے اکثر لوگ زخمی یا ہلاک بھی ہو جاتے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ منجوناتھ کے پاس لائسنس یافتہ بندوق تھی اور وہ مبینہ طور پر گذشتہ برسوں میں بھی نیو ایئر کے موقع پر اس کا استعمال کر چکے ہیں۔
شیوموگا کے پولیس سپرنٹنڈنٹ جی کے متھن کمار نے بی بی سی ہندی کے عمران قریشی کو بتایا کہ سنیچر کو پارٹی کے دوران منجوناتھ بندوق لوڈ کر رہے تھے جب اُن سے ’غلطی سے ٹریگر دب گیا‘ جس سے ان کے بیٹے کے دوست وِنے کو گولی لگ گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس اہلکار نے کہا ’اسلحے کا استعمال صرف مخصوص حالات میں کیا جا سکتا ہے۔ جشن کے لیے ہوا میں فائرنگ کرنے کے لیے نہیں۔‘
اس واقعے کے بعد وِنے کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں اتوار کی شام ان کی موت ہو گئی۔
پولیس کے مطابق ’اس واقعے کے بعد منجوناتھ اولیکر صدمے میں چلے گئے اور گر پڑے۔‘
شیوموگا کے لوگ اس عجیب و غریب واقعے سے اس قدر صدمے میں ہیں کہ جو لوگ منجوناتھ کو نہیں جانتے تھے وہ بھی تعزیت کے لیے ان کے گھر گئے۔
ایک شخص نے کہا ’مجھے اتنا افسوس ہوا کہ میں ان کی تعزیت کے لیے چلا آیا۔‘
’گاڑی روکنے اور لڑکی کی مدد کرنے کے بجائے ڈرائیور اسے گھسیٹتا رہا‘
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں سال 2023 کے آغاز کے چند گھنٹے بعد ہی ایک سڑک حادثے میں ایک نوجوان خاتون کی المناک موت ہوئی جس پر شہریوں کی جانب سے غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پولیس اہلکاروں کے مطابق کار سے ٹکرانے کے بعد لڑکی کا جسم کار میں پھنس گیا اور وہ کئی کلومیٹر تک گھسیٹتی چلی گئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس متاثرہ لڑکی کو دہلی کے منگل پوری میں واقع ایس جی ایم ہسپتال لے گئی جہاں اسے مردہ قرار دیا گیا۔
سوشل میڈیا پر اس سے متعلق تشویش پائی جاتی ہے اور لوگ اسے بے حسی کی انتہا قرار دے رہے ہیں۔
ایک میڈیا ہاؤس نے لکھا کہ ’لڑکی کو 12 کلومیٹر تک گھسیٹا گیا‘ جبکہ بعض دیگر نے ’چار کلومیٹر‘ کا دعویٰ کیا ہے۔
دہلی کے ڈی سی پی ہریندر سنگھ کے مطابق ’لڑکی کے جسم کے پچھلے حصوں اور سر کے پچھلے حصے پر شدید قسم کے زخم آئے۔‘
سوشل میڈیا پر ’ریپ اور قتل‘ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ محض ایک حادثہ ہے۔ متاثرہ لڑکی کے ساتھ ریپ کے شواہد نہیں۔‘
نیوز ایجنسی اے این آئی نے ڈی سی پی سنگھ کے حوالے سے بتایا کہ اس معاملے میں پانچ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزمان کی شناخت گاڑی کے رجسٹریشن نمبر کی بنیاد پر کی گئی۔
اے این آئی نے متاثرہ لڑکی کی والدہ کے حوالے سے کہا ہے کہ انھوں نے ’اب تک اپنی بیٹی کی لاش نہیں دیکھی۔‘ پولیس نے لاش کے پوسٹ مارٹم کے لیے ایک ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
دوسری طرف اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے دلی کی خواتین کمیشن نے دہلی پولیس کو نوٹس دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے پولیس حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ یکم جنوری بروز اتوار صبح 3:24 بجے کنجھاوالا پولیس سٹیشن کو فون کال کے ذریعے اطلاع ملی کہ ایک کار ایک شخص کو گھسیٹ رہی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ’صبح 4.11 پر ایک اور کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ ایک لڑکی کی لاش سڑک پر پڑی ہے۔‘
ڈی سی پی ہریندر سنگھ نے کہا کہ ’یہ سنگین معاملہ ہے۔ یہ ایک بدقسمت حادثہ تھا۔ گاڑی کو روکنے اور متاثرہ کی مدد کرنے کے بجائے، وہ (کار ڈرائیور) اسے گھسیٹتا رہا۔‘
’ہوسکتا ہے کہ شروع میں انھیں معلوم نہ ہوا ہو کہ کوئی گاڑی کے نیچے ہے لیکن بعد میں جب انھیں معلوم ہوا تب بھی انھوں نے غلطی کو سدھارنے کی کوشش نہیں کی۔ ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ملزمان نے بتایا ہے کہ گاڑی میں اونچی آواز میں میوزک چل رہا تھا۔‘
کیا وہ نشے میں تھے؟ اس سوال پر انھوں نے کہا کہ اس وقت وہ نشے میں تھے یا نہیں اس کی تفتیش کی جائے گی۔
پولیس کے مطابق اس واقعے کا کوئی عینی شاہد نہیں۔ پولیس کو جو کال موصول ہوئی وہ اس شخص نے کی تھی جو گاڑی کے پیچھے تھا، اسے لگا کہ گاڑی سے کسی کو گھسیٹا جا رہا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’ہمیں گاڑی کا نمبر مل گیا۔ کار کا مالک خود گاڑی میں نہیں تھا لیکن اس کے دوستوں نے اس سے گاڑی لی تھی۔ ہم پانچوں لوگوں کے گھر پہنچے اور انھیں گرفتار کر لیا۔‘
یہ بھی پڑھیے
’ملزمان نے بتایا کہ کافی دور جانے کے بعد انھیں معلوم ہوا کہ لاش کو گاڑی کے ساتھ گھسیٹا جا رہا ہے۔ وہاں انھوں نے اپنی گاڑی کو پیچھے کیا۔ جسم الگ ہو گیا اور پھر وہ چلے گئے۔‘
ڈی سی پی نے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر جو تصویر اور ویڈیو دکھائی جا رہی ہے وہ سامنے (جسم کے اگلے حصے) کی ہے۔ ہمارے پاس پچھلے حصے کی تصویریں بھی ہیں، جہاں جسم اور سر کا پچھلا حصہ پوری طرح گھس گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ محض ایک حادثہ ہے۔ ’سوشل میڈیا پر بغیر کسی تحقیقات کے غلط معلومات دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘
دہلی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن سواتی مالیوال نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خواتین کی حفاظت پر سوال اٹھایا ہے۔
انھوں نے کہا کہ دہلی کی سڑکوں پر شرابی لڑکوں نے ایک لڑکی کو اس کی کار میں کئی کلومیٹر تک گھسیٹا۔ سڑک پر اس کی لاش برہنہ حالت میں ملی۔ یہ بہت خوفناک معاملہ ہے۔ دہلی پولیس کو سمن جاری کر رہے ہیں کہ نئے سال کے موقع پر وہاں سکیورٹی کے کیا انتظامات تھے؟‘
نیوز ایجنسی اے این آئی نے لڑکی کی ماں کے حوالے سے بتایا کہ انھوں نے ابھی تک اپنی بیٹی کی لاش نہیں دیکھی۔
اے این آئے کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’میری بیٹی میرے لیے سب کچھ تھی، وہ کل (سنیچر) کی شام پنجابی باغ اپنے کام پر گئی تھی۔‘
’میری بیٹی شام ساڑھے پانچ بجے گھر سے نکلی تھی۔ اس نے بتایا تھا کہ وہ رات 10 بجے تک گھر آجائے گی۔ مجھے صبح اس کے حادثے کی اطلاع ملی۔‘
سوشل میڈیا پر مختلف نظریات
فلم ساز اور مصنف ہرینی کلیمر نے لکھا کہ ’خوفناک۔ یہ مرد کتنے نشے میں تھے کہ گھسیٹے جانے کو محسوس بھی نہیں کر سکے؟ اور یہ بھی کہ اگر ان کے نام شہ سرخیوں میں نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا تعلق اقلیتی برادری سے نہیں۔‘
بی بی سی کے سابق صحافی شوکانت نے لکھا کہ ’دلی کے سلطان پوری کا واقعہ یہ دکھاتا ہے کہ (شراب) پی کر گاڑی چلانے کی درندگی نے سمجاج کو کتنا درندہ بنا دیا ہے۔‘
’کار کی ٹو وہیلر سے ٹکر ہونے کے بعد رک کر مدد کرنے کی انسانیت تو دور کی بات ہے، زندہ تڑپتی لڑکی کو 12 کلومیٹر تک گھسیٹ لے جانا ظلم کی وہ انتہا ہے جو یہیں ممکن ہے۔‘
دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’آج صبح کنجھاوالا سلطان پوری میں ہونے والے غیر انسانی جرم پر میرا سر شرم سے جھکا جا رہا ہے اور میں ملزمان کی درندہ صفت غیر حساسیت پر صدمے میں ہوں۔‘
کانگریس کی کارکن ڈکٹر شمع محمد نے لکھا کہ ’یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک لڑکی 12 کلومیٹر تک گھسٹتی چلی جائے اور کوئی نہ دیکھے؟‘
’نئے سال کے موقع پر کوئی پولیس گشت پر کیوں نہیں تھی؟ وہ تقریبا برہنہ کیوں پائی گئی؟ دہلی پولیس کو بہت سے سوالات کے جواب دینے ہیں۔‘
اسی طرح دیب روپ پالت نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’اگر یہ ایک حادثہ تھا تو لڑکی برہنہ کیوں ہے؟ اور اگر کوئی کار اسے ٹکر مارتی ہے تو وہ چار کلومیٹر تک گھسیٹتی کیسے چلی جائے گی۔‘
’وہ اسی وقت گھیسٹتی چلی جائے گی جب کوئی اسے کار سے باہر پھینکے۔ برہنہ ہوگی اگر اس کا ریپ کیا گیا ہو۔ کیا نئے سال پر دلی پولیس کی یہی تیاری اور سکیورٹی تھی؟‘