صبا اور فرح: سلمان خان کو راکھی باندھنے والی سر جڑی بہنیں جنھیں فراموش کر دیا گیا

    • مصنف, چندن کمار جاجوادے
    • عہدہ, بی بی سی ہندی ڈاٹ کام
    • مقام, پٹنہ

 یہ تقریباً 17 سال پہلے کی بات ہے جب سلمان خان نے پٹنہ کی جڑواں بہنوں کو ممبئی بلایا اور اُن سے راکھی بندھوائی۔ صبا اور فرح نامی ان بہنوں کو انڈیا کے مشہور اداکار کے ساتھ کیرم بورڈ کھیلنے کی خوشی آج بھی یاد ہے۔ سلمان خان کی مداح یہ دونوں بہنوں اُس ملاقات کے بعد کافی عرصے تک خبروں میں رہی تھیں۔

اگرچہ گزرے برسوں میں دنیا بہت بدل چکی ہے لیکن جو چیز نہیں بدلی وہ صبا اور فرح کی زندگی ہے۔ پیدائش سے لے کر اب تک دونوں بہنیں مسائل اور بگڑتی صحت کے مسائل میں گھری ہوئی ہیں لیکن اب انھیں پوچھنے والا کوئی نہیں۔ اب نہ تو میڈیا کے کیمرے ہیں اور نہ ہی ڈاکٹر ان کے باقاعدہ چیک اپ کے لیے پہنچتے ہیں۔

صبح اٹھ کر دانت صاف کرنے سے لے کر رات کو سونے تک کوئی بھی کام ان کے لیے اتنا آسان نہیں جتنا عام لوگوں کے لیے ہے۔ صبا اور فرح ہر لمحہ قدرت کے دیے ہوئے جسم کی سختیوں کا مقابلہ کرتی رہتی ہیں۔

دو الگ الگ جسموں اور شخصیتوں کے باوجود دونوں ایک ہیں۔ دونوں اکٹھے کھڑے ہوتی، ایک ساتھ بیٹھتی، اکٹھے کھاتی اور ایک ساتھ سوتی ہیں۔ انھیں نہانے، کپڑے بدلنے اور کھانا کھانے کے دوران جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسے سمجھنا آسان نہیں۔ 

اگر آپ پانی پینا بھی چاہتے ہیں تو ان کے لیے یہ عام انسانوں سے بالکل مختلف چیلنج ہے۔

جسمانی چیلنجز اور بیماری

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اب سردی بڑھ گئی ہے۔ ان دنوں ان دونوں بہنوں کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ ان کے ہاتھ پاؤں کے جوڑوں میں درد ہوتا ہے جس کی وجہ سے انھیں اٹھنے بیٹھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ انھیں بھوک بھی نہیں لگتی اور وہ ٹھیک سے سو بھی نہیں پاتیں۔

تھوڑی دیر بات کرنے سے بھی ان کے چہرے پر تھکاوٹ نمودار ہونے لگتی ہے۔ وہ بستر پر لیٹنے کی کوشش کرتی ہیں۔ فرح ایک لمحے پہلے بیڈ پر لیٹی تھیں، صبا کو اس سے کچھ تکلیف ہوئی لیکن صبا نے دو تین بار خود کو بیڈ پر لیٹنے رہنے پر مجبور کیا۔

اتنے چھوٹے سے کام میں صبا اور فرح کا یہ درد دیکھنا آسان نہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ سارا دن کیسے گزارتی ہوں گی۔ ایک کو نیند آتی ہے تو دوسری بہن کو بھی سونا پڑتا ہے۔

اگر ایک کو بیٹھنے کی طلب ہوتی ہے تو دوسری کو بھی بیٹھنا پڑتا ہے۔ جب ایک بہن ٹی وی دیکھتی ہے تو دوسری کو اس دوران دیوار کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ 

صبا بتاتی ہیں کہ پہلے وہ کچھ دیر ٹی وی دیکھتی تھیں لیکن آج کل ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لیے وہ مشکل سے ایک گھنٹہ ٹی وی کے سامنے بیٹھ سکتی ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ ایک بہن کے جسم میں درد ہوتا ہے تو دوسری بہن بھی اسے محسوس کرتی ہے۔ ایسا بچپن سے ہو رہا ہے۔

ایسے جڑواں بچے بہت کم ہیں

سنہ 2005 میں صبا اور فرح کا معاملہ اس وقت سرخیوں میں آیا جب انھیں علاج کے لیے دہلی کے اپالو ہسپتال لایا گیا۔

اس وقت ابوظہبی کے شہزادے محمد بن زید النہیان ان کے آپریشن کے اخراجات اٹھانے کے لیے تیار تھے۔

امریکہ کے نیورو سرجن بینجمن کرسن بھی ان بہنوں کا کیس دیکھنے دہلی پہنچے تھے۔ دونوں بہنوں کو الگ کرنے کا آپریشن کافی پیچیدہ تھا۔

دونوں کے کئی اہم اعصاب جڑے ہوئے تھے اور صبا کے جسم میں ایک گردہ بھی نہیں تھا۔ اس لیے ان کے گردے کی پیوند کاری کی بھی ضرورت تھی۔

اسی لیے گھر والوں نے آپریشن کا خطرہ مول لینا مناسب نہیں سمجھا۔

صبا کے بھائی کا کہنا ہے کہ ’اس سے ان دونوں کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی تھیں۔ ایک کے بچنے کا 10 فیصد بھی امکان نہیں تھا۔ ہم ابھی تک آپریشن کروانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

ڈاکٹروں کے مطابق ایسے جڑواں بچوں کی پیدائش کے بعد زندہ رہنے کے امکانات محض پانچ سے پچیس فیصد رہ جاتے ہیں۔

ان میں سے لڑکیوں کے زندہ رہنے کے امکانات لڑکوں سے زیادہ ہوتے ہیں۔ ایسے کیسز کے دستیاب ریکارڈ کے مطابق زندہ بچ جانے والے 600 جڑواں بچوں میں سے 70 فیصد لڑکیاں تھیں۔

سپریم کورٹ کی حمایت

صبا اور فرح کی نازک حالت کے پیش نظر 21 اگست 2012 کو سپریم کورٹ نے بھی ان کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد اکتوبر 2012 میں ایمس کی ایک ٹیم ان کا معائنہ کرنے پٹنہ آئی تھی۔

ایمس کی رپورٹ عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد اپریل 2013 میں سپریم کورٹ نے صبا فرح کے باقاعدہ چیک اپ اور نگرانی سے متعلق کئی احکامات دیے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پٹنہ میڈیکل کالج کو دونوں بہنوں کے باقاعدہ چیک اپ کا حکم دیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں ریاستی حکومت کو ان کی دیکھ بھال کے لیے ہر ماہ پانچ ہزار روپے ادا کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔ بعدازاں حکومت نے یہ رقم بڑھا کر 20 ہزار روپے کر دی تھی۔

صبا کے بھائی محمد تمنا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں ریاستی حکومت سے ہر ماہ 20 ہزار روپے ملتے ہیں۔ اس بارے میں حکومت سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ ایمس کی ٹیم ابتدائی طور پر تحقیقات کے لیے دہلی سے آئی تھی، اس کے بعد پی ایم سی ایچ کی ٹیم یہاں آتی تھی۔ وہ بھی کووڈ بیماری کے پھیلنے سے بہت پہلے آئی تھا، اس کے بعد نہیں آئی۔‘

بی بی سی نے صبا اور فرح پر باقاعدہ جانچ پڑتال کے لیے بہار حکومت سے بھی رابطہ کیا ہے۔

چار دن تک ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ آخر کار، پیر کی شام، پٹنہ میڈیکل کالج سے اطلاع ملی کہ صبا اور فرح کی معائنے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور اس جمعہ (9 دسمبر) کو پی ایم سی ایچ کی ٹیم ان کے معائنے کے لیے جائے گی۔

اپالو ہسپتال کے ڈاکٹروں کو آج بھی صبا اور فرح کا کیس یاد ہے۔ ہسپتال کے شعبہ تعلقات عامہ نے ڈاکٹروں سے بات کی اور بتایا کہ یہ کیس ان کے پاس کئی سال پہلے آیا تھا لیکن اس کے بعد یہ لوگ دوبارہ نہیں آئے۔

دوسری جانب دہلی کے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی ایمس کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر ایم سی مشرا کا کہنا ہے کہ ’ہاں مجھے یاد ہے۔ صبا فرح کا کیس بہت پیچیدہ تھا، اس کے والدین نے آپریشن کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ دونوں کی زندگیاں اسی حالت میں تھیں۔ اس میں خطرہ تھا۔‘

صبا اور فرح کا خواب

قدرت نے صبا اور فرح کو ایسا جسم دیا ہے کہ وہ خود گھر سے باہر نہیں نکل سکتیں۔ اس لیے وہ کبھی سکول نہیں جا سکیں اور نہ ہی کوئی باقاعدہ تربیت لے سکیں۔

چند سال پہلے انھیں گھر پر پڑھانے کی کوشش کی گئی لیکن یہ بھی ممکن نہیں ہو سکا۔

فرح کہتی ہیں ’میں ٹیچر بننا چاہتی تھی اور یہ (صبا) ڈاکٹر۔ پہلے ہم پڑھتے اور لکھتے تھے، لیکن وہ سلسلہ بھی دو سال سے بند ہو گیا۔ ہمارے پیروں اور ہاتھوں میں درد رہتا ہے۔‘

اتنے چیلنجز کے بعد بھی وہ دونوں ایک ہی سوچ رکھتی ہیں۔ دونوں کا دماغ ایک ہی طرح سے سوچتا ہے اور دونوں کے خیالات ایک دوسرے سے بہت ملتے ہیں۔

صبا کا کہنا ہے کہ ’اب ہمارا ایک ہی خواب ہے، ہم مکیش امبانی سے ملنا چاہتے ہیں، ہم سلمان خان سے مل چکے ہیں، لیکن ہم ان سے دوبارہ ملنا چاہتے ہیں۔‘

صبا اور فرح نے بھی اپنے الگ ووٹر کارڈ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی ہے۔ جس کے بعد الیکشن کمیشن نے انھیں مختلف ووٹر کارڈ دیے۔

سنہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں دونوں نے الگ الگ ووٹ بھی ڈالے تھے۔

اب صبا اور فرح خود بھی الیکشن لڑنا چاہتی ہیں۔ الیکشن لڑنے کا نام لیتے ہی دونوں کے چہروں پر چمک آ جاتی ہے۔

ان کے خاندان کو صرف ایک ڈاکٹر کا انتظار ہے جو پٹنہ آ کر دونوں بہنوں کا معائنہ کر سکے کیونکہ وہ ان کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہے۔

صبا اور فرح کی والدہ رابعہ خاتون نے ہم سے بات نہیں کی۔ حالانکہ بیٹیوں کی پریشانی ان کے چہروے پر عیاں تھی۔ جب کہ والد محمد شکیل پٹنہ سٹیشن کے قریب کھانے کا ایک سٹال لگاتے ہیں۔ وہ گھر پر نہیں تھے۔ محمد شکیل کی سات بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔

صبا فرح کے بھائی محمد تمنا کا کہنا ہے کہ ’اب ہمارے لیے دونوں بہنوں کو معمول کے چیک اپ کے لیے کہیں بھی لے جانا آسان نہیں ہے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کا باقاعدہ چیک اپ کیا جائے اور ان کا مستقبل بہتر ہو۔ وہ کسی پر انحصار نہ کریں اور اپنا کام خود کر سکیں۔‘