انڈیا: ریاست بہار میں ’زہریلی‘ شراب پینے سے 31 افراد ہلاک

انڈیا کی ریاست بہار میں مینہ طور پر زہریلی شراب پینے سے کم از کم 31 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ بیس افراد کو ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے جس میں کئی کی بینائی چلی گئی ہے۔

تمام اموات ریاست بہار کے دو گاؤں میں ہوئیں۔

ریاست بہار میں شراب پینے اور فروخت کرنے پر 2016 میں اس وقت پابندی لگا دی گئی جب خواتین کی تنظیموں نے شراب پینے اور فروخت کے خلاف مہم چلائی کیونکہ کم آمدنی والے افراد اپنی آمدنی کا زیادہ حصہ شراب نوشی پر ضائع کرتے تھے۔

بہار کے علاوہ بھارت کی کئی اور ریاستوں میں شراب کی فروخت پر پابندی ہے جس کی وجہ مقامی طور پر تیار کی گئی شراب بلیک مارکیٹ میں فروخت ہوتی ہے جس سے ہر سال سینکڑوں لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔

تازہ ترین واقعہ میں ریاست کے دارالحکومت پٹنہ سے تقریبا 60 کلومیٹر شمال میں واقع سارن ضلع میں مردوں کو منگل کے روز الٹیاں آنا شروع ہوگئیں۔

بدھ اور جمعرات کے روز متعدد افراد ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئے جبکہ دیگر افراد علاج کے دوران دم توڑ گئے،۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مرنے والوں کی تعداد 31 بتائی گئی ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

سینیئر پولیس افسر سنتوش کمار نے بتایا کہ ہسپتال میں داخل کئی لوگوں کی بینائی چلی گئی ہے۔

ہاسپٹل کے سربراہ ساگر دولال سنہا نے کہا کہ اب تک 22 پوسٹ مارٹم کئے جا چکے ہیں۔

سینئر پولیس افسر سنتوش کمار نے کہا کہ حکام نے علاقے میں شراب کی غیر قانونی دکانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے۔

 کمار نے اے ایف پی کو بتایا، "ہم نے ایک درجن سے زیادہ شراب تاجروں کو گرفتار کیا ہے اور کچھ دیگر کو حراست میں لیا ہے۔

انٹرنیشنل اسپرٹ اینڈ وائن ایسوسی ایشن آف انڈیا کے مطابق، ملک میں ہر سال پانچ ارب لیٹر شراب پینے میں سے تقریباً 40 فیصد غیر قانونی طور پر تیار کی جاتی ہے۔

غیر قانونی شراب کو زیادہ طاقت ور بڑھانے کے لیے ایسے کیمکلز کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے اندھے پن اور جگر کو پہنچنے والے نقصانات موت کا سبب بن سکتا ہے۔

جولائی میں مغربی ریاست گجرات میں شراب پینے سے 42 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ گزشتہ سال اسی طرح کے ایک واقعے میں شمالی ریاست پنجاب میں تقریبا 100 افراد ہلاک ہوئے تھے۔