آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جب راجو کی نظر ’شیشے جیسی نظر آنے والی چیز‘ پر پڑی: انڈیا میں 80 لاکھ روپے کے ہیرے نے مزدور کی زندگی بدل دی
انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش میں راجو گونڈ نامی مزدور گذشتہ دس برس سے کوئلے کی کانوں میں کھدائی کر رہے تھے اور ان کی خواہش یہی تھی کہ کاش ان کے ہاتھ کوئی ہیرا لگ جائے اور ان کے غربت کے دن ختم ہوجائیں۔
بالآخر ایک طویل انتظار کے بعد وہ دن آ ہی گیا جب کھدائی کے دوران ان کے ہاتھ 19 عشاریہ 22 قیراط کا ایک بڑا ہیرا لگ گیا۔ امید کی جا رہی ہے کہ سرکاری نیلامی میں اس ہیرے کی قیمت تقریباً 80 لاکھ انڈین روپے (95 ہزار 570 ڈالر) لگے گی۔
راجو کو یہ ہیرا انڈیا کے شہر پنّا میں ایک کان کی کھدائی کے دوران ملا۔ یہ شہر ہیروں کے ذخائر کے لیے مشہور ہے اور یہاں موجود کانیں حکومت لوگوں کو لیز پر دیتی ہے تاکہ یہاں کھدائی کر کے ہیرے نکالے جا سکیں۔
راجو بھی تقریباً دس برس سے اس علاقے میں متعدد کانوں میں کھدائی کر رہے تھے اور ان کی کوشش یہی تھی کہ زیرِ زمین دفن کوئی خزانہ انھیں مل جائے۔
انڈین حکومت یہ کانیں نیشنل منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن (این ایم ڈی سی) کے ذریعے عام لوگوں کو لیز پر دیتی ہے۔
کھدائی کے دوران ملنے والے تمام ہیرے حکومت کے حوالے کیے جاتے ہیں اور وہی ان کی قیمت کا تعین بھی کرتی ہے۔
مدھیہ پردیش میں این ایم ڈی سی کے ایک افسر انوپم سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ کانیں مخصوص دورانیے کے لیے 200 یا 250 روپے میں لیز پر لی جا سکتی ہیں۔‘
یہ ایسا پہلا واقعہ نہیں جب مدھیہ پردیش میں کسی مزدور کو کھدائی کے دوران کوئی قیمتی ہیرا ملا ہو۔ اس سے قبل 2018 میں بندیل کھنڈ کے علاقے میں ایک مزدور کو ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کا ایک ہیرا ملا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انوپم سنگھ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ چھوٹے ہیرے یا قیمتی پتھر بہت سارے لوگوں کو ملتے رہے ہیں لیکن راجو گونڈ کو جو ہیرا ملا وہ اپنے وزن اور سائز کی وجہ سے انمول ہے۔
راجو کہتے ہیں جس کان سے انھیں یہ 80 لاکھ روپے مالیت کا ہیرا ملا، وہ ان کے والد نے دو ماہ قبل لیز پر لی تھی۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ ان کا خاندان زیادہ تر یہ کانیں مون سون کے مہینے میں لیز پر لیتا ہے کیونکہ اس وقت کھیتی باڑی کا کام بھی کم ہوتا ہے اور مزدوری بھی زیادہ نہیں ملتی۔
راجو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم بہت غریب ہیں اور ہمارے پاس کمائی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں تھا، تو ہم کانیں لیز پر اسی امید کے ساتھ لیتے ہیں تاکہ ہم کچھ پیسے کما سکیں۔‘
راجو نے کہانیاں سن رکھی تھیں کہ لوگوں کو بڑے ہیرے ملتے ہیں اور انھیں بھی یہی امید تھی کہ کبھی تو قمست کی دیوی ان پر بھی مہربان ہوگی۔
بدھ کی صبح راجو روزانہ کی طرح اپنی کان کی طرف گئے اور کسی قیمتی پتھر کی تلاش میں لگ گئے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک محنت طلب کام ہے۔ ہم ایک گڑھا کھودتے ہیں، مٹی اور پتھر باہر نکالتے ہیں اور باہر نکال گئے ہزاروں پتھروں کو دھوتے اور خشک کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ کہیں ان میں کوئی ہیرا تو موجود نہیں۔‘
اور پھر اس دن راجو کی محنت رنگ لے آئی اور انھیں انتہائی قیمتی ہیرا مل گیا۔
’میں پتھروں کو غور سے دیکھ رہا تھا کہ اچانک میری نظر شیشے جیسی نظر آنے والی ایک چیز پر پڑی، میں نے اسے اوپر اُٹھایا اور اس کی چمک دیکھی۔ مجھے اس وقت معلوم ہوا کہ میں نے ایک ہیرا ڈھونڈ لیا ہے۔‘
راجو نے اس ہیرے کو صاف کیا اور سرکاری دفتر چلے گئے جہاں اس ہیرے کے وزن اور قیمت کا تعین کیا گیا۔
انوپم کہتے ہیں کہ یہ ہیرا اگلی سرکاری نیلامی میں فروخت ہوگا اور اس کے بعد ٹیکس وغیرہ کی کٹوتی کے بعد تمام رقم راجو کے حوالے کر دی جائے گی۔
راجو کہتے ہیں کہ وہ اس پیسے سے اپنے خاندان کے لیے گھر تعمیر کریں گے اور اپنے بچوں کو تعلیم دلوائیں گے۔
لیکن سب سے پہلے وہ خود پر چڑھا ہوا 5 لاکھ کا قرض اتاریں گے۔
راجو کہتے ہیں کہ وہ یہ پیسہ ان 19 رشتہ داروں میں تقسیم کریں گے جو ان کے ساتھ رہائش پزیر ہیں۔
’میں کل پھر اپنی کان کی طرف جاؤں گا تاکہ مزید ہیرے تلاش کر سکوں۔‘