سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں اور پاکستانی طالبان کا بڑھتا پروپیگنڈہ: حکومت کو شدت پسندوں کے بیانیے پر کنٹرول میں کیا مشکلات درپیش ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عماد خالق
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
حالیہ مہینوں میں پاکستان میں شدت پسند کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں میں ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
رواں برس فروری میں ٹی ٹی پی کی جانب سے 147 حملوں کا دعویٰ کیا گیا تھا جبکہ 2025 کے پہلے مہینے میں کالعدم تنظیم نے ایسے حملوں کی تعداد 110 بتائی تھی۔
اگر 2024 کے اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو ٹی ٹی پی نے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر 1,758 حملے کرنے کا دعویٰ کیا اور ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری اعداد و شمار اور دعوؤں کے مطابق ان حملوں میں 1284 افراد ہلاک اور1661 زخمی ہوئے ہیں۔
جہاں ایک جانب کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے حملوں میں شدت آئی ہے وہیں ان کے پروپیگنڈے اور اس کے لیے استعمال کیے جانے والے میڈیا ذرائع کا دائرہ بھی وسعت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔
تحریکِ طالبان کے خلاف پاکستان کی جانب سے نہ صرف اپنی سرزمین اور سرحد پار افغانستان میں بھی کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان میدانِ جنگ میں تو طالبان کے خلاف موثر کارروائیاں کرنے میں کامیاب نظر آتا ہے لیکن ان کا شدت پسند تنظیم کے میڈیا آپریشنز پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔
پاکستانی طالبان کے بڑھتے میڈیا پروپیگنڈے اور حکومت کو اسے روکنے میں مشکلات پر بات کرنے سے قبل یہ جانتے ہیں کہ پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیے جانے والا ٹی ٹی پی کا میڈیا نیٹ ورک کیا ہے اور یہ کام کیسے کرتا ہے؟
ٹی ٹی پی کی نمائندگی کرنے والا ’عمر میڈیا‘ کیا ہے
کالعدم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کا پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیے جانے والے میڈیا ونگ 'عمر میڈیا' کہلاتا ہے جس کا نام افغان طالبان کے رہنما ملا محمد عمر کے نام پر رکھا گیا ہے۔
اس ونگ نے نہ صرف سنہ 2021 میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد سے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور رواں برس جنوری میں ٹی ٹی پی نےعمر میڈیا کی از سر نو تشکیل بھی کی اور ایک تفصیلی تنظیمی ڈھانچے کا اعلان کیا تھا۔ اس تشکیل نو کے دوران مرکزی میڈیا کمیشن کے ساتھ ساتھ آڈیو، ویڈیو، میگزین، ایف ایم ریڈیو اور سوشل میڈیا کے پانچ الگ شعبوں کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق عمر میڈیا کے نو رکنی مرکزی میڈیا کمیشن کی سربراہی کالعدم تنظیم کے کمانڈر منیب جٹ کے پاس ہے جو ماضی میں القاعدہ برصغیر نامی شدت پسند تنظیم سے منسلک رہ چکے ہیں۔
اس میڈیا ونگ میں طالبان کے علاوہ ماضی میں ٹی ٹی پی میں ضم ہونے والی شدت پسند تنظیموں جیسے کہ جماعت الحرار سے تعلق رکھنے والے کارکن بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عمر میڈیا کس طرح کا مواد بناتا ہے؟
بی بی سی مانیٹرنگ کے جائزے کے مطابق عمر میڈیا کی جانب سے طالبان کی کارروائیوں کی رپورٹنگ اور ان کے پروپیگنڈے کے لیے مختلف اقسام کا مواد تیار کیا جاتا ہے جن میں آڈیو اور ویڈیو کے علاوہ مختلف زبانوں میں رسالہ جات کی اشاعت بھی شامل ہے۔
گذشتہ برس ستمبر میں عمر میڈیا نے اعلان کیا تھا کہ وہ باقاعدگی سے چار رسالے، ایک پوڈ کاسٹ سیریز، لیکچرز اور ایک ہفتہ وار نیوز لیٹر شائع کر رہا ہے۔
طالبان کے میڈیا ونگ کی جانب سے جو مواد جاری یا شائع کیا جاتا ہے اس میں پاکستان میں فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادراوں کے اہلکاروں پر حملوں کی ویڈیوز کے علاوہ ایسی پروپیگنڈا ویڈیوز بھی شامل ہیں جن میں عسکری اہلکاروں کی لاشیں یا ان سے مبینہ طور پر زبردستی حاصل کیے جانے والے بیانات دکھائے جاتے ہیں۔
یہ مواد عمر میڈیا کی ویب سائٹ پر شائع کیا جاتا ہے اور اسے گروپ کے مخصوص سوشل میڈیا اکاؤنٹس، واٹس ایپ اور ٹیلی گرام جیسی پیغام رساں ایپس کے ذریعے بھی پھیلایا جاتا ہے۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
حالیہ کچھ عرصے میں عمر میڈیا کھل کر پاکستانی حکومت اور سکیورٹی فورسز کے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے اور روز بروز اس میں شدت آ رہی ہے۔
بی بی سی مانیٹرنگ کے ایک جائزے کے مطابق اس پروپیگنڈے کی شدت میں اضافہ اس وقت ہوا جب گذشتہ برس دسمبر میں پاکستانی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے جنوب مشرقی افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں ایک فضائی کارروائی کے دوران ٹی ٹی پی کے عمر میڈیا کے ہیڈ کوارٹر کو تباہ کیا ہے۔
افغان حکام نے اس کارروائی کو ایک پناہ گزین کیمپ پر بمباری قرار دیتے ہوئے سرکاری سطح پر احتجاج ریکارڈ کروایا تھا اور اور خبردار کیا تھا کہ افغانستان کی علاقائی خودمختاری طالنان کے لیے سرخ لکیر ہے اور وہ اس حملے کا جواب دے گا۔
اس حملے کے بعد عمر میڈیا نے کم از کم دو ایسی ویڈیوز اور دو بیانات جاری کیے جس میں پاکستانی حکومت کے ان کے ہیڈکوارٹر کی تباہی کے دعوؤں کی نفی کی گئی تھی۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں عمر میڈیا کے سربراہ منیب جٹ بھی غیر معمولی طور پر سامنے آئے اور انھوں نے اس دعوے کی تردید کی تھی کہ وہ اور ان کے ساتھی ان حملوں میں مارے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ عمر میڈیا کی جانب سے جو بھی معلومات یا مواد شائع کیا جاتا ہے اس میں مبالغہ آرائی کا عنصر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
نیوز ویب سائٹ خراسان ڈائری کے ایڈیٹر اور ٹی ٹی پی کی کارروائیوں پر نظر رکھنے والے صحافی افتخار فردوس کے مطابق ’اگر آپ اصل واقعے کو دیکھیں اور ان کے دعوے دیکھیں اور اگر ان کا فیکٹ چیک کیا جائے تو ان کی جانب سے ہلاکتوں کے اعدادوشمار ہوں یا املاک کا نقصان، بیشتر اوقات مبالغہ آرائی پر مبنی ہوتا ہے اور فیک نیوز کے زمرے میں آ جاتا ہے۔‘
سابق وفاقی وزیر برائے قومی سلامتی جنرل (ر) نعیم خالد لودھی کے مطابق 'ٹی ٹی پی میدان جنگ میں تو پاکستان کی مسلح افواج کے سامنے شکست کھا رہی ہے مگر اپنی چند کارروائیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا اس مقصد سوشل میڈیا کے میدان میں خود کو زندہ رکھنا ہے۔'
حال ہی میں عمر میڈیا کی جانب سے کیے جانے والے پروپیگنڈے میں ایک نئی حکمت عملی اور رجحان دیکھنے میں آیا ہے اوراب عوام کو حکومت کے خلاف اُکسانے والے اور ملکی سیاسی صورتحال سے متعلق بیانات بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔
مثال کے طور میں حال ہی میں ٹی ٹی پی نے پروپیگنڈا کرتے ہوئے پاکستان کی داخلی سیاسی صورتحال میں حکومت مخالف مظاہروں میں فوج مخالف جذبات کو بھڑکانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کو 'مظالم' قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔
اسی طرح ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر لکی مروت میں کشیدگی کے دوران مقامی کمیونٹیز کی مشکلات اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے متعدد بیانات بھی جاری کیے گئے تھے۔
افتخار فردوس کہتے ہیں کہ ’اگر ہم حالیہ تناظر میں دیکھیں تو ٹی ٹی پی نے اپنے پروپیگنڈے کے بیانیے میں ایک بڑی تبدیلی کی ہے اور پاکستان کے اندر موجود سیاسی تقسیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے مقبول بیانیے کو اپنانے کی کوشش کی ہے اور اس طرح وہ عوام کو ریاست، حکومت پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شدت پسندوں کے بیانیے کو روکنے میں درپیش چیلنجز
طالبان کی زمینی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ عمر میڈیا تواتر سے مختلف ذرائع ابلاغ پر حکومت اور فوج مخالف پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہے اور ریاست تمام وسائل ہونے کے باوجود بھی اس کے مکمل تدارک میں کامیاب دکھائی نہیں دیتی۔
اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ 'دہشتگرد اپنا پروپیگنڈا سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلاتے ہیں اور صرف حکومت یا ملک کا سائبر کرائم ونگ اسے نہیں روک سکتا۔'
انھوں نے اس معاملے کی پیچیدگی کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پاکستان کے باہر سے آپریٹ کیے جا رہے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، سائبر کرائم ونگ کے لیے یہ عملی طور پر ممکن نہیں کہ وہ ان تمام ممالک سے چلائے جانے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی شناخت اور روک تھام کر سکے۔'
انھوں نے کہا کہ 'جن ممالک سے یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز چلائے جا رہے ہیں انھیں چاہیے کہ وہ جس طرح اپنے ملک میں ایسے پروپیگنڈے کو پھیلنے سے روکتے ہیں ویسے ہی اسے پاکستان میں بھی سوشل میڈیا پر پھیلنے سے روکیں۔'
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ 'اسی وجہ سے ہمیں پھر پاکستان میں کچھ پلیٹ فارمز پر پابندی لگانی پڑتی ہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ لوگوں کی آزادی اظہار رائے کی آزادی سلب نہ ہو کیونکہ پلیٹ فارم بند کرنے سے لوگوں کے جائز حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں۔'
اسی بارے میں ڈاکٹر خرم اقبال کا کہنا ہے کہ اس پروپیگنڈا کو مؤثر انداز میں کاؤنٹر کرنے میں جو مشکل رہی ہے اس میں سب سے اہم یہ ہے حکومت پاکستان کو اس بیانیے کو رد کرنے کے لیے مستند پیامبر حاصل نہیں ہیں یعنی وہ لوگ جن پرعوامی اعتماد ہو۔
ڈاکٹر خرم کہتے ہیں کہ ’اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک خوف اور دوسری معاشرے میں مذہب کی بنیاد پر شدت پسندی کو لے کر پائے جانے والا ابہام۔ پاکستان میں جب بھی کوئی فرد یا تنظیم مذہب کا نام لے کر آگے بڑھتی ہے تو لوگ اسے تنقیدی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔
’اگر خوف کی بات کریں تو ماضی میں کچھ لوگوں نے عوامی سطح پر ان شدت پسند تنظیموں کے بیانیے کو چیلنج کیا مگر یا تو وہ مارے گئے یا پھر انھیں ملک چھوڑ کر کہیں اور پناہ لینی پڑی۔
صحافی افتخار فردوس نے بی بی سی سے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً عمر میڈیا جیسے پروپیگنڈا ٹول یا ذرائع کو روکنا مشکل ہے لیکن حکومت کو اس ضمن میں درپیش مشکلات کی دیگر کچھ اہم وجوہات بھی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست پاکستان کو شدت پسند تنظیموں کی جانب سے پروپیگنڈے کو روکنے میں جو سب سے زیادہ مشکل پیش آ رہی ہے اس میں نئی ٹیکنالوجی اور اس سے منسلک پلیٹ فارم بھی ایک وجہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کے ان اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو نیکٹا جیسے ادارے جو اس پروپیگنڈے کو روکنے کا کام کر رہے ہیں وہ ابھی بھی ٹیکنالوجی اور پالیسی کے اعتبار سے ایسا لگتا ہے کہ سنہ 2000 کی دہائی میں کام کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ کاؤنٹر پروپیگنڈا کے حکومتی پلان میں کوئی جدت، کوئی حکمت عملی نظر نہیں آتی۔
افتخار فردوس اپنے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی خریدنا ہی سوال نہیں ہے بلکہ اس کو استعمال کرنے کی صلاحیت بھی ہونی چاہیے جو کہ ریاستی اداروں میں آج کے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ ریاست کی کچھ حدود ہوتی ہیں جبکہ ان شدت پسند تنظیموں کے نہ تو کوئی اصول ہیں اور نہ ہی حدود۔۔۔ریاست کے لیے ایک پیچیدہ صورتحال کا آسان جواب دینا یقیناً مشکل ہوتا ہے۔
افتخار فرودس کہتے ہیں کہ ریاست اس شدت پسندی خاص کر ٹی ٹی پی کے معاملے کو مذہبی رنگ دے کر کھیل رہی ہے مگر وہ یہ بھول رہی ہے کہ مذہبی گراؤنڈ طالبان کا ہے اور اگر آپ اس کے میدان پر کھیلے گے تو یقیناً آپ کے لیے مشکل ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شدت پسندوں کے پروپیگنڈے کو روکنے کی حکمتِ عملی
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے پروفیسر اور شدت پسند تنظیموں کے بیانیے کے خلاف حکومتی اقدامات اٹھانے والی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر خرم اقبال کہتے ہیں کہ حکومت اور افواج پاکستان کی طرف سے ایک عرصے سے اس جھوٹے، شدت پسندی اور مذہبی منافرت پر مبنی بیانیے کی نفی کرنے پر کام ہو رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’فوج کا شعبہ تعلقات عامہ شدت پسندوں کے بیانیے کو رد کرنے کے لیے بہت بہتر کوشش کر رہا ہے‘۔
ان کے مطابق ’فوج اور حکومت نے مل کر نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی بلکہ روایتی میڈیا کے ذریعے ایک طویل عرصے سے شدت پسندوں کے پروپیگنڈا کو شکست دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
’اس سلسلے میں ڈرامے، گانے، فلمیں بنائی گئیں۔ ادیبوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ اپنی تصانیف اور شاعری کے ذریعے شدت پسند تنظیموں کے بیانیے کو رد کریں اور ان تنظیموں کے جھوٹے بیانات اور دعوؤں کو رد کرنے کے لیے اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی کا سہارا بھی لیا گیا۔‘
خرم اقبال کا کہنا تھا کہ ’فوج نے اب ایسی حکمت عملی بھی اپنائی ہے جس میں اس نے خود بطور پارٹی سامنے آنے سے گریز کرتے ہوئے معاشرے کے مختلف شعبہ جات سے حمایت حاصل کی ہے۔ تاہم اب بھی اس میں بہتری کی گنجائش ہے۔‘
اسی معاملے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دفاعی امور کے ماہر بریگیڈیئر (ر) فاروق حمید نے کہا کہ یہ جدید ٹیکنالوجی کے دور کی ففتھ جنریشن وار فیئر ہے۔ 'جہاں ٹی ٹی پی افواج پاکستان کے خلاف اپنی کارروائیوں کو حقیقت کے برخلاف بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے پاکستان کی افواج کے شعبہ تعلقات عامہ میں بھی اب بھرپور انفارمیشن وار فیئر پر لوگ کام کر رہے ہیں اور وہ جدید ٹیکنالوجی سے شدت پسندوں کے بیانیے کی نفی کر رہے ہیں۔'
ان کے مطابق 'اب نئے قوانین کے ساتھ ایک بڑی تبدیلی آئی ہے اور ٹی ٹی پی سمیت دیگر شدت پسند تنظیموں کے حامی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کریک ڈاؤن ہوا ہے جس سے منافرت، شدت پسندی، اشتعال انگیزی کے بیانیے کو ختم کرنے میں کامیابی مل رہی ہے۔'
وہ کہتے ہیں کہ آرمی چیف کی جانب سے ریاست کو ہارڈ سٹیٹ بنانے کی بات کے پیچھے یہ ہی مقصد ہے کہ ریاست ان تمام عوامل، افراد کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائے گی جو ایسے کسی بھی گروہ، تنظیم یا فرد کو ریاست کے خلاف کوئی بھی منفی انداز میں بات کرے یا ان شدت پسندوں کے بیانیے کی حمایت کرے۔
تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا 'ڈیجیٹل دور میں یہ ایک غیر روایتی جنگ یعنی انفارمیشن وار فیئر ہے جو اتنی جلد ختم نہیں ہونے والی اور حکومت اور فوج کو اس پر قابو پانے میں وقت لگے گا۔'
ٹی ٹی پی کے پروپیگنڈا کو ناکام بنانے کی حکمت عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے جنرل (ر) نعیم خالد لودھی کا کہنا تھا کہ 'عمر میڈیا سمیت دیگر شدت پسند تنظیموں کے سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والا پروپیگنڈہ ان افراد پر زیادہ کارگر ثابت ہوتا ہے جو کسی بھی طرح کے سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی ظلم یا محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔ اس لیے حکومت کو عملی طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے کہ ملک کے کسی بھی طبقے کو سیاسی، معاشرتی اور معاشی طور پر محرومی کا احساس نہ ہوں۔ اور پھر ان اقدامات کی سچ کی بنیاد پر سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے تشہیر کرنا ہو گی۔'
صحافی افتخار فردوس کے مطابق 'آج کل کے سوشل میڈیا دور میں معلومات چھپ نہیں سکتی اور نہ ہی اس تک رسائی کو مکمل طور پر روکنا ممکن ہے، لہذا حکومت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صرف کسی بھی واقعے کی ہونے یا نہ ہونے کی خبر کو چھپانا یا روکنا اور ذرائع ابلاغ پر پابندی لگانا ہی اس کا کام نہیں بلکہ ایسے واقعات میں جلد از جلد ریاست کے بیانیے کو عوام تک پہنچانا ضروری ہے۔ '
ان کے مطابق 'حکومت کو ان تنظمیوں کے پروپیگنڈے کو ناکام بنانے کے لیے سٹرٹیجک کمیونیکیشن کے ایسے ماہر افراد چاہییں جو معاشرے میں موجود تقسیم کو بڑھانے کے لیے باریکی سے تیار کردہ بیانیے کی نہ صرف نفی کر سکیں بلکہ ان کے خلاف ایک مؤثر اور عملی بیانیے تشکیل دے سکیں۔ مگر بدقسمتی سے حکومت اب تک ایسے افراد کو استعمال میں لانے میں ناکام رہی ہیں۔ '
طالبان کے اندورنی اختلافات
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹی ٹی پی کے طاقتور پروپیگنڈا آپریشن کو حال ہی میں اندرونی تنازعات اور مبینہ لیکس کا سامنا رہا ہے، جس سے سکیورٹی خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
حال ہی میں ٹی ٹی پی کے کئی کمانڈروں کی ہلاکتوں کا تعلق تنظیم کی آن لائن موجودگی سے جوڑا گیا ہے۔
ٹی ٹی پی کے اندر پروپیگنڈا آپریشن اور سوشل میڈیا کو بغیر احتیاط یا بنا وی پی این کے استعمال کرنے کی بحث نے جنم لیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس سے ان کی لوکیشن اور ٹھکانوں کے ظاہر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں میں ٹی ٹی پی کے متعدد کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کو مجبوراً تنظیم کے لیے انتباہی پیغامات جاری کرنے پڑے جن میں انھیں آن لائن سرگرمیوں کو محدود کرنے اور احتیاط سے استعمال کرنے کا کہا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ٹی ٹی پی کے اندر دھڑا بندی اور عمر میڈیا کی طرز پر جماعت الاحرار سمیت دیگر گروہوں کے اپنے آزاد میڈیا ونگ استعمال کرنے کے اعلانات نے بھی اسے متاثر کیا ہے۔
اندورنی تقسیم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے سربراہ نے 20 فروری کو ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کالعدم تنظیم کی کارروائیوں میں کامیابی کے حصول کے لیے اتحاد اور اعتماد کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ایسے میں کیا عمر میڈیا کے پروپیگنڈے پر بھی منفی اثر پڑے گا؟
اس سوال کے جواب میں افتخار فردوس کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام شدت پسند تنظیموں کے مقابلے میں عمر میڈیا سب سے بڑا اور پرانا ہے۔ اس کے تقریباً 52 لاکھ سبسکرائبرز اور فالورز ہیں۔ اس اعتبار سے وہ کسی بھی شدت پسند تنظیم کے پروپیگنڈا میڈیا سے زیادہ فعال اور مؤثر ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر نور ولی محسود کے نظریے کو دیکھا جائے تو وہ ٹی ٹی پی کو ایک منظم فوج کی طرح چلاتے ہیں اور ان کے بیان کا مقصد بھی یہ ہی تھا کہ عمر میڈیا سمیت دیگر اراکین کی جانب سے بھی جو بیان دیا جائے وہ ٹی ٹی پی کی شوریٰ سے منظور شدہ ہو۔
وہ کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی میں اس وقت تقریباً چھوٹے بڑے 72 گروہ شامل ہیں اور اس میں بڑا گروہ جماعت الحرار ہے اور وہ اب غازی میڈیا کے نام سے اپنا علیحدہ پروپیگنڈا میڈیا ونگ چلاتے ہیں اور ٹی ٹی پی ان کے متعدد بیانات اور اعلانات سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے کیونکہ یہ کارروائیاں ان کے ایجنڈے میں فٹ نہیں ہوتیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ ٹی ٹی پی کے مخالف لشکر اسلام اور حافظ گل بہادر گروپ نے بھی اپنی کارروائیوں کے لیے علیحدہ سے اپنے پروپیگنڈا چینلز بنائے ہیں۔
’ٹی ٹی پی چاہتی ہیں کہ کوئی بھی ذیلی گروہ کسی بھی کارروائی کی تشہیر آزادانہ طور پر اپنے کسی سوشل میڈیا یا آن لائن میڈیا پلیٹ فارم سے نہ کرے بلکہ تنظیمی ڈھانچے کے تحت مرکزی شوریٰ سے منظوری کے بعد عمر میڈیا سے ہی کیا جائے اس لیے ان کے میڈیا پروپیگنڈا کے حوالے سے یقیناً اندرونی اختلافات پائے جاتے ہیں۔‘












