’وژن پرو‘: ایپل نے جدید مکسڈ ریئلیٹی ہیڈ سیٹ متعارف کروا دیا، دو گھنٹے کی بیٹری اور قیمت 3499 ڈالرز

،تصویر کا ذریعہApple
- مصنف, شیؤنا میکیلم
- عہدہ, ٹیکنالوجی رپورٹر
ایپل نے تقریباً گذشتہ ایک دہائی کے دوران اپنے پہلے بڑے ہارڈویئر لانچ میں مکسڈ رئیلیٹی ہیڈ سیٹ ’ایپل وژن پرو‘ کو متعارف کروا دیا ہے۔ سنہ 2015 میں ایپل واچ کو متعارف کروائے جانے کے بعد سے اسے ایپل کا سب سے اہم پروڈکٹ قرار دیا گیا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ’ایپل‘ کے سی ای او ٹم کک نے کہا کہ نیا ہیڈ سیٹ ’بغیر کسی رکاوٹ کے حقیقی دنیا اور ورچوئل دنیا کو ملا دیتا ہے۔‘ ایپل نے اپنے جدید ترین آئی فون آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ ساتھ ’میک بُک ایئر‘میں بھی اپ ڈیٹس کا بھی اعلان کیا۔
کمپنی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ نئے ریئلیٹی ہیڈ سیٹ کی بیٹری دو گھنٹے تک چلے کی ہے اور اس کی قیمت 3499 ڈالر ہو گی اور یہ اگلے سال کے شروع میں امریکہ میں ریلیز کیا جائے گا۔
ایپل کے نئے ہیڈسیٹ کی قمیت اِس وقت مارکیٹ میں موجود ورچوئل رئیلٹی ہیڈسیٹس کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔ پچھلے ہفتے ’میٹا‘ کمپنی نے ہیڈسیٹ ’کوئیسٹ‘ لانچ کیا تھا، جس کی قیمت 449 ڈالر ہے۔
کیلیفورنیا میں کمپنی کے ہیڈکوارٹر ’ایپل پارک‘ میں ڈویلپرز کانفرنس میں نئے ہیڈسیٹ کی اجرا کی تقریب کے دوران ایپل کے حصص کی قیمت میں قدرے کمی ہوئی۔
بی بی سی ان میڈیا اداروں میں شامل ہے جنھوں نے اس تقریب میں شرکت کی۔
ایکسٹرنل بیٹری
’رئیلیٹی پرو‘ نامی اس مکسڈ رئیلیٹی ہیڈ سیٹ کی تصاویر سے یہ ایک بڑی آنکھوں کے گرد لپٹی سکی گوگلز کی طرح لگتا ہے۔
ایپل نے اندرونی بیٹری کو ہٹا کر اپنے ہیڈسیٹ کو چھوٹا اور ہلکا بنا دیا ہے۔ اس کے بجائے صارفین کو ایک بیرونی بیٹری رکھنی پڑے گی جو ایک تار کے ذریعے ہیڈسیٹ سے جڑتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سخت مقابلے بازی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی کی کامیابی اور عروج کے بعد سے ٹیکنالوجی کی دنیا سے منسلک افراد اپنے فونز، ائی پیڈز، ایپل واچز اور میک مشینوں پر جنریٹو مصنوعی ذہانت استعمال کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
اگر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مقابلے بازی کی بات کی جائے تو مائیکرو سافٹ اور گوگل کے مقابلے میں ایپل اب تک خاموش رہا ہے۔
لیکن مزید سافٹ ویئر انجینئرز کے لیے حالیہ ملازمت کے اشتہارات بتاتے ہیں کہ ایپل کمپنی اپنی مصنوعی ذہانت سے متعلق مصنوعات میں مہارت کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔
ایپل کی جانب سے 15 انچ کا میک بک ایئر لیپ ٹاپ اور اس کے آئی او ایس، آئی پید او ایس اور میک او ایس آپریٹنگ سسٹمز کو اپ ڈیٹ کرنے کی بھی توقع ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایپل کس طرح اپنی ورلڈ وائیڈ ڈویلمپرز کانفرنس میں دماغی صحت سے متعلق ایک آئی فون ایپ لانچ کرے گا۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کا گذشتہ ہفتہ:
ٹیکنالوجی کی دنیا میں گذشتہ ہفتے میٹا نے اپنا نیا کوئسٹ نامی ورچوئل رئیلیٹی ہیڈ سیٹ کو بہت سستی قیمت 499 ڈالرز میں متعارف کروایا تھا۔
لینووہ نے اپنا ’تھنک ریئلیٹی‘ نامی نیا ورچوئل ریئلیٹی ہیڈسیٹ جاری کیا ہے۔
اگرچہ میٹا نے بھی مکسڈ رئیلیٹی کے شعبے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے لیکن ابھی بھی یہ شعبہ مشکلات کا شکار ہے۔
انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن کے مطابق، ہیڈسیٹ مارکیٹ میں گذشتہ سال عالمی فروخت میں 54 فیصد کمی دیکھی گئی۔
اور میٹا کمپنی کے مالک مارک زکربرگ شائد یہ امید کر رہے ہوں گے کہ ایپل کے سربراہ کک اگلی بڑی چیز کے طور پر ہیڈ سیٹ پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔












