’پائلٹ کا نمک‘: 20 کپ کافی کے برابر طاقتور دوا جو پائلٹ کو دورانِ پرواز سونے نہیں دیتی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, زاریہ گورویٹ
- عہدہ, بی بی سی، فیوچرز
جب سے یہ خبر آئی ہے کہ انڈونیشیا کی ایک فلائٹ کے دوران دونوں پائلٹ سوئے ہوئے پائے گئے تو پائلٹوں کی تھکان اس ہفتے توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے لیکن عسکری تنظیمیں کئی دہائیوں سے اس مسئلے سے نمٹ رہی ہیں اور ان کے پاس اس کا ایک حیرت انگیز حل موجود ہے۔
یہ دلچسپ ادویات ایک نازی پائلٹ کی جیب سے دریافت ہوئیں۔ اس پائلٹ کو دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ میں بمباری کے دوران مار گرایا گیا تھا، اس وقت اس کی جیب سے میتھامفیٹامائن کی کچھ مقدار ملی تھی۔
اس وقت یہ جرمنی کی فضائی دفاعی فورس لفٹوافا کا اپنے پائلٹوں کو جگائے رکھنے کے لیے پسندیدہ نسخہ تھا جسے ’پائلٹ کا نمک‘ کہا جاتا تھا۔ اگرچہ اتحادی افواج کو اس بات کا شبہ تو تھا لیکن انھیں کامل یقین نہیں تھا۔
اس دوا کو فوری طور پر جانچ کے لیے بھیج دیا گیا تھا اور جلد ہی اس کے برطانوی ورژن پر کام شروع ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں بننے والی دوا کو بڑے پیمانے پر تقسیم کیا گیا تھا اور یورپ بھر میں رات گئے سینکڑوں مشنز کے دوران استعمال کیا گیا۔
لیکن یہ صرف شروعات تھی سنہ 1990/91 میں خلیجی جنگ کے دوران ایک ایسی ہی دوا ڈیکسٹروایمفیٹامائن، ایک بار پھر مقبول ہو گئی، جب اسے کویت میں عراقی افواج پر ابتدائی بمباری میں شامل لڑاکا پائلٹوں کی اکثریت نے استمعال کیا۔
آج بھی یہ گولی امریکی فوجی عملے کے زیر استعمال ہے۔ وہ اسے اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں یعنی پائلٹ کی تھکاوٹ، جو طویل مشن کے دوران ہوا بازوں پر طاری ہو سکتی ہے اور ان کا تحفظ خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
اس میں ایک خامی ہے، ایمفیٹامائن انتہائی نشہ آور ہو سکتا ہے اور یہاں تک کہ 1940 کی دہائی میں بھی اس کا وسیع پیمانے پر غلط استعمال کیا گیا تھا۔ لہٰذا، حالیہ برسوں میں، فوجی تنظیمیں ایک اور آپشن کی تلاش میں تھیں۔
سنہ 1970 کی دہائی میں نارکولیپسی اور طویل دن کی تھکاوٹ اور غنودگی کے علاج کے لیے تیار کردہ ایک دوا موڈافینیل بنائی گئی۔ لوگوں کو یہ جاننے میں زیادہ وقت نہیں لگا کہ اگرچہ یہ دوا لوگوں کو سونے سے روکنے میں مدد کر سکتی ہے لیکن اس کے طاقتور اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ پتا چلا کے اس دوا سے منصوبہ بندی، پیٹرن کی شناخت اور ورکنگ میموری کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ انتہائی تھکاوٹ کے حالات میں مجموعی علمی کارکردگی، احتیاط اور نگرانی کو بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔
موڈافینیل کی اپنی خامیاں ہیں۔ اس کے ضمنی اثرات میں پسینہ آنا، تیز سر درد اور یہاں تک کہ ہیلوسینیشن بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
ان خطرات کے باوجود بعض حالات میں یہ ان لوگوں کے لیے ایک زبردست مدد ثابت ہو سکتی ہے جنھیں جاگنا پڑتا ہے۔ ایک ابتدائی مطالعے میں اس دوا نے لوگوں کو 64 گھنٹے تک کی سرگرمیوں کے لیے چوکس رکھا اور اس کے اثرات کا موازنہ 20 کپ کافی پینے سے کیا گیا ہے۔
یہ کیسے کام کرتا ہے؟ اور یہ کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک طاقتور محرک
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
لڑاکا پائلٹوں کی دنیا میں دو طرح کی دوائیں ہوتی ہیں جنھیں گو پِلز اور نو گو پِلز کہا جاتا ہے۔ پہلی طرح کی ادویات مرکزی اعصابی نظام کی سرگرمی میں اضافہ کرتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ایمفیٹامائن کو عرف عام میں ’سپیڈ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
جبکہ دوسری دماغ اور جسم کے مابین پیغامات کی منتقلی کو سست کرتی ہے۔ ایسے حالات میں جہاں محتاط رہنے اور نیند کا وقت اہم ہوتا ہے فضائی افواج بعض اوقات جسم کو تعاون میں کمانڈ کرنے کے لیے ان ادویات کا استعمال کرتی ہیں۔ لہٰذا نیند سے نمٹنے کی ادوایات کے ساتھ یہ وہ جگہ ہے جہاں موڈافینیل آتا ہے۔
موڈافینیل وسیع پیمانے پر دستیاب ہے۔ سنگاپور، انڈیا، فرانس، نیدرلینڈز اور یہ امریکہ میں فضائی افواج کے استعمال کے لیے منظور شدہ ہے۔
دریں اثنا برطانیہ میں گارڈیئن اخبار کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ سنہ 2001 میں افغانستان میں جنگ کے آغاز سے قبل برطانوی وزارت دفاع نے اس دوا کا ایک بڑا ذخیرہ خریدا تھا۔ عراق پر حملے سے قبل 2002 میں ایک اور آرڈر حاصل کیا گیا تھا، اگرچہ ایک دفاعی تحقیقی ایجنسی نےاس دوا کے ساتھ تجربات کیے تھے لیکن مبینہ طور پر جنگی اہلکاروں نے ان کا استعمال نہیں کیا۔
درحقیقت صرف گذشتہ ایک دہائی کے دوران فضائیہ کے اہلکاروں نے کیمیائی مدد کے ساتھ سینکڑوں فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا۔
جب وہ آسمان میں یہاں وہاں گھومتے ہیں تو لڑاکا پائلٹوں کے پاس اکثر اپنے ارد گرد کا مشاہدہ کرنے اور یہ فیصلہ کرنے کے لیے صرف چند سیکنڈ ہوتے ہیں کہ خطرے پر کس طرح رد عمل ظاہر کرنا ہے۔ لہٰذا تھکاوٹ آسانی سے مہلک ہو سکتی ہے۔
لیکن عجیب بات یہ ہے کہ سخت پروازیں جن میں سنگین جنگ یا جنگی مشقیں شامل ہوتی ہیں وہ واحد پروازیں نہیں ہیں جہاں پائلٹ نیند کی کمی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں، درحقیقت بورنگ پروازوں میں بھی کئی چیلنجز ہوتے ہیں۔
نیدرلینڈز کے شہر سوسٹربرگ میں ڈچ وزارت دفاع میں ایرو سپیس میڈیسن ڈپارٹمنٹ کی سربراہ اور لیفٹیننٹ کرنل یارا ونگیلر جیگٹ کہتی ہیں کہ ’اگر آپ صرف چیزوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں تو پانچ گھنٹے جنگی مشن کے مقابلے میں زیادہ طویل محسوس ہوتے ہیں۔‘
تیز رفتار حالات میں ، جسم اپنی اندر تحریک پیدا کرنے کا مادہ ایڈرینالین پیدا کرتا ہے، جو کم از کم مختصر مدت کے لیے جسم کو محتاط رکھتا ہے اور تھکاوٹ کے احساسات کو کم کرتا ہے۔
دوسری طرف کم مصروف مشن بوریت کا باعث بن سکتے ہیں جو تھکاوٹ کے اثرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ ونگیلر جیگٹ کہتے ہیں کہ ’چند سال پہلے، جب ہمارے ٹیسٹ پائلٹوں نے ایک نیا مشن مکمل کیا تھا، تو انھوں نے شکایت کی تھی کہ اس وقت کی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے کیفین کافی نہیں تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ پرواز کے دوران انھیں بیدار رہنے میں مدد ملے۔‘
یہ جاننے کے لیے کہ آیا موڈافینیل اس کا حل ہوسکتا ہے، ونگیلر جیگٹ اور ان کے ساتھیوں نے رینڈومائزڈ کنٹرولڈ ٹرائل کیا۔ رائل نیدرلینڈز ایئر فورس کے رضاکاروں کو 17 گھنٹوں تک جگا کر رکھا گیا اور پھر یا تو موڈافینیل، کیفین یا پلیسیبو کی خوراک پیش کی گئی۔ اس کے بعد، ان کی ہوشیاری اور نیند کا جائزہ لیا گیا۔
محققین نے پایا کہ کیفین اور موڈافینیل دونوں مؤثر تھے، تاہم دوا نے طویل عرصے تک کام کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ پوری رات بغیر سوئے رہنے کے بعد بھی دوا لینے والے کچھ لوگوں نے محسوس کیا کہ وہ شاید ایک اور دن تک مستعد رہ سکتے ہیں۔
ونگیلر جیگٹ کہتی ہیں، ’موڈافینیل کی وجہ سے، وہ یقینی طور پر کم تھکاوٹ اور زیادہ چوکس محسوس کرتے تھے۔‘
’یہ صرف پائلٹ نہیں ہیں جو عسکری تناظر میں نیند کی کمی کے اثرات کا شکار ہوسکتے ہیں۔ کچھ خاص آپریشنز کو کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کے لیے کریو خاص طور پر ہیلی کاپٹروں پر جن میں ڈور گنر بھی شامل ہوسکتے ہیں جن کا کام ہتھیاروں کو ہدایات دینا اور فائر کرنا ہے اس کے علاوہ نیز اہم سامان کو لوڈ اور اتارنا بھی ان کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ زمین پر پائلٹوں کو اڑان بھرنے اور اترنے میں مدد کرنے کے لیے ہمیشہ ایئر ٹریفک کنٹرولر موجود ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک پیچیدہ مخمصہ
یقینا، فوجی اہلکاروں کو موڈافینیل جیسی تحریک دینے والی ادویات پیش کرنے میں سنگین اخلاقی اور قانونی مضمرات شامل ہیں۔ اگر کسی نے کسی مشن کی کامیابی کے لیے ضروری سمجھی جانے والی دوا لینے سے انکار کر دیا تو کیا ہوگا؟
کینیڈین مسلح افواج میں ان دواؤں کی اجازت دینے کے ممکنہ چیلنجوں پر ایک مطالعہ مندرجہ ذیل تضاد کو اجاگر کرتا ہے اگرچہ کینیڈا میں کسی کو دوا لینے پر مجبور کرنا قانونی نہیں ہے لیکن فوجی اہلکاروں کے لیے یہ ایک قانونی ضرورت ہے کہ وہ کسی بھی وقت، دن یا رات میں فرائض انجام دیں۔
اگر کسی کے لیے آپریشنل وجوہات کی بنا پر موڈافینیل لینا ضروری سمجھا جاتا ہے تو وہ انکار کرسکتا ہے لیکن اس کے بعد انھیں ناکام ہونے کا حق نہیں ہے۔
اور خطرہ بہت زیادہ ہوسکتا ہے، ہوائی جہاز پر سونے سے عام شہریوں سمیت بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوسکتی ہیں، اس کے علاوہ لاکھوں روپے کے طیاروں کا نقصان اور ایک اہم مشن کی ناکامی بھی ہوسکتی ہے۔
ونگیلر جیگٹ کا کہنا ہے کہ ’ہمارے لیے (رائل نیدرلینڈز ایئر فورس میں) یہ بہت اہم ہے کہ ہم کسی کو موڈافینیل لینے پر مجبور نہیں کرنا چاہتے۔ یہ تھکاوٹ کے خلاف ایک جوابی کارروائی ہے، لیکن یہ خود تھکاوٹ کو دور نہیں کرتا ہے۔ لہٰذا سب سے اہم بات یہ ہے کہ تھکاوٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے آپ کو اب بھی روسٹرنگ، شیڈولنگ یعنی فرائص کی ادائیگی کے اوقات پر زور دینا ہوگا۔‘
ونگیلر جیگٹ وضاحت کرتی ہیں کہ یہ سوال کرنا ضروری ہے کہ آیا ہر رات کے وقت پرواز واقعی ضروری ہے، حالانکہ کبھی کبھار انھیں ٹالا نہیں جاسکتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ جنگی منصوبے کے لیے بہتر ہو سکتا ہے، یا کسی خطرے کی وجہ سے اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔‘
اور موڈافینیل ایک کامل دوا نہیں ہے۔ تمام ادویات کی طرح اس کے بھی ضمنی اثرات ہیں جو ذہنی اور جسمانی بھی ہوسکتے ہیں۔
متعدد مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ یہ دوا لوگوں کو اپنے فیصلوں میں حد سے زیادہ اعتماد کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو 1،190 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتے وقت مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔ نازیوں کو دوسری جنگ عظیم کے دوران اپنی فضائیہ کو طبی امداد دیتے وقت بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
مجموعی طور پر انھوں نے صرف 1940 کے موسم بہار اور موسم گرما میں فوجی اہلکاروں کو تقریبا 35 ملین میتھامفیٹامائن گولیاں تقسیم کیں۔ تاہم، جلد ہی یہ بات سامنے آئی کہ منشیات کے عادی پائلٹوں کے فیصلے غلط تھے، اکثر ان کا خیال تھا کہ ان کی کارکردگی اچھی ہے، حالانکہ یہ حقیقت میں خوفناک تھی۔
آخر کار حکام کو تشویش ہوئی کہ یہ دوا جو پرویٹین برانڈ نام کے تحت فروخت کی جاتی تھیں، دراصل حادثات کا سبب بن سکتی ہیں۔
اور ایمفیٹامائن کی طرح موڈافینیلبھی نشہ آور ہوسکتی ہےتاہم اس کی شدت کم ہے۔ اس کا غلط استمعال بھی ممکن ہے۔ یہ دوا 2000 کی دہائی میں ایک مقبول سمارٹ دوا بن گئی جسے طلباء پڑھائی کرتے ہوئے پوری رات جاگنے کے لیے استعمال کرتے تھے یا وقت کی کمی کا شکارافراد کام پورا کرنے کے لیے استمعال کرتے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک بہت ہی مختلف تجویز
لیکن کمرشل پائلٹوں کے لیے اس سب کا کیا مطلب ہے؟ آخرکار ان کی طویل شفٹیں اکثر فوجی پائلٹوں کے مقابلے میں زیادہ منظم ہوتی ہیں اور وہ ہر سال بادلوں کے درمیان ایک ہزار گھنٹے گزارتے ہیں۔ اس لیے انھیں جیٹ لیگ اور انتہائی تھکاوٹ کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔
سنہ 2023 میں یورپ میں کام کرنے والے 6900 پائلٹوں کے ایک سروے میں پایا گیا کہ 72.9 فیصد نے محسوس کیا کہ انھیں شفٹوں کے دوران صحت بحال کرنے کے لیے مکمل آرام نہیں ملتا جبکہ تین چوتھائی کو پچھلے مہینے ڈیوٹی کے دوران مائیکرو سلیپ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ونگیلر جیگٹ کی رائے میں اگرچہ فوجی پائلٹوں کے لیے موڈافینیل کے فوائد تجارتی ہوا بازی پر بھی لاگو ہو سکتے ہیں لیکن یقینی طور پر انھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
’میں سمجھتی ہوں کہ کمرشل ایوی ایشن کے لیے ہمیں مزید باریک بین ہونے کی ضرورت کہ ہم اپنے پائلٹس اور معاشرے سے کیا چاہتے ہیں۔ کیا ہمیں واقعی اپنے کمرشل پائلٹوں کی ضرورت ہے جو ہمیں دوسرے شہر تک جانے کے لیے رات بھر پرواز کریں یا ہمیں یہ تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ انسانوں کی بھی اپنی حدود ہیں اور ہمیں نیند کی ضرورت کا احترام کرنا ہے۔‘
ونگیلر جیگٹ تجویز کرتی ہیں کہ موڈافینیل دوسرے پیشوں کے لیے کسی حد تک اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے جن میں طویل گھنٹےتک کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جیسے ہنگامی دیکھ بھال یا آگ بجھانا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ان بات میں کوئی شبہ نہیں کہ انھیں تھکاوٹ کے باوجود بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘
ایک مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ وہ ڈاکٹر جو ساری رات جاگتے تھےانھوں نے موڈافینیل لینے کے بعد مختلف کاموں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جو ان کے فرائض سے متعلقتھے۔ جیسے کہ منصوبہ بندی اور ورکنگ میموری سے متعلق مسائل اور ایسے میں وہ کم جذباتی ہوئے۔
تاہم عسکری پائلٹوں کی طرح اس کی بھی اخلاقی خرابیاں ہیں خاص طور پر یہ تشویش کہ طبی پیشہ ور افراد پر ان کے استعمال کے لیے دباؤ ڈالا جاسکتا ہے۔













