وہ کاسمیٹک سرجری جس کا استعمال عورتوں سے زیادہ مرد کر رہے ہیں

    • مصنف, الیجندرو میلان ویلنشیا
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ نیوز

’عورتیں عموماً اپنے سے چھوٹے قد کے مرد کے ساتھ ڈیٹ نہیں کرتیں۔ جس بات کا اکثر مجھے بڑی شدت سے احساس ہوتا تھا وہ یہ تھا کہ مجھے کبھی بیوی نہیں ملے گی۔‘

یہ کہنا ہے 30 سالہ سام کا جو ایک برطانوی ہیں اور جنھوں نے وہ کاسمیٹک سرجری کروانے کا فیصلہ کیا جس کا آج کل امریکہ، برطانیہ اور حتی کہ سپین کے مردوں میں بہت زیادہ رحجان ہے۔

یہ کاسمیٹک سرجری ٹانگوں کی لمبائی بڑھانے اور قد بہتر بنانے کی سرجری ہے۔

یہ ایک میڈیکل آپریشن ہے جس میں آپ کی ران کی ہڈی کو توڑ کر چند سینٹی میٹر بڑھایا جاتا ہے۔

سام کہتے ہیں کہ ’اس آپریشن کی وجہ سے وہ آٹھ سینٹی میٹر اپنا قد بڑھانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اور وہ چند ماہ کے دوران 1.62 میٹر سے 1.70 میٹر قد کے حامل ہو گئے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کے نامہ نگار ٹام براڈا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ دراز قد ہونا اور کامیاب ہونے کا آپس میں تعلق ہے۔ اس لیے مجھے اپنے مسئلے کا حل خود ہی نکالنا پڑا۔‘

اس آپریشن کے بعد کئی ہفتوں تک صحت یابی کا عمل شامل ہوتا ہے اور اس دوران مریض مہینوں تک چل بھی نہیں سکتا۔

لیکن صرف یہی نہیں، کچھ معاملات میں مرد چند انچ قد میں اضافہ حاصل کرنے کے لیے تقریباً 70,000 امریکی ڈالر ادا کرتے ہیں۔

یہ آپریشن کرنے والے ڈاکٹر کیون دیبی پرشاد نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ’یہ ایک تکلیف دہ آپریشن ہے، جس کا مطلب ایک طویل بحالی کا عمل ہے کیونکہ ہڈی کا ایک حصہ نرم ہے، اس لیے آپ کو اس وقت تک چلنے کے لیے انتظار کرنا چاہیے جب تک کہ وہ ہڈی دوبارہ جسم کے وزن کو سہارا دینے کے قابل نہ ہو سکے۔‘

دیبی پرشاد اپنے لاس ویگاس کے لمب پلاسٹ ایکس انسٹیٹیوٹ نامی کلینک پر ہر ماہ تقریباً ایسے 50 آپریشن کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مردوں میں اس کا رحجان بڑھتا جا رہا ہے۔

دیبی پرشاد کا کہنا ہےکہ ’اس لحاظ سے مردوں کا کاسمیٹک سرجری نہ کروانے کی معاشرتی ممانعت کا عنصر تیزی سے بدل رہا ہے اور یہ آپریشن ایک ایسا عمل بن گیا ہے جس کی وہ خاص طور پر خواہش کرتے ہیں۔‘

لیکن ایسا ہمیشہ سے نہیں تھا، برسوں تک خصوصاً مشرقی ممالک میں ٹانگیں لمبی کروانے کا آپریشن کروانے کا رحجان خواتین میں زیادہ تھا۔

مثال کے طور پر، مقامی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ چین میں بہت سی خواتین، اپنے مرد ہم منصبوں کے مقابلے میں زیادہ حد تک، زیادہ قد حاصل کرنے کے لیے اسی طرح کے آپریشن سے گزرتی ہیں۔

تاہم، مغربی ممالک میں اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ رحجان مردوں میں زیادہ ہے۔

یہ جمالیاتی نہیں بلکہ بحالی کا عمل ہے

یہ آپریشن کافی تنازعات کا شکار ہے۔

امریکی ایسوسی ایشن آف پلاسٹک سرجنز اور امریکن اکیڈمی آف آرتھوپیڈسٹ دونوں نے بی بی سی منڈو کو بھیجی گئی دستاویزات میں نشاندہی کی کہ ٹانگوں کو لمبا کرنے کی سرجری کاسمیٹک مقاصد کے لیے آرتھوپیڈک طریقہ علاج کا حصہ ہے۔

سب سے پہلے ہڈیوں کی سرجری کرنے کا یہ طریقہ کار ایک سویت سرجن ڈاکٹر نے دوسری عالمی جنگ کے دوران متعارف کروایا تھا جس نے زخمی ٹانگوں سے محروم ہو جانے والے فوجیوں کی بحالی کے لیے یہ طریقہ ایجاد کیا تھا۔

ان کا نام گیورل ایلیزاروف تھا، ایک معزز ڈاکٹر جنھوں نے میدان جنگ میں اپنے وقت کے دوران، اپنے طالب علمی کے زمانے میں کیے گئے تجربات کے ساتھ ساتھ دیکھا کہ ہڈیاں، خاص طور پر ران کی ہڈی بڑھنے اور خلا کو’پُر‘ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس وقت ایلیزاروف نے ایک تکنیک دریافت کی جس میں ہڈی کو توڑنا شامل تھا لیکن اس عمل میں ہڈی کا وہ حصہ جسے پیریوسٹم (ہڈی کا بیرونی حصہ) کہا جاتا ہے کو خراب کرنا یا توڑنا شامل نہیں تھا۔ اس تکنیک میں وہ ہڈی کو توڑ کر تھوڑا سے جدا کرتے اور ہڈی کے خود بڑھنے اور دو حصوں کے درمیان موجود خلا کو پر ہونے کا انتظار کرتے۔

دیبی پرشاد بتاتے ہیں کہ ’یہ تکنیک بہت ترقی کر چکی ہے، لیکن واقعی اس کا ابتدائی خیال ایک ہی ہے کہ ہم جو کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہڈی خود اس جگہ کو بھر دیتی ہے اور وہیں سے مریض کو مطلوبہ اضافی سینٹی میٹر حاصل ہو جاتے ہیں۔‘

بی بی سی منڈو نے اس حوالے سے متعدد سرجنوں سے مشورہ کیا اور انھوں نے وضاحت کی کہ اس کا معیاری طریقہ علاج یہ ہے کہ پہلے ٹانگوں کی ہڈیوں میں ایک ڈرل کے ذریعے ایک سوراخ کیا جاتا ہے۔ اور پھر انھیں دو حصوں میں توڑ دیا جاتا ہے۔

اس کے بعد ہڈیوں میں آپریشن کے ذریعے ایک لوہے کا راڈ ڈال کر پیچوں کی مدد سے کس دیا جاتا ہے۔

اس کے بعد اس راڈ کو روزانہ ایک ملی میٹر کھینچا جاتا ہے یہاں تک کہ مریض کو مطلوبہ قد تک کی لمبائی حاصل ہو جائے اس کے بعد ہڈی کو جوڑنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔

سام اور دیگر ایسے مریضوں کے لیے یہ عمل نہ صرف تکلیف دہ ہے بلکہ اس میں صحت یابی کا عمل بھی کافی طویل ہو سکتا ہے۔

سام نے بتایا کہ ’میرے پہلے معائنے پر ہی ڈاکٹر نے مجھ پر یہ واضح کر دیا تھا کہ یہ سرجری کتنی مشکل ہونے والی ہے۔ میں پریشان تھا کہ ان اضافی سینٹی میٹرز کے بعد میں کیا کر سکوں گا؟ کیا میں دوبارہ چل بھی سکوں گا؟ کیا میں اب بھی دوڑ سکوں گا؟‘

سام بتاتے ہیں کہ آپریشن کے بعد انھوں نے چھ ماہ تک، ہفتے میں تین سے چار دن تک فزیکل تھراپی بھی کروائی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بہت ہی توہین آمیز تجربہ تھا، یہ پاگل پن جیسا تھا، یہ ایسا تھا کہ آپ نئی ٹانگیں لینے کے بعد دوبارہ چلنا سیکھ رہے ہوں۔ یہ کاسمیٹک سرجری جیسا لگتا ہے لیکن مجھے اپنی ذہنی حالت کے لیے زیادہ خیال رکھنا پڑا۔‘

اس آپریشن سے جڑے خطرات

یہ ان پہلوؤں میں سے ایک ہے جو اس آپریشن کے متعلق طبی برادری کی سب سے زیادہ توجہ مبذول کرواتی ہے: کاسمیٹک مقاصد کے لیے اس طرح کے ناگوار طریقہ کار سے گزرنے کے خطرات۔

کچھ ماہرین اس آپریشن میں ممکنہ مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں جیسا کہ نسوں کو نقصان پہنچنا، خون کی شریانوں کا مسئلہ ہونا یا یہ بھی ممکن ہے کہ ہڈیاں مکمل طور پر دوبارہ نہ جڑ سکیں۔

ایک آرتھوپیڈک سرجن ہمیش سمسن نے بی بی سی کے نامہ نگار ٹام براڈا کو بتایا کہ ’اس طریقہ علاج میں گذشتہ دو دہائیوں کے دوران تکنیک اور ٹیکنالوجی میں کافی بہتری آئی ہے اور اس نے اس عمل کو زیادہ محفوظ بنا دیا ہے۔

تاہم زیادہ ہڈیاں بڑھانے، زیادہ پٹھے یا زیادہ خون کی شریانیں یا جلد کی نشوو نما کے عمل کے باعث یہ عمل آج بھی انتہائی پیچیدہ ہے۔‘

لیکن یہ صرف ایک جسمانی مسئلہ نہیں ہے۔ ماہرین نفسیاتی خطرات کے بارے میں بھی خبردار کرتے ہیں جن کو دھیان میں رکھنا ضروری ہے، جیسا کہ یہ حقیقت کہ ان میں سے کچھ مریضوں میں جسمانی خرابی ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ بات ہی انھیں یہ فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہے کہ وہ مریضوں کی نفسیاتی یا جسمانی صحت پر اس آپریشن کو ترجیح دیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایک اور برطانوی آرتھوپیڈک سرجن ڈیوڈ گڈئیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب اس قسم کے آپریشن کے لیے جراحی کی مہارت، کسی جگہ کا انتخاب کرنے یا اسے سستے میں کروانے کے مخمصے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو میں نہیں سمجھتا کہ لوگوں کو ان تمام ضروری چیزوں کے بارے میں علم ہوتا ہے جو غلط ہو سکتی ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جیسا کہ زیادہ تر یہ آپریشن بیرون ملک میں ہوتے ہیں۔ اور ایسے آپریشن جو خراب ہو جاتے ہیں وہ اکثر مقامی ڈاکٹروں نے کیے ہوتے ہیں جنھوں نے پہلے کبھی ایسا آپریشن نہیں کیا ہوتا۔‘

دیبی پرشاد بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ سادہ آپریشن نہیں ہے بلکہ اس کے بہت سے پہلو اسے پیچیدہ بناتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’آپریشن کے بعد کے مسائل اور مریض کی صحت کو بہتر رکھنے کے لے ہائی ٹیک آلات درکار ہوتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم مریض کو واضح طور پر اس آپریشن کے ممکنہ خطرات اور صحت یابی کے سست عمل کے متعلق بتا دیتے ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اس کے علاوہ ہم ایسے آپریشن کروانے والے افراد کو آپریشن کے بعد بھی صحت یابی کے لیے مدد فراہم کرتے ہیں تاکہ ان کے آپریشن کے بعد کے مطلوبہ نتائج کو یقینی بنایا جا سکے۔‘

مردانگی کا رحجان

لیکن جو بات ناقابل تردید ہے وہ یہ ہے کہ ٹانگوں کو لمبا کرنا ایک ایسا آپریشن ہے جس میں چند سینٹی میٹر حاصل کرنے کے لیے مرد زیادہ سے زیادہ خواہاں ہیں۔

کم از کم ایک درجن ممالک میں ایسے کلینک موجود ہیں جہاں اس قسم کا طریقہ کار انجام دیا جاتا ہے اور جن لوگوں سے بی بی سی منڈو نے امریکہ اور کینیڈا میں بات کی، انھوں نے اس تصدیق کی کہ مرد اس آپریشن کی زیادہ درخواست کرتے ہیں۔

دیبی پرشاد کہتے ہیں کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران مردوں میں اس آپریشن کو کروانے کی تعداد میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں ایسے مرد مریضوں سے جو سنتا ہو وہ یہ ہے کہ اب ہمیں اس قسم کا آپریشن کروانے سے خوف نہیں آتا اور یہ ہمارے اعتماد کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔‘

مرد جن وجوہات کے باعث یہ آپریشن کروانا پسند کرتے ہیں وہ ذاتی نوعیت کی ہیں مگر اگر فوربز میگزین کے شائع کردہ اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو دنیا کے پانچ سو امیر ترین افراد کا اوسط قد 1.82 میٹر تھا۔

یہ رجحان ان اعداد و شمار سے مطابقت رکھتا ہے جو امریکن ایسوسی ایشن آف پلاسٹک سرجنز نے بی بی سی منڈو کو دیئے تھے جس میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ مردوں میں پلاسٹک سرجری کروانے کے رحجان میں گزشتہ دہائی کے مقابلے میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

لیکن تمام ماہرین ایک نکتہ پر اتفاق کرتے ہیں کہ یہ ایک پیچیدہ، مہنگا، زیادہ خطرے والا آپریشن ہے جس میں بحالی کا ایک طویل عمل درکار ہے، اور جس کی نگرانی ماہرین کے ذریعے کی جانی چاہیے۔