انتقام کا انوکھا طریقہ: جب ملازمت چھوڑنے والی خاتون کو ہر روز 50 سے 100 نامعلوم پارسلز ملنے لگے

نوکری چھوڑ کر اپنا کاروبار شروع کرنے میں کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے لیکن بعض اوقات کسی کمپنی کے مالک کو اپنے کسی ملازم کی یہ بات پسند نہیں آتی اور وہ اپنے طریقے سے اس کا غصہ نکالتا ہے۔

ایسا ہی ایک انوکھا واقعہ انڈین ریاست تمل ناڈو کے شہر کوئمبٹور میں پیش آیا، جہاں ایک خاتون نے ملازمت چھوڑ کر اپنا کاروبار شروع کیا لیکن کمپنی کے مالک کو یہ بات پسند نہیں آئی۔

کمپنی کے مالک نے خاتون ملازم کو ہراساں کرنے کی نیت سے اُن کے گھر پر ’کیش آن ڈیلیوری‘ کے سینکڑوں پارسلز بھیجنا شروع کر دیے۔

کوئمبٹور میں سائبر کرائم پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات کیں اور کمپنی کے مالک کو گرفتار کر لیا۔

کمپنی کے مالک نے اعتراف کیا کہ خاتون ملازم کے کمپنی چھوڑنے سے بہت نقصان ہوا اور اُنھوں نے اپنا غصہ نکالنے کے لیے یہ سب کچھ کیا۔

کوئمبٹور کی سائبر کرائم پولیس نے اس سارے معاملے کی تفصیلات بی بی سی تمل ناڈو کو فراہم کیں۔

خاتون کے ساتھ ہوا کیا؟

کوئمبٹور کی رہائشی خاتون کو گذشتہ ایک برس سے مختلف کوریئر کمپنیوں کی جانب سے پارسلز موصول ہو رہے تھے۔

خاتون کو یہ پارسلز ’کیشن آن ڈیلیوری‘ کی بنیاد پر مل رہے تھے، جن پر اُن کا نام اور گھر کا پتہ، ای میل ایڈریس اور موبائل فون نمبر تک درج ہوتا تھا حالانکہ خاتون کی جانب سے یہ پارسلز کبھی منگوائے ہی نہیں گئے تھے اور وہ اس سارے معاملے کی وجہ سے بہت پریشان تھیں۔

خاتون، یہ کہہ کر پارسلز واپس بھجواتیں رہیں کہ اُنھوں نے کبھی یہ منگوائے ہی نہیں لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ اُن کے مسائل بڑھتے جا رہے تھے۔ کبھی کبھار تو یومیہ اُن کے گھر 50 سے 100 پارسلز بھی آتے رہے۔

پولیس کے مطابق، خاتون کو جو پارسلز موصول ہو رہے تھے، ان پر ان کے نام کے ساتھ قابلِ اعتراض جملے بھی لکھے ہوتے تھے۔ یہ سلسلہ کئی ماہ تک چلتا رہا اور اس کی وجہ سے خاتون شدید ذہنی اذیت کا شکار ہو گئی تھیں۔

پولیس کے مشورے کے باوجود، خاتون نے اپنا موبائل فون بند نہیں کیا کیونکہ اُنھیں یہ پریشانی تھی کہ ایسا کرنے سے اُن کے اپنے کاروبار کو نقصان ہو گا۔

آخرکار اپریل میں خاتون نے سائبر کرائم پولیس کو درخواست دے دی، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا۔ آٹھ ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد ملزم کا نام سامنے آیا۔

’میں نے بدلہ لینے کے لیے یہ کیا‘

پولیس کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ستیش کمار نامی ملزم، خاتون کے گھر کے ایڈریس پر پارسلز بھجوا رہا تھا جس پر اُسے حراست میں لے لیا گیا۔

متاثرہ خاتون نے سنہ 2023 میں ستیش کمار کی کمپنی میں ملازمت شروع کی تھی اور وہ گذشتہ برس تک یہاں کام کر رہی تھیں۔ اس کے بعد خاتون نے ملازمت چھوڑ کر اپنا کاروبار شروع کیا۔

خاتون کی جانب سے اپنی کمپنی شروع کرنے کے کچھ ماہ بعد اُنھیں پارسل موصول ہونے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

سائبر کرائم ڈیپارٹمنٹ کے پولیس انسپیکٹر اجوگا راجہ کا کہنا تھا کہ ’جب خاتون کام کر رہی تھیں، تو ستیش کی کمپنی کو بہت سے آرڈر موصول ہو رہے تھے لیکن جب اُنھوں نے ملازمت چھوڑ کر اپنا کام شروع کیا تو لوگوں نے ستیش کی کمپنی کے بجائے خاتون کی کمپنی سے اشیا لینا شروع کر دیں۔‘

ان حالات میں ستیش کی کمپنی کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس کے مطابق ستیش کمار نے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ سب کچھ کر کے خاتون کو ذہنی اذیت دینا چاہتے تھے۔

ستیش کمار سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی کوئی بھی چیز دیکھ کر اسے آرڈر کر دیتے اور اس پر خاتون کے گھر کا پتہ درج کر دیتے۔ اس کی وجہ سے خاتون کو پارسلز کی بڑی تعداد موصول ہونے لگی لیکن چونکہ ستیش کمار براہ راست یہ پارسلز نہیں بھجوا رہے تھے، اس لیے خاتون کو ستیش پر شک نہیں ہوا۔

’ایسی شکایات پر خواتین کو آگے آنا چاہیے‘

خاتون کی شکایت پر سائبر کرائم پولیس نے مختلف کوریئر کمپنیوں سے رابطہ کیا، جن کی جانب سے انھیں یہ پارسلز بھجوائے جا رہے تھے۔

تحقیقات کے بعد پولیس کو پتہ چلا کہ ستیش کمار کی جانب سے یہ پارسلز مختلف آئی پی ایڈریسز کی جانب سے بھجوائے جا رہے تھے۔

خاتون، کو ہر روز یہ پارسلز موصول ہو رہے تھے، جب تک پولیس نے ستیش کمار کو حراست میں نہیں لے لیا۔

بی بی سی تمل ناڈو سے گفتگو کرتے ہوئے خاتون نے اس سارے معاملے پر بات کرنے سے گریز کیا۔

سائبر کرائم پولیس کے مطابق خواتین کے خلاف سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا استعمال کر کے جرائم کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے لیکن بہت سی خواتین، اس معاملے میں شکایت سے گریز کرتی ہیں۔

پولیس انسپیکٹر آغاگو راجہ کے مطابق، پولیس صرف اسی وجہ سے ملزم کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئی کیونکہ اُنھوں نے آگے بڑھ کر اس معاملے میں شکایت درج کروائی۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر دیگر متاثرہ خواتین بھی آگے آئیں اور شکایت درج کرائیں تو خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں کمی آ سکتی ہے۔