نیپال کے نئے کمیونسٹ وزیر اعظم ’پراچندا‘ انڈیا اور چین میں توازن برقرار رکھ سکیں گے؟

    • مصنف, فانندرا ڈھال
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

نیپال کے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد وزیر اعظم پشپا کمال ڈھال جنھیں پراچندا کے لقب سے جانا جاتا ہے نے کہا ہے کہ وہ نیپال کے مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کریں گے۔

پشپا کمال ڈھال پر اپنے سابقہ ​​دور حکومت میں چین نواز ہونے کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ یہ تنقید بھی کی جاتی رہی کہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں کھٹمنڈو کے مفادات کی ترجمانی نہیں کی گئی۔

اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس بار منتخب ہونے کے بعد نیپال کے وزیراعظم کس قسم کی سفارتکاری پر کاربند ہوں گے؟

وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد انھوں نے اے بی پی نیوز چینل کو انٹرویو میں بتایا ہے کہ آج جس طرح نیپال کی سیاست آگے بڑھ رہی ہے، اس میں چین، انڈیا یا امریکہ کی طرف اس کا جھکاؤ نہیں ہے بلکہ ہم سب کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ 'نیپالی وزیر اعظم کا بڑا چیلنج ہے کہ آپ یا تو انڈیا کے 'یس مین' بن جائیں یا 'اینٹی انڈیا' بن جائیں۔ درمیانی رستے میں چلنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ میں شروع سے نیپال کو فائدہ پہنچانے والے رستے پر چلنا چاہتا ہوں، ہمارا مقصد انڈیا، چین اور غیر ملکی دوستوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق بادشاہت کے وقت کوئی انڈین نواز تھا، کوئی چین نواز تھا۔ اور ایسے ہی امریکہ نواز کہہ کر نیپال کی سیاست چلانا غلط روایت تھی۔

ان کے مطابق ’ایک وفاقی جمہوری جمہوریہ ہونے کے ناطے انڈیا کے ساتھ ہمارا جو خاص رشتہ ہے اس کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی ہے۔ ہماری سرحد، تاریخ، زبان، ثقافت اور عوام کا عوام سے تعلق بے نظر ہے، جسے مزید آگے لے کر جانا ہوگا۔‘

خارجہ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پشپا کمال ڈھال نے دس سال تک مسلح جدوجہد کی قیادت کی۔ وہ تیسری بار وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں۔ اس وقت خارجہ تعلقات کو چلانا ان کے سامنے ماضی کی نسبت کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔

پراچندا کے وزیر اعظم بننے سے چین کو کتنی خوشی ہے؟

پشپا کمال ڈھال کے وزیر اعظم بننے کے بعد انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے انھیں سوشل میڈیا پر مبارکباد دی ہے۔

ساتھ ہی چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے نئی حکومت کے ساتھ تعاون کی بات کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ایک روایتی پڑوسی دوست کے طور پر ہم چین۔نیپال تعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ دونوں ممالک مشترکہ طور پر ’بیلٹ اینڈ روڈ نیٹ ورک‘ پر کام کریں گے۔‘

کھٹمنڈو میں امریکی سفارت خانے نے بھی پراچندا کو مبارکباد دی اور کہا کہ وہ نیپال کی جمہوری روایت کی حمایت جاری رکھیں گے۔

پراچندا کمال ڈھال جو انتخابات سے پہلے شیر بہادر دیوبا کے ساتھ تعاون کر رہے تھے نے آخری لمحات میں حکومت بنانے کے لیے اپنے سیاسی مخالف اور یو ایم ایل جماعت کے صدر کے پی اولی کے ساتھ مل کر کام کیا۔

نیپال کے 275 رکنی ایوان نمائندگان میں پراچندا کی کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (ماؤسٹ سینٹر) کے صرف 32 ارکان ہیں۔

پراچندا کو کے پی شرما اولی کی پارٹی کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یونیفائیڈ مارکسسٹ-لیننسٹ) کی حمایت حاصل ہے۔ کے پی شرما اولی کی پارٹی کے پاس ایوان میں 78 نشستیں ہیں۔

’سنٹر فار ساؤتھ ایشین سٹڈیز‘ کے ڈائریکٹر نیسچل ناتھ پانڈے نے کہا ہے کہ پراچندا کو اندرونی استحکام پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہ ایک کمزور اکثریت والی مخلوط حکومت ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ایسا لگتا ہے کہ چین کے لیے یہ تھوڑا آسان ہو گا کیونکہ دو کمیونسٹ پارٹیوں نے مل کر حکومت بنائی ہے، لیکن یہ حکومت کمزور دکھائی دیتی ہے کیونکہ اس میں بہت سے نظریات کے حامل افراد شامل ہیں۔ طاقتور ملک کی حکومت میں نظریاتی یکسانیت کا فقدان ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر یہ حکومت گر بھی جائے تو ایسی مخلوط حکومت ہی بن سکے گی۔ اسی لیے دوبارہ انتخابات کی بات کو رد کر دیا گیا ہے۔‘

پشپا کمال کے وزیراعظم بننے سے انڈیا-نیپال تعلقات پر کیا اثر پڑے گا؟

جب پشپا کمال ڈھال کی کمیونسٹ پارٹی نیپال میں مسلح جدوجہد میں مصروف تھی تو انھوں نے نیپال میں پناہ لی تھی۔ دلی کی مدد سے نیپال کی پارلیمانی جماعتوں کے ساتھ 12 نکاتی معاہدے کے ذریعے پشپا کمال کو نیپال کے مرکزی دھارے میں واپس لایا گیا۔

پہلی آئین ساز اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی بننے کے بعد پرچندا اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر چین گئے تھے۔

جب یہ بات سامنے آئی کہ ان کی سربراہی میں حکومت نے نیپال کے آرمی چیف کے خلاف کارروائی کی ہے تو اس وقت ان کے اور انڈیا کے تعلقات بہت خراب ہو رہے تھے۔

اس کے بعد شیر بہادر دیوبا کی حمایت سے وہ دوسری بار وزیراعظم بنے لیکن انھیں سات سال انتظار کرنا پڑا۔ پرچندا کی پارٹی گذشتہ انتخابات میں تیسری بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی لیکن اس کے فوراً بعد ان کی پارٹی کے پی شرما اولی کی یو ایم ایل میں ضم ہو گئی۔

اس کے بعد چین نے نیپال میں نظریاتی بحث کو جنم دیا۔ انڈیا کے نقشے پر نیپال کا تنازع بڑھ گیا ہے، جس کے بعد نیپال نے ایک علیحدہ نقشہ جاری کیا ہے، جس میں کالاپانی، لیپولیکھ اور لمپیادھورا کے علاقوں کو اپنے ملک کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے۔

نیپال کی ’غیر وابستگی‘ کی پالیسی

کمیونسٹ پارٹی آف نیپال میں اندرونی لڑائی کی وجہ سے دونوں کمیونسٹ پارٹیاں تقسیم ہو گئی تھیں۔

سپریم کورٹ کے حکم سے شیر بہادر کی قیادت والی حکومت کی تشکیل کے بعد دیکھا گیا کہ یہاں نیپال کی سیاست اور خارجہ پالیسی میں توازن ایک نئی سمت کی طرف بڑھ رہا ہے۔

اب وزیر اعظم بننے کے بعد اے بی پی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پرچندا نے اشارہ دیا ہے کہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ انڈیا کا ہوگا۔

دلی میں مقیم تجزیہ کار کانسٹینٹینو زیویئر نے ٹویٹ کیا کہ انڈیا اور نیپال کے تعلقات دونوں طرف سیاسی تبدیلیوں کو برقرار رکھنے کے لیے کافی پختہ ہیں۔

انھوں نے لکھا کہ وزیراعظم پشپا کمال اور دیگر رہنماؤں یا پارٹیوں کو انڈیا یا چین کے کسی بھی کیمپ میں تقسیم کرنا غیر دانشمندانہ ہوگا۔ نیپال اپنی خارجہ پالیسی کو غیر وابستگی کے ساتھ برقرار رکھنے کا تجربہ کرتا رہے گا۔

انھوں نے ریمارکس دیے کہ اگرچہ نیپال کے اندرونی معاملات میں انڈیا کی مداخلت کم ہو رہی ہے، پھر بھی نیپال میں کچھ لوگ رونما ہونے والی تمام تبدیلیوں میں انڈیا کا ہاتھ سمجھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ چونکہ مختلف نظریات والی پارٹیاں حکومت میں آئی ہیں اور ان میں سے کئی نئی ہیں۔ اس لیے دلی کے لیے ان کے ساتھ تعلقات بڑھانا ایک چیلنج ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

پراچندا کی خارجہ پالیسی کی سمت کیا ہوگی؟

نیپال کے انسٹی ٹیوٹ آف فارن افیئرز کے سابق ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر روپک ساپکوٹا کا کہنا ہے کہ ماؤسٹ سینٹر کے چیئرمین حال ہی میں ایک دانشمندانہ خارجہ پالیسی کے حق میں کھڑے ہوئے ہیں۔ جس کا مقصد نیپال کے قومی مفادات کی تعمیر ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ دونوں ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم رکھنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اپنی سیاسی زندگی میں سابقہ ​​دور کے تجربے اور عالمی حالات میں تبدیلیوں کی بنیاد پر زیادہ پختہ، متوازن اور سمجھدار سفارت کاری کی ضرورت ہے۔‘

روپک ساپکوٹا کہتے ہیں کہ ’کمیونسٹ پارٹی ہونے کے ناطے، پارٹی میں نظریاتی جھکاؤ ہو سکتا ہے، جس کے سربراہ پراچندا ہیں، لیکن خارجہ تعلقات کے معاملے میں کسی بھی پارٹی یا ملک کے بجائے نیپال کو مقدم رکھ کر کام کرنا چاہیے۔ ہمیں تعلقات کو برقرار رکھنا چاہیے۔ پنچشیل کے اصول کی بنیاد پر جس پر نیپال فی الحال عمل کر رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم پراچندا دونوں ممالک کے درمیان حل نہ ہونے والے سرحدی تنازع پر بات کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ حکومت اقتصادی سفارت کاری پر زیادہ زور دے گی۔