جوتوں کے ڈبے میں چھپایا گیا ایسا ورلڈ کپ جو غائب ہونے کے بعد پھر کبھی نہ ملا

انگلینڈ میں منعقد ہونے والے سنہ 1966 کے ورلڈکپ کے آغاز میں صرف چند ہفتے باقی تھے جب لندن کے ویسٹ منسٹر ہال میں ایک انتہائی نایاب چیز کو نمائش کے لیے رکھا گیا۔

یہ فٹبال ورلڈکپ کی ٹرافی جیولز رمیٹ تھی جو سنہ 1930 کے ورلڈ کپ سے ہر چار برس بعد ورلڈکپ کی فاتح ٹیم کو دی جاتی تھی۔

20 مارچ کو ایک دن جب سکیورٹی گارڈز آرام کر رہے تھے تو یہ اچانک اس ہال سے غائب ہو گئی۔ یہ سب کیسے ہوا، کسی کو کچھ معلوم نہیں۔

 اسی روز اس بلڈنگ میں ایک مذہبی تقریب بھی ہونی تھی اور یہاں لوگوں کا ہجوم موجود ہونا تھا۔ سکیورٹی گارڈز کو کچھ دیر بعد معلوم ہوا کہ عمارت کے پچھلے دروازے توڑے گئے ہیں اور ڈسپلے کیس میں سے ٹرافی چوری کر لی گئی ہے۔

چوروں نے اس کیس میں موجود ان سٹیمپس کو نظرانداز کیا جن کی مالیت 30 لاکھ پاؤنڈ تھی اور اس تین ہزار پاؤنڈ مالیت کی ٹرافی کو لے اڑے۔

برطانیہ کی خفیہ ایجنسی سکاٹ لینڈ یارڈ نے اس ہائی پروفائل ڈکیتی کے حوالے سے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا جو اب ایک عالمی خبر بن چکی تھی۔

ورلڈکپ کے آغاز سے کچھ عرصہ قبل ہی اس ٹرافی کا گم ہو جانا یقیناً انگلش فٹبال ایسوسی ایشن ( ایف اے) کے لیے دردِ سر تھا اس لیے فوری طور پر اسی ٹرافی کا ریپلیکا یا نقل تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ اگر اصل ٹرافی نہ ملے تو کم از کم فوری طور پر اس کا ریپلیکا فاتح ٹیم کو دیا جا سکے۔

کھیلوں کی دنیا کی شاید سب سے قیمتی ٹرافی کی چوری اس وقت ایک سنسنی خیز فلم کا سکرپٹ معلوم ہونے لگی جب ایک دن ایف اے کے چیئرمین جان میئرز کو ایک نوٹ موصول ہوا۔

اس نوٹ پر درج تھا کہ ’مجھ سے 15 ہزار پاؤنڈ تاوان کے عوض ٹرافی لے جاؤ۔‘ یہ یقیناً اس چوری کی تحقیقات کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت تھی۔

تاہم پولیس کی جانب سے جان میئرز کو مشورہ دیا گیا کہ وہ تاوان کی رقم ادا کریں اور اس انوکھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ان کے ساتھ ایک انڈر کور افسر تعینات کیا گیا۔

جب ٹرافی اور تاوان کا تبادلہ ہونا تھا تو اس انڈر کور افسر نے اس شخص کو گرفتار کر لیا جس کا دعویٰ تھا کہ ٹرافی اس کے پاس ہے۔

یہ شخص دراصل ایک سابق فوجی تھا جس کا نام ایڈورڈ بیچلے تھا۔ بیچلے کو تو گرفتار کر لیا گیا لیکن ٹرافی پھر بھی پولیس کے ہاتھ نہ لگ سکی۔

جس ٹرافی کو لہرا کر کسی بھی فٹبال کھلاڑی کا کریئر امر ہو جاتا ہے اور جس کے لیے لگ بھگ دو ماہ تک دنیا بھر کے 32 ممالک کی ٹیمیں خون پسینہ ایک کرتی ہیں، اس کے بارے میں لندن میں کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کس کے پاس ہے۔

تاہم یہ پہلی مرتبہ نہیں تھا جیولز رمیٹ نامی اس ٹرافی کو ایسی ڈرامائی صورتحال سے گزرنا پڑا ہو۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران اس وقت فیفا کے اطالوی نائب صدر اوٹورینو باراسی اس ٹرافی کی حفاظت کے حوالے سے اتنے پریشان تھے کہ انھوں نے اسے بینک آف روم کی تجوری سے نکال کر اپنے بستر کے نیچے پڑے جوتوں کے ڈبے میں چھپا دیا تھا۔

ان کا یہ عمل یقیناً انوکھا تھا لیکن یہ اس نایاب ٹرافی کو چھپانے کی بہترین جگہ ثابت ہوئی۔ یہاں سے اس ٹرافی کو سنہ 1950 تک نہیں ہلایا گیا جب برازیل میں ٹورنامنٹ کا دوبارہ آغاز ہوا۔

اب 16 برس بعد یہ ٹرافی ایک بار پھر غیر محفوظ تھی لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ کہاں موجود ہے۔

پھر 27 مارچ کو وہ ہوا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ جنوبی لندن میں ایک ڈیو کوربیٹ نامی عام شہری اپنے کتے پِکلز کو چہل قدمی کے لیے باہر لے کر گئیں۔

کتے نے کوربیٹ کے ہمسائیوں کی گاڑی کے اردگرد گھومنا شروع کر دیا جس کے قریب اخباروں سے لپٹا ہوا ایک پراسرار پیکج موجود تھا۔

کوربیٹ نے بعد میں بتایا کہ ’جب میں نے اس پیکج کے ایک حصہ پر موجود اخبار کو پھاڑا تو عیاں ہونے والے حصہ پر برازیل، مغربی جرمنی اور یوراگوائے کے نام درج تھے۔ جب میں نے دوسری طرف سے پیکج کو پھاڑا تو مجھے ایک ایسی ٹرافی دکھائی دی جس میں ایک خاتون ایک پلیٹ اپنے سر پر اٹھائے ہوئے ہے۔ میں نے اس ٹرافی کو اخباروں اور ٹیلی ویژن پر دیکھ رکھا تھا اس لیے میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔‘

یہ کچھ روز قبل گم ہونے والی ٹرافی ہی تھی، اور جس کتے نے اسے ڈھونڈنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اب وہ ایک قومی ہیرو بن چکا تھا۔ اسے نیشنل کینائن لیگ جیتنے کے بعد میڈل سے بھی نوازا گیا تھا اور یہ بطور اداکار ’دی سپائے ود اے کولڈ نوز‘ میں بھی کام کر چکا تھا۔

جب برازیل نے 1970 کا ورلڈکپ جیتا تو انھیں اصلی ٹرافی دی گئی۔ یہ ٹرافی حاصل کرنے کے بعد برازیل وہ پہلا ملک بھی بن گیا تھا جس نے تین مرتبہ ورلڈکپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

شومئی قسمت، ٹھیک 13 برس بعد یہ ٹرافی برازیلین فٹبال کنفیڈریشن کے ہیڈکوارٹر سے چوری ہوئی اور پھر کبھی نہ مل سکی۔

کہا جاتا ہے کہ اسے چوری کرنے والوں نے شاید اسے پگھلا کر سونے میں تبدیل کر دیا تھا۔

اس ٹرافی کی باقیات میں سے جو چیز اب بھی موجود ہے وہ اس کی بیس ہے جسے سنہ 1954 میں تبدیل کیا گیا تھا۔

یہ بھی فیفا کے سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں موجود ہیڈکوارٹرز سے سنہ 2015 میں ملی تھی۔ ایف اے کی جانب سے 1966 میں اس ٹرافی کا جو ریپلیکا یا نقل تیار کروائی گئی تھی وہ اب مانچسٹر میں نیشنل فٹبال میوزیم میں موجود ہے۔

یہی وہ چوری تھی جس کے بعد سے فیفا کی جانب سے اصل ٹرافی کو اپنے پاس رکھا جاتا ہے اور ٹیموں کو اس کا ریپلیکا دیا جاتا ہے۔

جیولز رمیٹ دراصل فیفا کے تیسرے صدر تھے اور انھوں نے سنہ 1930 میں یوراگوائے میں پہلے فٹبال ورلڈکپ کے انعقاد کی منصوبہ بندی کی تھی۔

یہ ٹرافی فرانسیسی مجسمہ ساز ایبل لافلوئر نے ڈیزائن کی تھی۔ انھوں نے اس ٹرافی میں فتح کی یونانی دیوی نائیکی کا سونے کا عکس دکھایا تھا جنھوں نے اپنے سر پر ایک کپ اٹھا رکھا ہے۔

اسے سب سے پہلے وکٹوریا کا نام دیا گیا۔ فرانسیسی زبان میں اسے کوپے دو مونڈ کہا جاتا تھا جس کا مطلب ورلڈ کپ ہے۔ یہ ٹرافی 35 سینٹی میٹر لمبی تھی اور اس کا وزن تین اعشاریہ آٹھ کلوگرام تھا۔

اس ٹرافی چاندی کی تھی اور اس پر سونے کا پانی چڑھایا گیا تھا۔ اس کی بنیاد ایک ایسے قیمتی پتھر کی تھی جس کا نام لاپس لازولی ہے۔ اس کی بنیاد کے چاروں اطراف پر سونے کی تختیاں لگی ہوئی تھیں جن پر فاتح ٹیموں کے نام کندہ تھے۔

برازیل نے یہ ٹرافی سب سے زیادہ تین مرتبہ 1958، 1962 اور 1970 میں جیتی تھی۔