آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اندرا گاندھی کا روپ اور آواز کی نقل کر کے بینک سے 60 لاکھ روپے کیسے نکلوائے گئے
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی
صبح 11:35 بجے سٹیٹ بینک آف انڈیا کی سنسد مارگ برانچ کے چیف کیشیئر وید پرکاش ملہوترا اپنے کیبن میں بیٹھے ایک صارف سے بات کر رہے تھے۔ تبھی ان کا فون نمبر 45486 بجنے لگا۔
جیسے ہی ملہوترا نے فون اٹھایا دوسری جانب سے آواز آئی ’وزیراعظم کے سکریٹری پی این ہکسار آپ سے بات کریں گے۔‘
پرکاش پاترا اور راشد قدوائی نے حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’دی سکیم دیٹ شاک س نیشن‘ میں لکھا ہے کہ ’کچھ دیر بعد ملہوترا نے فون پر ایک اور آواز سنی ’میں وزیر اعظم کا سکریٹری ہوں میں آپ سے ایک انتہائی خفیہ مشن کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔‘
انڈیا کی وزیر اعظم چاہتی ہیں کہ خفیہ کام کے لیے 60 لاکھ روپے کا فوری طور پر بندوبست کردیا جائے۔ وہ ایک شخص کو بھیجیں گی۔ آپ کو بس وہ رقم اُن کے حوالے کرنی ہو گی۔‘
جب ملہوترا نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ رقم کسی چیک یا رسید کے بدلے دی جائے گی، تو جواب ملا ’رسید یا چیک آپ کو بعد میں بھیجوا دیا جائے گا۔‘ آپ گاڑی میں پیسے لے کر فوری چرچ پہنچ جائیں کیونکہ یہ رقم ایئر فورس کے طیارے کے ذریعے بنگلہ دیش بھیجی جانی ہے۔ آپ اس بارے میں کسی سے کوئی بات نہیں کریں گے۔
فکسڈ کوڈ ورڈ
ملہوترا کو اپنے 26 سالہ کیریئر میں اس سے پہلے کبھی ایسا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ جیسے ہی انھوں نے اس حکم کو پورا کرنے میں کچھ ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، ٹیلی فون پر دوسری جانب سے بات کرنے والے شخص نے کہا ’یہ لو خود وزیر اعظم اندرا گاندھی سے بات کو لو۔‘
دوسری جانب سے ایک خاتون کی آواز آئی ’جیسا کہ میرے سیکرٹری نے آپ کو بتا دیا ہے کہ بنگلہ دیش میں ایک اہم خفیہ آپریشن کے لیے فوری طور پر 60 لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔ آپ یہ رقم فوری طور پر بھیجنے کا انتظام کریں۔ میں اپنے ایک آدمی کو اس جگہ بھیج رہی ہوں۔ آپ یہ رقم اس کے حوالے کر دو۔‘
پرکاش پاترا اور راشد قدوائی لکھتے ہیں کہ ’ملہوترا نے پوچھا میں اس شخص کو کیسے پہچانوں گا، اس پر خاتون نے جواب دیا، وہ شخص آپ سے کوڈ ورڈ میں بات کرے گا اور آپ کو بتائے گا کہ ’میں بنگلہ دیش کا بابو ہوں۔‘ آپ کو جواب دینا ہوگا ’میں بار ایٹ لا ہوں۔‘ پیسے ادا کرنے کے بعد سیدھے میرے گھر آجاؤ۔ آپ کو اس رقم کی ادائیگی کی رسید دے دی جائے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملہوترا وہاں سے اٹھے اور سیدھے اپنے اسسٹنٹ رام پرکاش بترا کے کیبن میں گئے۔ انھوں نے بترا سے پوچھا ’اس وقت آپ کے پاس 100 روپے کے کتنے بنڈل ہیں؟‘ بترا نے کیش رجسٹر پر نظر ڈالی اور کہا کہ تقریباً 180 یا 190 بنڈل یعنی تقریباً 18 سے 19 لاکھ روپے۔
ملہوترا نے انھیں فوری طور پر 60 لاکھ روپے کا بندوبست کرنے کو کہا، جس کے بعد بترا کیش انچارج حکمت رائے کھنہ کے کیبن میں گئے اور کہا کہ چیف کیشیئر کو 60 لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔
وہ دونوں باتیں کر ہی رہے تھے کہ ملہوترا بھی کیبن میں داخل ہوئے۔ جب کھنہ نے ملہوترا سے پوچھا کہ اتنے پیسوں کی ضرورت کیوں ہے تو ملہوترا نے جواب دیا کہ ’یہ ایک خفیہ کام ہے۔ کام ختم ہونے کے بعد میں آپ کو اس کے بارے میں بتاؤں گا۔‘
اس کے بعد بترا اور کھنہ نے 60 لاکھ روپے کا بندوبست کیا۔ یہ رقم ایک ٹرنک میں رکھ کر ہیڈ کیشیئر راویل سنگھ کے کیبن میں لائی گئی۔
ٹاپ سیکرٹ مشن کی تیاری
ملہوترا نے بعد میں اس معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے جگن موہن ریڈی کمیشن کے سامنے دی جانے والی گواہی میں کہا کہ ’میں نے ملحقہ عمارت سے انٹرکام پر بینک کے سکیورٹی آفیسر ایس سی سنہا کو فون کیا۔ اسسٹنٹ سیکورٹی آفیسر برون مترا نے فون اٹھایا۔‘
میں نے مترا سے کہا کہ وہ مجھے ایک ایمبیسیڈر کار دیں کیونکہ مجھے ایک خفیہ سرکاری کام کے سلسلے میں جانا تھا۔ میں نے انھیں یہ بھی کہا کہ مجھے ڈرائیور کی ضرورت نہیں ہے۔ گاڑی میں خود چلا لوں گا۔‘
مترا نے انھیں بغیر ڈرائیور کے گاڑی دینے سے صاف انکار کر دیا۔ اسی دوران دو پورٹر کیش باکس کو اس جگہ لے آئے جہاں ایک ایمبیسیڈر کار ان کا انتظار کر رہی تھی۔ کار ڈرائیور سنتوش کمار اور گارڈ مان بہادر وہاں موجود تھے۔
سنتوش نے کار کی ڈگی کھولی اور دونوں پورٹرز نے نوٹوں سے بھرا ٹرنک اندر رکھ دیا۔ بعد میں سنتوش کمار نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا کہ ٹرنک کا سائز اتنا بڑا تھا کہ گاڑی کی ڈگی کو بند نہیں کیا جا سکتا تھا۔
سنتوش نے اپنے باس سے شکایت کی کہ ملہوترا نے اس کے ہاتھ سے چابیاں چھین لیں اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئے اور گارڈ مان بہادر کو بھی اپنے ساتھ لے جانے سے انکار کر دیا۔
وید پرکاش ملہوترا نے بینک سے صرف 100 میٹر کے فاصلے پر فری چرچ میں اپنی گاڑی روکی۔ اس وقت دوپہر کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔ زیتون کے رنگ کی ٹوپی پہنے ایک لمبا، چوڑے میلے رنگ کا آدمی، ان کی طرف بڑھا اور بولا ’میں بنگلہ دیش کا بابو ہوں۔‘
ملہوترا نے انکوائری کمیٹی کے سامنے یہ بھی بتایا کہ ’میں نے یہ بھی کہا ’میں بار ایٹ لا ہوں۔‘ اس نے کہا چلو۔ وہ بھی ایمبیسیڈر گاڑی میں بیٹھ گیا لیکن گاڑی سٹارٹ نہیں ہوئی۔ میں نے اس سے پوچھا کیا تم گاڑی چلانا جانتے ہو؟ اس نے کہا ہاں۔ پھر میں نے اسے کہا کہ آکر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ جاؤ۔ میں گاڑی سے نیچے اترا اور اسے دھکا دینے لگا۔ انجن سٹارٹ ہوتے ہی میں دوبارہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔‘
ملہوترا نے تفتیشی افسران کو بتایا کہ ’اس شخص نے مجھے بتایا کہ اسے پالم ہوائی اڈے جانا ہے۔ میں نے اسے پالم میں چھوڑنے کی پیشکش کی، لیکن اس نے کہا کہ یہ مناسب نہیں ہوگا۔ کچھ دیر بعد انھوں نے پنچشیل مارگ پر ایک ٹیکسی سٹینڈ پر گاڑی روکی اور کہا کہ وہ یہاں سے ٹیکسی لے کر جائیں گے۔ آپ سیدھے وزیراعظم کی رہائش گاہ چلے جائیں۔ وہ آپ سے ایک بجے ملیں گی۔‘
ملہوترا نے بتایا کہ انھوں نے ٹیکسی ڈرائیور اور ’بنگلہ دیش کے بابو‘ کے ساتھ مل کر نوٹوں سے بھرا ٹرنک ٹیکسی میں منتقل کیا۔ اس کے بعد میں نے ٹرنک کی چابیاں اس شخص کے حوالے کر دیں۔ ٹیکسی میں بیٹھتے ہی اس نے کہا ’میرا نام عزیز ہے۔۔۔ جیے بنگلہ دیش۔ جیے بھارت ماتا۔‘
’آپریشن طوفان‘
بعد میں ’بنگلہ دیش کے بابو‘ کی شناخت رستم سہراب نگر والا کے طور پر ہوئی جو فوج کے سابق کپتان تھے۔
ملہوترا نے بس اس سب کے بیچ سمجھداری یہ کی کہ انھوں نے جانے سے پہلے ٹیکسی کا نمبر نوٹ کر لیا۔ اس کا نمبر DLT 1622 تھا۔ اس کے بعد ملہوترا نے اپنی کار وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی جانب موڑ لی۔
تقریباً 12.45 پر وہ اکبر روڈ پر واقع وزیر اعظم کی رہائش گاہ میں داخل ہوئے۔ وہاں انھیں معلوم ہوا کہ وزیراعظم اپنے گھر پر نہیں ہیں۔ وہ پارلیمنٹ ہاؤس گئی ہیں۔
اس زمانے میں وزیراعظم کی رہائش گاہ پر سکیورٹی کے انتظامات آج جیسے نہیں تھے۔ ایک عام آدمی گھر کے گیٹ پر جا کر اس کی ایک جھلک دیکھ سکتا تھا۔
جب انھوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں اندرا گاندھی سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو ان کے پرسنل سکریٹری این کے شیشن باہر آئے۔ ملہوترا نے سارا واقعہ شیشن کو سنایا۔ شیشن نے سارا معاملہ وزیر اعظم تک پہنچایا۔
ملہوترا نے ہکسار کو بھی بلایا جو اس وقت ساؤتھ بلاک میں تھا۔ ہکسار فوراً پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے۔ ملہوترا نے ہکسار کو صبح سے اس کے ساتھ ہونے والی تمام باتوں سے آگاہ کیا۔
ہکسار نے بعد میں ریڈی کمیشن کو بتایا ’میں نے پوری کہانی سنی اور ملہوترا سے کہا کہ وہ فوری طور پر قریبی پولیس سٹیشن جائیں اور اس دھوکہ دہی کے بارے میں رپورٹ درج کریں۔ میں نے ملہوترا کو واضح کر دیا کہ میں نے اور نہ ہی وزیر اعظم نے انھیں کوئی فون کیا ہے۔
رپورٹ درج ہوتے ہی پولیس نے ناگر والا کی گرفتاری کے لیے ’آپریشن طوفان‘ شروع کر دیا۔
ناگر والا کی گرفتاری
اس کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور رات پونے دس بجے کے قریب دہلی گیٹ کے قریب پارسی دھرم شالہ سے ناگر والا کو پکڑا اور ڈیفنس کالونی میں ان کے ایک دوست کے گھر سے 59 لاکھ 94 ہزار 300 روپے بھی برآمد کر لیے۔ صرف 5700 روپے کم پائے گئے۔
اسی دن آدھی رات کو پولس نے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ ناگر والا ٹیکسی سٹینڈ سے راجندر نگر کے ایک مکان کی جانب گیا وہاں سے انھوں نے ایک سوٹ کیس لیا جس کے بعد وہاں سے وہ پرانی دہلی کے نکلسن روڈ گئے۔
وہاں ڈرائیور کے سامنے انھوں نے ٹرنک سے ساری رقم نکال کر سوٹ کیس میں رکھ دی انھوں نے یہ راز اپنے پاس رکھنے کے لیے ڈرائیور کو 500 روپے کی ٹپ بھی دی۔
اس وقت پارلیمنٹ کا اجلاس جاری تھا۔
ملہوترا اندرا گاندھی کی سوانح عمری ’اندرا گاندھی ایک ذاتی اور سیاسی سوانح عمری‘ میں لکھتے ہیں کہ ’جیسا کہ توقع تھی پارلیمنٹ میں اس پر زبردست ہنگامہ ہوا۔ کچھ ایسے سوالات تھے جن کے جواب نہیں مل رہے تھے۔‘
مثال کے طور پر کیا وزیر اعظم نے اس سے پہلے بھی وید پرکاش ملہوترا سے بات کی تھی؟ اگر نہیں تو اس نے اندرا گاندھی کی آواز کیسے پہچانی؟ کیا بینک کیشیئر صرف زبانی حکم پر بینک سے اتنی بڑی رقم نکال سکتا ہے؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ یہ پیسہ کس کا تھا؟
اندرا گاندھی کے سابق پرنسپل سکریٹری پی این ہکسار اور پرائیویٹ سکریٹری این کے سیشن دونوں نے ریڈی کمیشن کو بتایا کہ اندرا گاندھی وزیر اعظم رہتے ہوئے کبھی بھی بینک سے براہ راست رابطے میں نہیں تھیں۔
اندرا گاندھی نے اپنے دو صفحات کے تحریری بیان میں یہ بھی کہا کہ ’میرے پرسنل سیکریٹری بینک میں میرے ذاتی اکاؤنٹ سے متعلق تمام معاملات دیکھتے تھے۔ آج تک میں بینک نہیں گئی اور اپنے اکاؤنٹ سے پیسے نہیں نکالے۔
27 مئی 1971 کو ناگر والا نے عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کیا۔
انڈیا کی عدالتی تاریخ میں شاید پہلی بار کسی شخص کی گرفتاری کے تین دن کے اندر سزا سنائی گئی۔
رستم ناگر والا کو چار سال قید بامشقت اور ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
ناگر والا تھے کون؟
ناگر والا کے پاس سے ملنے والے کاغذات سے معلوم ہوا کہ یہ سابق فوجی کیپٹن تھے اور انگریزی، فرانسیسی، جاپانی، ہندی، مراٹھی اور گجراتی زبانیں بولنا جانتے تھے۔
وہ ٹورسٹ ٹیکسی سروس میں ٹیکسی چلاتے تھے۔ ان کے پاس پروفیشنل ڈرائیونگ لائسنس تھا۔
وہ کچھ عرصہ جاپان کے شہر ناگویا میں رہے جہاں انھوں نے امریکن کلچرل سینٹر اور ناگویا یونیورسٹی میں انگریزی پڑھائی۔
اس کے ریزیومے میں لکھا تھا کہ وہ گھوڑوں کی سواری کر سکتے ہیں۔ انھیں تیراکی میں مہارت حاصل تھی۔
انھیں انڈین کھانے پکانے کا بھی شوق تھا۔ ان کے پاس سے ایک ریوالور بھی برآمد ہوا ہے۔ ان کے دوست انھیں ’روسی‘ کہہ کر پکارتے تھے۔
ناگروالا نے تفتیشی افسر دیویندر کمار کشیپ کے سامنے اعتراف کیا کہ اسی نے ملہوترا سے پی این ہکسار اور اندرا گاندھی کی آواز میں بات کی تھی۔
کشیپ کو یقین نہیں آرہا تھا کہ مرد عورت کی آواز کیسے بنا سکتا ہے؟
پرکاش پاترا اور رشید قدوائی لکھتے ہیں کہ کشیپ کو راضی کرنے کے لیے ناگر والا نے انھیں اندرا گاندھی کی آواز سنائی۔
پولیس نے ملہوترا اور ناگر والا کے درمیان فون پر ہونے والی بات چیت کو دوبارہ چلانے اور اسے ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ناگر والا کو تھانے میں بٹھایا گیا اور ملہوترا کو ایس پی راجپال کے دفتر میں بٹھایا گیا اور یہ گفتگو ریکارڈ کی گئی۔
ناگر والا کو اس ریکارڈنگ کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔ اس سے پولیس افسران کو یقین ہو گیا کہ ناگر والا اندرا گاندھی کی آواز کی نقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ناگروالا نے بتایا کہ انھیں بینک کو دھوکہ دینے کا خیال اس وقت آیا جب وہ وہاں 100 روپے کا نوٹ بدلنے گئے تھے۔ اس پورے واقعہ میں اُن کے ساتھ اور کوئی بھی شامل نہیں تھا۔
ناگروالا نے عدالت میں اعتراف کیا کہ انھوں نے بنگلہ دیش میں خفیہ مشن کا بہانہ بنا کر ملہوترا کو بے وقوف بنایا لیکن بعد میں اپنا بیان بدل کر فیصلے کے خلاف اپیل کی۔
ان کا مطالبہ تھا کہ کیس کی دوبارہ سماعت کی جائے لیکن 26 اکتوبر 1971 کو ناگر والا کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا گیا۔
اس معاملے میں ایک پراسرار موڑ اس وقت آیا جب اس کیس کی تفتیش کر رہے اے ایس پی ڈی کے کشیپ کی 20 نومبر 1971 کو ایک سڑک حادثے میں موت ہو گئی۔
اسی دوران ناگر والا نے اس وقت کے ایک مشہور ہفتہ وار اخبار ’کرنٹ‘ کے ایڈیٹر ڈی ایف کاراکا کو خط لکھا کہ وہ انھیں انٹرویو دینا چاہتے ہیں۔
پھر اچانک کاراکا کی طبیعت بگڑ گئی تو انھوں نے اپنے اسسٹنٹ کو انٹرویو کے لیے بھیجا لیکن ناگر والا نے انٹرویو دینے سے انکار کر دیا۔
فروری 1972 کے آغاز میں انھیں تہاڑ جیل کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔
وہاں سے انھیں 21 فروری کو جی بی پنت ہسپتال لایا گیا تھا۔ وہیں 22 مارچ کو ان کی طبیعت بگڑ گئی اور رات 2 بجکر 15 منٹ پر ناگروالا کا دل کا دورہ پڑنے سے وفات ہوئی۔ اس دن ان کی 51ویں سالگرہ تھی۔
بہت سے جواب طلب سوالات
1977 میں جب جنتا پارٹی کی حکومت آئی تو اس نے ناگر والا کی موت کے حالات کی تحقیقات کے لیے جگن موہن ریڈی کمیشن تشکیل دیا لیکن اس تحقیقات میں کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی۔
سوالات اٹھتے رہے کہ اگر اتنی ادائیگی کرنی تھی تو بینک منیجر سے رابطہ کرنے کے بجائے چیف کیشئر سے رابطہ کیوں کیا گیا؟ کیا سٹیٹ بینک کو اتنی بڑی رقم بغیر کسی واؤچر یا چیک کے دینے کا حق تھا؟
اندرا گاندھی کی موت کے دو سال بعد ہندوستان ٹائمز کے 11 اور 12 نومبر 1986 کے شماروں میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ملہوترا نے را کے لیے نہیں بلکہ سی آئی اے کے لیے کام کیا تھا اور اس پورے واقعہ کا مقصد اندرا گاندھی کو بدنام کرنا تھا۔
خاص طور پر ایسے وقت میں جب نکسن انتظامیہ ان کی بنگلہ دیش پالیسی کی وجہ سے ان سے بہت ناراض تھی لیکن اس الزام کی تائید کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
نہ ہی اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب دیا گیا کہ ایک بینک کیشیئر نے بغیر کسی دستاویز کے اتنی بڑی رقم ایک نامعلوم شخص کے حوالے کیسے کی؟
یہ رقم آج شاید بہت بڑی نہ لگے لیکن اس وقت یہ بہت بڑی رقم تھی۔ اگر آپ مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے آج اس رقم کا حساب لگائیں تو یہ رقم تقریباً 170 کروڑ روپے بنتی ہے۔
ریڈی کمیشن نے پولس کی تفتیش پر کئی سوال اٹھائے
اس دھوکہ دہی کی زیادہ تر رقم برآمد ہوئی اور باقی پانچ ہزار سات سو روپے ملہوترا نے اپنی جیب سے ادا کئے۔
اس سے بینک کو کوئی مالی نقصان نہیں ہوا لیکن اس کی شبیہ کو ضرور داغدار کیا۔ سٹیٹ بینک نے محکمہ جاتی انکوائری کے بعد وید پرکاش ملہوترا کو ملازمت سے برطرف کردیا تھا۔
اندرا گاندھی نے ریڈی کمیشن کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ملہوترا سے کبھی نہیں ملیں۔
انھوں نے یاد دلایا کہ جب وزیر داخلہ چرن سنگھ نے پارلیمنٹ میں الزام لگایا کہ ملہوترا کو بینک سے برخاست کرنے کے بعد ماروتی فیکٹری میں نوکری دی گئی تو انھوں نے اس بارے میں تمام معلومات اکٹھی کیں اور پتہ چلا کہ ملہوترا کا ماروتی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
23 اکتوبر 1978 کو دی گئی اپنی حتمی رپورٹ میں ریڈی کمیشن نے دہلی پولیس کی تحقیقات پر کئی سوال اٹھائے ہیں۔
ان کے مطابق تحقیقات کے کئی پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا۔ اس معاملے میں پولیس کی تفتیش کے اصول پر عمل نہیں کیا گیا کہ جب تک کسی کو مکمل کلین چٹ نہیں مل جاتی، وہ مشتبہ ہی رہتا ہے۔
کمیشن کے سامنے یہ آیا کہ اس معاملے میں ایف آئی آر تحقیقات شروع ہونے کے بعد درج کی گئی تھی اور اسے پولیس نے خود تیار کیا تھا اور وہ بھی رقم کی وصولی کے بعد۔
ناگروالا نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ فضائیہ کا ایک طیارہ ان کا انتظار کر رہا ہے تاکہ یہ رقم بنگلہ دیش لے جا سکے۔ لیکن اس معاملے کی مزید تحقیق نہیں کی گئی۔
جسٹس ریڈی نے دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی سوویت معاہدے پر چرچل کے تبصروں کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’یہ کیس بھی ایک معمہ ہے جس کے رازوں پر سے پردہ نہیں اُٹھا۔‘