’کاسمیٹک فراڈ‘ پر پانچ سال قید، 4 کروڑ 90 لاکھ جرمانہ، نیب راولپنڈی کی تاریخ میں جعل سازی پر سزا پانے والی پہلی خاتون

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی دارالحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی کی احتساب عدالت نے لوگوں کو کاسمیٹک کے کاروبار کا جھانسہ دیکر ان سے کروڑوں روپے بٹورنے کا الزام ثابت ہونے پر ایک خاتون کو پانچ سال قید اور چار کروڑ نوے لاکھ جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
نیب راولپنڈی کی تاریخ میں یہ پہلی خاتون ہیں جنھیں جعل سازی اور دھوکہ دہی کا الزام ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی ہو۔
مجرمہ سعدیہ انور کے ساتھ کاروبار کرنے والے ایک شخص شعیب مجید نے، جو کہ راولپنڈی کے علاقے راجہ بازار میں کاسمیٹک کا کاروبار کرتے ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ مجرمہ کے شوہر ندیم انور سنہ 2018 میں ان کے پاس پہلے تو بطور ایک گاہک آئے تھے۔
بعد میں جب ان سے شناسائی ہوئی تو انھوں نے ان سمیت اس علاقے میں اس کاروبار سے وابسطہ دیگر دوکانداروں کو بتایا کہ ان کی اہلیہ بیرون ممالک سے کاسمیٹک کا سامان منگوا کر ملک کے بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز پر سپلائی کرتی ہیں۔
شعیب مجید کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق دونوں میاں بیوی شہر کے مختلف علاقوں میں واقع کاسمیٹک کی دوکانوں کے علاوہ مختلف بیوٹی پارلرز کا چکر لگاتے تھے اور ان کو بھی سستے داموں کاسمیٹک کی اشیا درامد کرنے کے لیے ان کے ساتھ کاروبار کرنے کا کہتے تھے۔
انھوں نے کہا کہ دونوں میاں بیوی نے ان سمیت دیگر دوکانداروں کو بتایا ہوا تھا کہ وہ دوبئی سے کاسمیٹک کا سامان منگواتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ چونکہ مجرمہ کے شوہر کے ساتھ تعلقات کافی اچھے تھے اور اعمتاد کا رشتہ بھی قائم ہو گیا تھا اس لیے ان سمیت متعدد دوکانداروں نے ان سے کاسمیٹک کا سامان منگوایا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شعیب مجید کے مطابق کچھ عرصے تک انھوں نے جو سامان منگوایا وہ انھیں فراہم کیا گیا جس سے اعتماد میں مزید اضافہ ہو گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ اس کے بعد جب انھوں نے کاسمیٹک کا سامان منگوانے کے لیے ان دونوں میاں بیوی کو بیس لاکھ روپے ادا کیے اور مقررہ وقت تک جب سامان نہ پہنچا تو ان سمیت دیگر دوکانداروں کو بھی تشویش ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے
شعیب مجید کے مطابق انھوں نے جب سعدیہ انور اور ان کے شوہر سے رابطہ کیا تو پہلے تو یہ جواب دیا گیا کہ کسٹم کلئیر نہ ہونے کی وجہ سے مال کی سپلائی میں تاخیر ہو رہی ہے، تاہم اس کے بعد وہ دونوں منظر سے غائب ہوگئے۔
نیب راولپنڈی کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق سعدیہ انور اور ان کے شوہر ندیم انور کے خلاف 33 سے زیادہ شکایات موصول ہوئی تھیں، جن میں لوگوں سے کاروبار کی غرض سے مجموعی طور پر تین کروڑ 90 لاکھ روپے حاصل کیے گئے تھے۔
نیب حکام کے مطابق اس معاملے کی انکوائری سنہ 2019 کے آخر میں شروع کی گئی تھی اور پھر مارچ سنہ 2020 میں ان کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا گیا۔
نیب حکام کے مطابق جس وقت ان دونوں ملزمان کے خلاف انکوائری شروع ہوئی تو اس وقت ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈلوا دیے گئے تھے کیونکہ خدشہ تھا کہ کہیں وہ بیرون ملک فرار نہ ہو جائیں۔
نیب حکام کے مطابق ان دونوں ملزمان کو ریفرنس دائر کرنے سے پہلے ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔
نیب حکام کے مطابق راولپنڈی کی احتساب عدالت نے عدم ثبوت کی بنا پر ملزم ندیم انور کو اس مقدمے سے بری کر دیا تھا جبکہ جرم ثابت ہونے پر مجرمہ سعدیہ انور کو پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔
نیب حکام کے مطابق مجرمہ اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہے۔












