آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان میں سابق حکومت نے روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر برقرار رکھنے کے لیے آٹھ ارب ڈالر خرچ کیے
پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ کو جمعہ کو بتایا گیا کہ سابق حکومت نے ڈالر کی قدر کو مصنوعی طور پر کم رکھنے کے لیے ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر سے آٹھ ارب ڈالر کی رقم خرچ کی تھی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کی طرف سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں حالیہ دنوں میں تیزی سے کمی کے بارے میں ایک توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے محصولات کے وزیر مملکت حماد اظہر نے بتایا کہ موجودہ حکومت کو ورثے میں ملنے والی معیشت انتہائی ابتر حالت میں تھی۔
یہ بھی پڑھیے
حکومت کی طرف سے معیشت کو بہتر کرنے کی بھرپور کوششیں کرنے کے دعوی کو دھہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال دسمبر میں ڈالر کی قیمت 104 روپے تھی جبکہ مئی میں روپے کی قدر گر کر ڈالر کے مقابلے میں 124 روپے پر پہنچ گئی اور جون میں اس میں مزید گراوٹ دیکھنے میں آئی اور ڈالر 129 روپے کا ہو گیا۔
انھوں نے روپے کی قدر میں مزید کمی کے بارے میں گورنر اسٹیٹ بینک کے ایک بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ نہیں ہو گا۔
وزیر مملکت کا بیان ابھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ ایوان میں کورم کی نشاندھی کر دی گئی جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی کو کچھ دیر کے لیے روکنا پڑ گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ گذشتہ حکومت کے دور ملکی تجارتی خسارے میں شدید اضافہ کی وجہ سے پاکستان کو زرمبادلہ کی شدید کمی کا سامنا ہو گیا تھا۔
موجودہ حکومت کو زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر کرنے کے لیے فوری طور بارہ ارب ڈالر کی ضرورت تھی جس کو پورا کرنے کے لیے سعودی عرب، چین، متحدہ عرب امارات اور ملیشیا سے مالی تعاون کی مدد کی درخواست کی گئی۔
اس صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے حکومت نے آئی ایم ایف سے بھی رجوع کیا تھا اور اس سے آٹھ ارب ڈالر کے امدادی تعاون حاصل کرنے کے لیے بات چیت چل رہی ہے جس کا پہلا دور مکمل ہو چکا ہے۔