آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فیفا کے ایک اعلی عہدیدار شیخ احمد الفہد دھوکہ دہی کے الزامات کے بعد مستعفی
فیفا کے ایک اعلی عہدیدار شیخ احمد الفہد الصباح نے دھوکہ دہی کے الزامات سے انکار کے ایک دن بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔
میڈیا میں آنے والی رپورٹس کے مطابق ان کا تعلق فیفا کے سابق آڈٹ اور تعمیل کی کمیٹی کے رکن رچرڈ لائی سے بتایا گیا ہے جن پر رشوت ستانی کے الزام میں پابندی عائد کی گئی ہے۔
لائی نے جمعرات کو امریکی عدالت میں نو لاکھ پچاس ہزار ڈالر کی رشوت لینے کا اعتراف کیا تھا۔
شیخ احمد نے ایک بیان میں کسی بھی غلط کام کے ارتکاب سے انکار کیا تھا۔
53 سالہ شیخ احمد فیفا کی رولنگ کونسل کے رکن اور پبلک کونسل آف ایشا کے صدر تھے اور انھوں نے سنیچر کو کہا تھا کہ وہ میڈیا میں آنے والی افواہوں سے با خبر ہیں اور ان کے بقول وہ ان الزامات پر حیران ہیں۔
عدالتی دستاویزات میں شیخ احمد کو براہِ راست نامزد نہیں کیا گیا تھا تاہم کہا گیا تھا کہ ایسی شخصیت ہیں جو فیفا، کویت فٹ بال ایسوسی ایشن اور اولمکپس آف ایشیا کونسل کے اعلی عہدے دار ہیں۔
اپنے ایک دوسرے بیان میں انھوں نے استعفے کے اعلان کے ساتھ کہا کہ ایسا انھوں نے فیفا کے مفاد میں کیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’رچرڈ لائی کی غیر قانونی ادائیگیوں کے حوالے سے میں اپنا پچھلا بیان دہراؤں گا کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ ‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’میں اس حوالے سے متعلقہ حکام سے بات کروں گا تاکہ یہ غلط ثابت ہو ، میرے لیے یہ الزامات حیران کن ہیں۔‘
’تاہم میں نہیں چاہتا کہ ان الزامات کی وجہ سے ایشیئن فٹ بال کنفیڈریشن اور فیفا کے کانگرس میں تفریق پیدا ہو۔ اس لیے میں فیفا کے بہترین مفاد میں فیفا کونسل کے امیدوار کی حیثیت سے نام واپس لیتا ہوں اور فٹ بال کے دونوں عہدوں سے استعفیٰ دیتا ہوں۔ ‘
شیخ احدم کا کہنا تھا ’جب یہ الزامات غلط ثابت ہو جائیں گے میں فٹ بال کے لیے اپنی خدمات جاری رکھوں گا۔‘