ایک سال میں ٹرمپ کی دولت میں 80 کروڑ ڈالر کی کمی

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ میں رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار کہا تھا ’میری خوبصورتی کا ایک جزو یہ ہے کہ میں بہت امیر ہوں‘، لیکن بزنس میگزین فوربز کے مطابق وہ گذشتہ سال کے مقابلے اب بہت کم امیر رہ گئے ہیں۔
فوربز نے ڈونلڈ ٹرمپ کی دولت کا تازہ تخمینہ پیش کیا ہے جس میں یہ بتایا گيا ہے کہ سنہ 2015 سے اب تک ان کی دولت میں 80 کروڑ ڈالر کی کمی واقع ہوئي ہے۔
اور اب ان کی مجموعی دولت تقریباً تین ارب 70 کروڑ امریکی ڈالر ہے۔
ميگزین میں کہا گيا ہے ان کی دولت میں کمی کا سبب نیویارک میں زمین اور مکان کی قیمت میں کمی ہے۔
’میڈاز ٹچ‘ نامی کتاب لکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ایک ڈیل میکر ان چیف یعنی معاہدہ کرانے والے کا سربراہ ہونا چاہیے۔
سوموار کے صدارتی مباحثے کے دوران انھوں نے کہا: ’میری شاندار آمدنی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اس ملک کی قیادت ایسے آدمی کے ہاتھ میں ہو جو پیسے کے بارے میں خاطر خواہ علم ہو۔‘
80 کروڑ کی کمی کیسے؟

،تصویر کا ذریعہGetty
ميگزین نے جن 28 عمارتوں کا تخمینہ لگایا ان میں سے 18 کی قدرو قیمت میں کمی واقع ہوئي ہے جس میں مین ہٹن کے ففتھ اوینو میں واقع ’ٹرمپ ٹاور‘ بھی شامل ہے۔
فوربز کے مطابق 40 وال سٹریٹ اور فلوریڈا کے پام بیچ میں ان کے ذاتی کلب ’مار اے لیگو‘ کی قدرو قیمت میں بھی کمی واقع ہوئي ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ان کی بعض املاک کی قدروقیمت میں اضافہ بھی ہوا ہے جس میں ان کی سان فرانسسکو کی دوسری سب سے بلند عمارت بھی شامل ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ دوسرے نمائندوں کی طرح اپنے صدارتی اخراجات کے لیے ڈونرز پر منحصر نہیں اور وہ اپنی انتخابی مہم پر خود خرچ کرنے کے اہل ہیں۔
اور ابھی تک انھوں نے پانچ کروڑ ڈالر کی رقم مہم پر خرچ کی ہے جبکہ اس میں کچھ کو کرائے کے طور پر واپس بھی حاصل کیا ہے کیونکہ ان کی مہم کا دفتر ٹرمپ ٹاور میں ہے۔
فوربز کے مطابق میکسیکو کے تارکین وطن کے بارے میں ٹرمپ کو ان کا اپنا بیان بھی مہنگا پڑا ہے اور انھوں نے تقریباً دس کروڑ ڈالر این بی سی یونیورسل، یونی ویژن، میکیز اور ديگر کمپنیوں کے ساتھ معاہدے ختم ہونے میں گنوایا ہے۔
کتنی دولت؟

،تصویر کا ذریعہGetty
ٹرمپ کے پاس کتنی دولت ہے یہ کسی کو معلوم نہیں لیکن جب انھوں نے وفاقی انتخابی کمیشن کے سامنے اپنی دولت کا گوشوارہ پیش کیا تھا تو ان کی مہم کی جانب سے کہا گيا تھا کہ ان کے پاس دس ارب ڈالر سے زیادہ کی دولت ہے۔
لیکن فوربز کے مطابق یہ تین ارب 70 کروڑ ڈالر ہے جبکہ بلوم برگ کے مطابق یہ تین ارب ہے اور فارچون کا کہنا ہے کہ یہ تین ارب 90 کروڑ ڈالر ہے۔
ان کے ناقدین ان پر دولت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیکس ادا کرنے کی تفصیلات نہ ظاہر کیے جانے پر یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ان کے بینک میں اتنے پیسے نہیں جتنا وہ دعوی کرتے ہیں یا پھر وہ صحیح طور پر ٹیکس ادا نہیں کر رہے ہیں۔
سوموار کو صدارتی مباحثے کے دوران ان کی حریف ہلیری کلنٹن نے کہا تھا کہ ٹیکس ریٹرن کے بارے میں نہ بتانے کا مطلب یہ ہے کہ ’وہ واقعتاً کچھ اہم چیز، یہاں تک کہ خطرناک چیز چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
لیکن اگر کل وہ اپنے ٹیکس کی تفصیلات جاری بھی کر دیتے ہیں تو اس سے ان کی دولت کا صحیح اندازہ سامنے نہیں آ سکے گا کیونکہ ٹیکس تو آمدن پر عائد ہوتا ہے اور اس سے ان کی املاک کی قیمت اور ان کے قرض کے بارے میں کچھ بھی ظاہر نہیں ہوتا۔







