ترکی کے مزید ٹینک شام میں داخل

،تصویر کا ذریعہEPA
ترک میڈیا کے مطابق ترکی نے خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف آپریشن کے لیے شمالی شام میں مزید ٹینک بھیجے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق ترکی کے ٹینک شمالی شام میں ترکی کے سرحدی گاؤں کیلیس سے داخل ہوئے۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ ٹینکوں کے داخلے کے بعد شام کے علاقے میں سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔
اس علاقے میں ترک فوج کی پیش قدمی کے بعد شہریوں کو انخلا کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔
میڈیا کے مطابق ٹینکوں کی معاونت ترکی کی آرٹلری کر رہی ہے جو دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہی ہے۔
رپوٹس کے مطابق شمالی شام میں 20 ترک ٹینک، پانچ بکتر بند گاڑیاں آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔
ترک فوج کی یہ کارروائی جرابلس سے 55 کلومیٹر جنوب مغرب میں کی جا رہی ہے۔ جرابلس میں ترکی نے پچھلے ہفتے اپنا پہلا آپریشن کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغیوں کا کہنا ہے کہ ترکی کے آپریشن کا مقصد دولت اسلامیہ پر مشرق اور مغرب دونوں جانب سے دباؤ ڈالنا ہے اور اب تک انھوں نے کم ازکم آٹھ گاؤں دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے واپس حاصل کیے ہیں۔
ترکی کی جانب یہ آپریشن ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب تین روز قبل ہی ترکی نے شامی بحران میں امریکی کردار پر تنقید کی تھی۔
ترکی کی فوج شام میں دولت اسلامیہ کو نشانہ بنا رہی ہے لیکن ساتھ ساتھ کرد جنگجوؤں کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔
حالیہ کارروائی جرابلس کے جنوب مغرب میں 55 کلومیٹر دور کیا گیا ہے جہاں سے ترکی نے شام میں گذشتہ ماہ اپنی پہلی کارروائی کی تھی۔
برطانیہ سے شام میں انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے سریئن آبرزرویٹری نامی گروہ کا کہنا ہے کہ باغیوں نے جرابلس اور مغربی علاقے دونوں کے اطراف میں موجود گاؤں دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے واپس لے لیے ہیں۔







