جاپانی بچے نے اپنے والد کو ’معاف کر دیا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
جنگل میں تنہا چھ راتیں گزارنے والے سات سالہ جاپانی بچے کے والد نے کہا ہے کہ ان کے بیٹے نے انھیں معاف کر دیا ہے۔
سات سالہ بچے یاماتو تنُوکا کو ان کے والدین نے سزا کے طور پر گھنے جنگل میں چھوڑ دیا تھا جہاں اس نے چھ راتیں تنہا بسر کیں۔
٭ <link type="page"><caption> یاماتو تنُوکا جنگل میں کیسے زندہ رہا؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/06/160603_how_japanese_missing_boy_survived_zh.shtml" platform="highweb"/></link>
44 سالہ تاکایوکی تنُوکا اور ان کی اہلیہ نے شمالی جزیرے ہوکیدو میں 28 مئی کو یاماتو کو ایک سڑک کے کنارے سزا کے طور پر تنہا چھوڑ دیا تھا۔
جب وہ واپس آئے تو بچہ وہاں نہیں تھا۔ بچے کو بڑے پیمانے پر تلاش کیا گیا اور بالآخر وہ جمعے کو ایک فوجی اڈے پر ملا۔

،تصویر کا ذریعہAP
اس واقعے نے جاپان میں بچوں کی پرورش کے بارے میں ایک بحث چھیڑ دی ہے۔
یاماتو تنُوکا نے ٹی بی ایس نامی نشریاتی ادارے کو پیر کو ایک انٹریو میں بتایا: ’میں نے اس سے کہا کہ ڈیڈی کے سبب آپ کو اتنی مشکلات سے گزرنا پڑا۔ میں معذرت خواہ ہوں۔‘
اس کے بعد میرے بیٹے نے کہا: ’آپ ایک اچھے ابا ہو میں آپ کو معاف کرتا ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاماتو تنُوکا کو فی الحال طبی معائنے کے لیے ہسپتال میں رکھا گیا ہے اور امید ہے کہ اسے منگل کو وہاں سے چھٹی مل جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہAP
مینیچی اخبار کے مطابق بچے نے کہا کہ رونے کی وجہ سے وہ سمت کا اندازہ نہیں لگا سکا اور پانچ گھنٹے تک چلتے رہنے کے بعد اس گھر میں پہنچا جہاں وہ دو گدّوں کے درمیان سویا اور کسی سے اس کی ملاقات نہیں ہوئی۔
اس نے بتایا کہ اس نے وہاں پرموجود ایک نلکے سے پانی پیا لیکن چھ دنوں تک کچھ نہیں کھایا۔
اخبار کے مطابق جب یاماتو تنُوکا ملا تو اس کے جسم میں پانی کی قدرے کمی تھی، وہ بھوکا تھا ہاتھ پاؤں پر رگڑ کے نشان تھے لیکن بظاہر وہ صحت مند تھا۔
پولیس نے کہا ہے کہ وہ بچے کے والدین کے خلاف مقدمہ درج نہیں کرے گی۔







