بغداد میں کار بم دھماکے، ہلاکتوں کی تعداد 93 ہوگئی
عراق میں پولیس اور طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کے دارالحکومت بغداد کے جنوبی حصے میں ہونے والے تین کار بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں تعداد کم از کم 93 ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق پہلا دھماکہ شیعہ آبادی والے علاقے صدر سٹی میں بدھ کی صبح اس وقت ہوا جب بازار میں لوگوں کی بھیڑ تھی۔ اس دھماکے میں 64 افراد ہلاک اور 87 زخمی ہوئے۔
دوپہر کو دو مزید خودکش کار دھماکے شمالی ضلعے کاظمیہ اور جامعہ میں ہوئے جن میں پولیس چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان دھماکوں میں کم از کم 29 افراد ہلاک ہوئے۔
خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے شیعہ افراد کو نشانہ بنایا ہے۔
خیال رہے کہ عراق کے شمالی اور مغربی علاقوں پر کنٹرول رکھنے والا سنی گروپ اکثر شیعہ افراد کو نشانہ بناتا رہتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
صدر سٹی میں ہونے والے پہلے دھماکے عینی شاہد اور پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد پھلوں اور سبزیوں کے ٹرک میں چھپایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ یہ دھماکہ ایک پِک اپ ٹرک کے ذریعے کیا گیا جس میں پھل اور سبزیاں لدی ہوئی تھیں۔
عینی شاہد نے مزید بتایا کہ ڈرائیور ٹرک کو بازار میں پارک کرنے کے فوراً ہی بھیڑ میں غائب ہو گیا۔
45 سالہ عینی شاہد کریم صالح کے مطابق دھماکے بہت شدید تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ بم دھماکے میں متاثرہ ہونے والے افراد میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے اور ان میں سے زیادہ تر کی حالت نازک ہے۔
حکام کے مطابق دھماکے سے قریبی عمارتوں اور دیگر گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
عراق میں فروری میں ہونے والے دو دھماکوں میں کم سے کم 70 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ دھماکے بھی صدر سٹی کے ہی ایک بازار میں ہوئے تھے۔







