غیر قانونی امیگریشن روکنے کےلیے ویزے کی معیاد میں کمی

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ تین برسوں میں برطانیہ کی وزارتِ داخلہ نے اوسطً سالانہ 30 ہزار ایسے طالب علموں کے ویزے کی معیاد مختصر کی ہے جن کا تعلق یورپی ممالک نہیں تھا۔
اسی عرصے کے دوران بیرون ممالک کےطالب علموں کے ویزے کو سپانسر کرنے والے 410 تعلیمی ادراوں کے لائسنس بھی منسوخ کیے گئے ہیں۔
محکمۂ داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ تعلیمی ویزے کی آڑ میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کریک ڈؤان کر رہے ہیں۔
دوسری جانب طالب علموں کی قومی اور بین الاقوامی یونین کا کہنا ہے کہ امیگریشن روکنے کے لیے طالب علموں کو ’قربانی کا بکرا‘ بنایا جا رہا ہے۔
بعض اہم سیاست دانوں کے خدشات کے باجود بھی محکمۂ داخلہ مہاجرین کی تعداد کا ہدف مقرر کرنے کے لیے ملک میں آنے والے اور برطانیہ چھوڑنے والے غیر ملکی طالبِ علموں کو گنتی ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق سنہ 2013 سے دسمبر 2015 کے دوران محکمۂ داخلہ نے 99635 طلبا کے ویزوں کی معیاد مختصر کی جبکہ اسی عرصے کے دوارن کئی تعلیمی اداروں کے لائسنس منسوخ کیے گئے جن میں کچھ نے بعد میں لائسنس بحال کروا لیے۔
محکمۂ داخلہ کا کہنا ہے کہ لائسنس یافتہ تعلیمی اداروں کی تعداد سنہ 2013 میں 1706 تھی جو دسمبر 2015 میں کم ہو کر 1405 رہ گئے ہیں۔
بی بی سی کو جانب پوچھے گئے سوال کے جواب میں محکمۂ داخلہ نے بند ہونے والی تعلیمی اداروں کی نوعیت اور تفصیلات نہیں بتائیں لیکن اپنے بیان میں تعلیمی ادارے بند کرنے وجہ انھوں نے ’ناقص تعلیم‘ کوقرار دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہthinkstock
اس عرصے کے دوران چند یونیورسٹیوں کو عارضی طور پر معطل کیا گیا لیکن کسی بھی یونیورسٹی کا لائسنس منسوخ نہیں ہوا۔
محکمہ داخلہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ سنہ 2010 کے بعد سے برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرون ممالک سے طلبا کی جانب سے درخواستوں کی شرح میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ رسلز گروپ کی یونیورسٹیوں کے لیے ویزہ کی درخواستیں 39 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’محکمۂ داخلہ تعلیمی ویزے کے نظام میں اصلاحات کر رہا ہے کہ تاکہ ایسا امیگریشن سسٹم بنایا جائے جو ملک کے مفاد میں ہے۔‘
دوسری جانب طلبا تنظیم نے ان اعدادوشمار پر اپنے احتجاج کا اظہار کیا ہے۔
نیشنل یونین آف سٹوڈنٹ کے ایک عہدایدار مصطفیٰ راجاہی کا کہنا ہے کہ محکمۂ داخلہ کے ان ’حیران کن‘ اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جعل سازی کو پکڑنے کے بجائے سیاسی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ برس مجموعی طور پر 201763 طالبِ علموں نے برطانیہ کے ویزے کی درخواست دی تھی۔
ڈیٹا کے مطابق سنہ 2010 میں 238000 افراد برطانیہ میں طویل مدت کے تعلیمی ویزے پر آئے جبکہ جون 2015 کو ختم ہونے والے سال میں 192000 بین الاقوامی طالبِ علموں کو طویل مدت کے تعلیمی ویزے جاری کیے گئے۔







