’دولت اسلامیہ وسیع پیمانے پر بچے استعمال کر رہی ہے‘

امریکہ کی جورجیا یونیورسٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھلے سال اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے لیے لڑتے ہوئے ہلاک ہونے والوں بچوں کی تعداد پہلے تخمینے سے دگنی ہے۔

یونیورسٹی کے تحقیق کاروں کو یہ بات گذشتہ 13 ماہ میں دولت اسلامیہ کا پروپیگنڈا اور ان بچوں کے قصیدے کی مانیٹرنگ سے معلوم ہوا ہے۔

دولت اسلامیہ کے پروپیگنڈے کے مطابق لڑائی میں 89 بچے ہلاک ہوئے جن کی عمریں آٹھ سے 18 برس تھیں۔

امریکی فوج کے کامبیٹنگ ٹیررازم سینٹر کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق جنوری 2015 سے جنوری 2016 کے درمیان 39 فیصد بچے کار خودکش دھماکوں میں، جبکہ 33 فیصد لڑائی میں ہلاک ہوئے۔

اس رپورٹ کے ایک مصنف چارلی ونٹر نے وکٹوریا ڈربیشر پروگرام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔ یہ تعداد صرف وہ ہے جس کے بارے میں دولت اسلامیہ نے اعلان کیا ہے۔‘

دولت اسلامیہ نے کسی بچے کے اصل نام اور ان کی شہریت ظاہر نہیں کی لیکن تحقیق کاروں نے ان بچوں کی عمریں اور شہریت کے بارے میں اندازہ لگا لیا ہے۔

محققین کے مطابق 60 فیصد بچوں کی عمریں 12 اور 16 کے درمیان تھی جبکہ چھ فیصد کی عمریں آٹھ اور 12 سال کے درمیان تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 18 فیصد بچوں کی ہلاکت ایسی کارروائیوں میں ہوئی جن سے ان کا واپس آنا ناممکن تھا۔ اس کے لیے ’انغماسس‘ کا عربی لفظ استعمال کیا گیا جس کا مطلب ’کود پڑنا‘ ہے۔

اس سے یہ مطلب لیا گیا ہے کہ ان بچوں نے دشمنوں کے علاقے میں جا کر کارروائیاں کیں اور ہلاک ہوئے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کم عمر ترین خودکش بمبار کی عمر آٹھ سے 12 سال تھی۔

دولت اسلامیہ کی جانب سے لڑنے میں ہلاک ہونے والے بچوں میں سے زیادہ تر یمن، سعودی عرب، تیونس اور لیبیا کے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشندولت اسلامیہ کی جانب سے لڑنے میں ہلاک ہونے والے بچوں میں سے زیادہ تر یمن، سعودی عرب، تیونس اور لیبیا کے تھے

اس بچے نے حلب میں پچھلے ماہ شامی باغیوں کے ہدف پر خودکش حملہ کیا تھا۔ دولت اسلامیہ نے اس بچے کی تصویر بھی شائع کی جس میں وہ اپنے والد کو خدا حافظ کہہ رہا ہے۔

شائع کردہ رپورٹ میں عراق اور شام کے درمیان بچوں کی نقل و حرکت پر بھی نظر ڈالی گئی ہے۔

ہلاک ہونے والے بچوں میں سے آدھے بچے عراق میں ہلاک ہوئے، تاہم عراق میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر بچے شامی تھے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دولت اسلامیہ شام میں بچوں کو تربیت دے کر عراق بھیجتی ہے۔

دولت اسلامیہ کی جانب سے لڑنے میں ہلاک ہونے والے بچوں میں سے زیادہ تر کا تعلق یمن، سعودی عرب، تیونس اور لیبیا سے ہے، تاہم بعض بچے برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا اور نائیجیریا سے بھی تعلق رکھتے تھے۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دولت اسلامیہ خاص آپریشنوں میں بچوں کے ہمراہ بالغوں کو بھی استعمال کرتے ہیں۔

چارلی ونٹر کا کہنا ہے کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ دولت اسلامیہ کے بچے اور نوجوان اسی طرح سے کارروائیاں کرتے ہیں جیسے بالغ کرتے ہیں۔

’دیگر مسلح تصادم میں بچوں کا استعمال آخری حربے کے طور پر کیا جاتا ہے تاکہ لڑنے والوں کی کمی کو فوری طور پر پورا کیا جا سکے یا ایسی کارروائیاں جن میں بالغوں کو استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن دولت اسلامیہ بچوں کو اسی طرح استعمال کرتی ہے جیسے بالغوں کو۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ جس تعداد میں دولت اسلامیہ بچوں کو استعمال کر رہی ہے وہ پریشان کن ہے۔

’دولتِ اسلامیہ کے بعد کی دنیا کیسی ہو گی، اس کا ابھی تصور نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ ہم ان بچوں کو غیر مسلح کرنے اور معاشرے میں دوبارہ لانے کے بارے میں غور نہ کریں۔ اس سے قبل کسی تنظیم نے اتنے وسیع پیمانے پر بچوں کو لڑائی کی طرف مائل نہیں کیا۔‘