’سعودی عرب کا ساتھ مغربی عوام کے مفاد میں نہیں‘

،تصویر کا ذریعہEPA
سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے شیعہ عالم نمر باقر النمر کے بیٹے نے مغربی ممالک کو سعودی عرب پر زیادہ دباؤ نہ ڈالنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
محمد النمر نے بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ امریکہ اور برطانیہ کا اتحاد طویل مدتی طور پر ان کے عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ: ’میں امریکی اور برطانوی حکومت سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ان کے مفادات ایک سے بھی ہیں تو بھی انھیں سعودی حکومت پر مزید دباؤ ڈالنا چاہیے۔‘
محمد النمر کا یہ بھی کہنا تھا کہ سعودی عرب میں اسلام کی جس قدامت پسند وہابی شکل پر عمل کیا جاتا ہے، شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے بھی وہی نظریات ہیں۔
’مثال کے طور پر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سعودی حکومت جس نظریے کی حامی ہے جیسے کہ وہابیت، یہ وہی نظریہ ہے جیسے دولت اسلامیہ استعمال کر رہی ہے۔ وہ اسے اپنے اعمال کو درست ٹھہرانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا: ’میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں انسانی حقوق کے بارے میں سوچنا چاہیے اور آنے والے زمانے میں طویل مدتی طور پر امریکہ اور برطانیہ کے مفاد کے بارے میں سوچنا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
محمد النمر نے مزید کہا: ’میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ بعض اوقات ہم اپنے بہت قریب کے مفاد کو ہی دیکھ پاتے ہیں لیکن اگر ہم اپنی عوام، امریکی عوام اور برطانوی عوام کے مفاد کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ طویل مدت میں یہ ان کے حق میں نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ سعودی حکومت کے ناقد شیخ النمر کو رواں ماہ کے اوائل میں سزائے موت دی گئی تھی۔
ان کی سزا پر دنیا بھر خصوصاً ایران میں شدید ردعمل دیکھنے کو ملا تھا اور مشہد اور تہران میں مظاہرین نے سعودی سفارتخانے کی عمارتوں پر دھاوا بول دیا تھا۔
اس واقعے پر پہلے سعودی عرب اور پھر قطر اور کویت سمیت خطے میں اس کے متعدد اتحادیوں نے ایران سے سفارتی تعلقات توڑ لیے تھے۔







