دہشت گردی کی منصوبہ بندی پر مسلمان جوڑے کو عمر قید

،تصویر کا ذریعہEPA
برطانیہ میں عدالت نے لندن میں دہشت گردی کی منصوبے بندی کرنے کے جرم میں مسلمان جوڑے کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ دونوں میاں بیوی سات جولائی کو لندن بم دھماکوں کے دس سال مکمل ہونے پر دہشت گردی کی مزید کارروائیاں کرنا چاہتے تھے۔
25 سال محمد رحمان نے لندن کی زیر زمین میٹرو اور ایک شاپنگ سینٹر کو نشانے بنانے کے بارے میں سوشل میڈیا پر تبصرے کیا تھا اور انھوں نے سوشل میڈیا پر یہ تبصرہ’خاموش بمبار‘ کے نام سے کیا۔
محمد رحمان اور اُن کی اہلیہ ثنا احمد خان کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے پر مجرم قرار دیا گیا تھا۔
مجرموں کو عمر قید کی سزا سناتے ہوئے جج نے محمد رحمان سے کہا کہ ’وہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جہاد کی کال پورے کرنے کے لیے پرعزم تھے‘
دہشت گردی کے اس مقدمے کی سماعت کے دوران ججوں نے رحمان کے اکاؤنٹ سے کی گئی ایک ٹویٹ بھی سنی، جس میں انھوں نے کہا کہ ’اگر پولیس نے تلاشی کے لیے میرے گھر پر چھاپا مارا تو میں اپنے گھر کو سائیڈ ٹیبل پر نصب ایک بٹن کے ذریعے اڑا سکتا ہوں۔ کوئی بھی میری طرح جہاد میں شامل نہیں ہو سکتا۔‘
دونوں میاں بیوی 7 جولائی کو لندن بم دھماکوں کے دس سال مکمل ہونے پر دہشت گرد حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
اس منصوبہ بندی میں شامل محمد رحمان کی اہلیہ ثنا احمد خان کا جرم یہ ہے کہ انھوں نے طاقتور بم بنانے کے لیے رقم اکٹھی کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہThames Valley Police
کاؤنٹر ٹیرریزیم یونٹ کے سربراہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ رحمان نے سوشل میڈیا پر انتہا پسند مواد شائع کیا اور انھوں نے انٹرنیٹ پر متعدد بار جہادی مواد تک رسائی حاصل کی ہے۔انھوں نے دہشت گردی کی کارروائی کرنے کے بارے میں اپنے اراداے کا اظہار بھی کیا تھا۔
جج نے فیصلہ سناتےہوئے کہا کہ ’اس جانب راغب ہونے کی وجہ تو معلوم نہیں ہو سکی‘ لیکن وہ انھیں یقین ہے کہ رحمان برطانیہ میں دہشت گردی کی کارروائی کرنا چاہتے تھے۔
سزا سنائے جانے سے قبل ثنا نے جج کے نام لکھے خط میں کہا کہ انھوں نے کئی ماہ قبل محمد رحمان سے طلاق لے لی ہے اور وہ اُن سے کافی عرصے سے فاصلے پر ہیں لیکن جج نے اُن کے بیان کو مسترد کر دیا۔







