لندن میں حملے کی تیاری کا جرم ثابت

 نادر سید نے شام جانے کی کوشش کی تھی تاکہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے ساتھ مل کر لڑیں لیکن انھیں سنہ 2014 میں ملک چھوڑنے سے روک دیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہCPS

،تصویر کا کیپشن نادر سید نے شام جانے کی کوشش کی تھی تاکہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے ساتھ مل کر لڑیں لیکن انھیں سنہ 2014 میں ملک چھوڑنے سے روک دیا گیا تھا

مغربی لندن سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو دولتِ اسلامیہ سے متاثر ہو کر لندن میں چاقو سے حملے کرنے کی تیاری کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

نادر سید جن کی عمر 22 سال ہے مغربی لندن کے علاقے ساؤتھ آل سے تعلق رکھتے ہیں اور انھیں گزشتہ برس نومبر میں ’ریمیمبرنس سنڈے‘ سے چند دن پہلے چاقو خریدنے کے کچھ ہی دیر بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

ولیچ کی کراؤن کورٹ میں سماعت کے دوران کہا گیا کہ نادر سید دولتِ اسلامیہ کے رہنماؤں سے متاثر ہوئے جو لوگوں کو مغربی اہداف پر حملوں کے لیے اکسا رہے تھے۔ ان اہداف میں پولیس اور فوجی بھی شامل تھے۔

جیوری نے 50 گھنٹوں کے مجموعی غور و فکر کے بعد اکثریتی فیصلہ سنایا اور نادر سید کو مجرم قرار دیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ نادر سید نے لِی رِگبی کے قاتلوں کے لیے تعریف کا اظہار کیا تھا اور یہ کہ انھوں نے شام اور عراق میں سر کاٹے جانے کی پُر تشدد وڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی۔

عدالت میں کہا گیا کہ نادر سید نے شام جانے کی کوشش کی تھی تاکہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے ساتھ مل کر لڑیں لیکن انھیں سنہ 2014 میں ملک چھوڑنے سے روک دیا گیا تھا۔

تاہم جیوری زیرِ سماعت دو اور افراد حسیب ہمایوں اور یوسف سید کے کیس کے بارے میں کسی فیصلے پر نہیں پہنچ سکی۔