لندن سے لاپتہ تین لڑکیوں کی منزل’شام‘

تینوں لڑکیاں جمعرات کو لندن سے استنبول کے لیے روانہ ہوئی تھیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنتینوں لڑکیاں جمعرات کو لندن سے استنبول کے لیے روانہ ہوئی تھیں

برطانوی دارالحکومت لندن میں پولیس نے لاپتہ ہونے والے تین لڑکیوں کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وہ ترکی کے راستے شام کا سفر کر رہی ہیں۔

ان میں 15 سالہ شمائمہ بیگم، 15 سالہ قضہ سلطانہ اور ایک نامعلوم 15 سالہ لڑکی شامل ہیں۔

یہ تینوں لندن کی بیتھنل گرین اکیڈمی میں زیرتعلیم تھیں اور جمعرات کو لندن کے نواح میں واقع گیٹوک ایئرپورٹ سے ترکی کے شہر استنبول روانہ ہوئی ہیں۔

پولیس افسر رچرڈ والٹن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تینوں برطانوی لڑکیاں شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کی نیت سے ترکی گئی ہیں۔

یہ تینوں اُس لڑکی کی دوست ہیں جو دسمبر میں شام گئی تھی۔

پولیس افسر والٹن کے مطابق ان تینوں لڑکیوں کے خاندان بے حد پریشان ہیں لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ تینوں لڑکیاں ابھی ترکی میں ہی موجود ہوں۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ پولیس کی جانب سے سماجی رابطوں پر جاری کی جانے والی اپیل کی وجہ سے ہو سکتا کہ وہ ترکی میں داخل نہ ہوں۔

قضہ سلطان کی عمر 16 سال ہے اور یہ اس گروپ میں سب سے بڑی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنقضہ سلطان کی عمر 16 سال ہے اور یہ اس گروپ میں سب سے بڑی ہے

یہ تینوں جمعرات کی صبح اپنے گھروں میں تھیں اور اس کے بعد اپنے والدین کو معقول وجوہات بتا کر گھر سے دن بھر باہر رہنے کی اجازت مانگی تھی۔

جمعرات کی شام کو تینوں لڑکیاں ٹرکش ایئرلائن کے ذریعے استنبول روانہ ہو گئیں۔

تیسری لڑکی کا نام والدین کی درخواست پر ظاہر نہیں کیا گیا۔

پولیس افسر کے مطابق وہ امید کرتے ہیں کہ تینوں لڑکیاں ’ہمارے خدشات اور تحفظات اور اپنی سلامتی کے بارے میں سن لیں اور گھر واپس آ جائیں جہاں ان کے خاندان ان کے لیے پریشان ہیں۔‘