کسی کو ترکی پر’بہتان تراشی‘ کا حق نہیں: صدر اردوغان

،تصویر کا ذریعہAP
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ساتھ تجارت کے روسی دعویٰ کو ’بہتان‘ کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔
روس کی وزارت دفاع نے ترکی کے صدر طیب اردوغان کے خاندان پر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ساتھ تجارت میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔
ترک صدر اردوغان نے سمگلنگ کا دعویٰ ثابت ہونے پر عہدے سے مستعفی ہونے کا وعدہ کیا تھا۔
<link type="page"><caption> کیا ترکی کا ردِعمل مناسب تھا؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151124_turkey_russia_jet_over-react_rh" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’بہتان تراشی روس کی روایت ہے، ثبوت ہے تو فراہم کریں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151201_turkey_response_putin_allegations_zs" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> روس اور ترکی کیا چھپا رہے ہیں؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151202_russia_trukey_conflict_wusat_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
روس کی جانب سے لگائے جانے والے ان الزامات کے جواب میں طیب اردوغان نے کہا کہ ’کسی کو بھی ترکی پر دولت اسلامیہ سے تیل خریدنے کا الزام لگا کر بہتان تراشی کا حق نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ روس کے ساتھ تعلقات کو مزید خراب ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روسی نائب وزیردفاع انتولی انتونوف نے کہا تھا کہ ترکی شام اور عراق سے ’چوری شدہ‘ تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ ترکی کی جانب سے روسی جنگی جہاز کو مار گرانے جانے کے بعد سے دونوں ممالک میں شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے۔
روسی صدر ولادی میر پوتن اس سے قبل انقرہ پر تیل کی فراہمی کے راستوں کے تحفظ کے لیے روسی جہاز مار گرانے کا الزام عائد کر چکے ہیں۔
بدھ کو ماسکو میں انتولی انتونوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ’دستیاب اطلاعات کے مطابق ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی قیادت، صدر اردوغان اور ان کا خاندان اس مجرمانہ کاروبار میں شامل ہیں۔‘
انھوں نے کہا: ’ترک قیادت نے انتہائی مایوسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ دیکھیں وہ کیا کر رہے ہیں۔‘
’انھوں نے ایک دوسرے ملک کی زمین پر حملہ کیا اور دیدہ دلیری سے اسے لوٹ رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
روسی وزارت دفاع نے سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ان سے دکھائی دیتا ہے کہ تیل کے ٹینکر ’دولت اسلامیہ‘ کے علاقے سے ترکی کی جانب جا رہے ہیں۔
اس کا کہنا ہے کہ ٹرک ترکی میں ریفائنریوں سمیت تین مقامات کی جانب سفر کر رہے تھے اور پھر وہ ایک تیسرے ملک کی جانب چلے گئے۔
روس کا کہنا ہے کہ ابھی وہ صرف ’ثبوت کا کچھ حصہ‘ فراہم کر رہا ہے اور صدر اردوغان اور خاندان کے بارے میں دعوے کے براہ راست ثبوت فراہم نہیں کیے۔
اس سے قبل پیر کو صدر اردوغان نے روسی صدر کو کہا تھا کہ وہ اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے ثبوت فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ سچ ثابت ہوا تو وہ عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔







