روسی پارلیمان نے بیرون ملک فوج کی تعیناتی کی منظوری دے دی

،تصویر کا ذریعہGetty
روس کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے متفقہ طور پر روسی صدر کو ملک سے باہر فوج تعینات کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب روس کی حکومت شام میں شدت پسند گروہ دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائی کرنے پر غور کر رہی ہے۔
روسی ایوان صدر کرملن کے اعلی اہکار سرگئی ایوانوف نے کہا کہ صدر کی طرف سے موصول ہونے والی درخواست کے حق میں 162 ووٹ ڈالے گئے جبکہ کسی رکن نے مخالفت میں ووٹ نہیں ڈالا اور نہ ہی کوئی رکن رائے شماری کے دوران غیر حاضر ہوا۔
سرگئی ایوانوف نے کہا کہ شام کے صدر بشارالاسد نے روسی صدر ولادمیر پوتن سے فوجی امداد کی درخواست دی تھی۔ انھوں نے مزید کہا کہ روسی فوج کو روس کے مفادات کے تحفظ کے لیے تعینات کیا جائے گا۔
روسی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی فیڈریشن کی کونسل کی سپیکر ویلنٹینا میٹونکونے کہا ہے کہ اس معاملے پر بند کمرے میں غور کیا گیا۔
ملکی قانون کے تحت پارلیمنٹ صدر کو بیرون ملک فوج تعینات کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ آخری مرتبہ سنہ 2014 میں جب روس کے صدر کو پارلیمنٹ نے یہ اختیار دیا تھا تو روس نے یوکرین کے خطے کرائمیا پر قبضہ کر لیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ روس کے صدر ولادی میر پوتن نے منگل کو امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ روس امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کرنے پر غور کر رہا ہے۔
پیر کو امریکہ اور فرانس نے ایک بار پھر بشار الاسد کے اقتدار چھوڑنے پر زور دیا تھا۔ تاہم اس کے جواب میں ولادی میر پوتن نے کہا تھا کہ ’وہ شام کے شہری نہیں ہیں تو انھیں کسی دوسرے ملک کے لیے قیادت چننے میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔‘
روسی صدر نے کہا تھا کہ روس اقوام متحدہ کی منظوری کے بعد ہی فضائی حملے کرے گا۔







