غیر ملکی دباؤ کے باعث عہدہ نہیں چھوڑوں گا : بشارالاسد

بشارالاسد سنہ 2014 میں 88 اعشاریہ سات فیصد ووٹ لے کر دوسری مرتبہ عہدہ صدارت کے لیے منتخب ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبشارالاسد سنہ 2014 میں 88 اعشاریہ سات فیصد ووٹ لے کر دوسری مرتبہ عہدہ صدارت کے لیے منتخب ہوئے تھے

شام کے صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی دباؤ کی وجہ سے اپنا اقتدار نہیں چھوڑیں گے۔

روسی ٹی وی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں صدر بشار الاسد کا کہنا تھا کہ عوام کو فیصلے کا اختیار ہے۔

خیال رہے کہ مغربی طاقتوں کا کہنا ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے بعد بشار الاسد کو اقتدار اپنے پاس نہیں رکھنا چاہیے۔

شامی صدر نے کہا کہ ایران ان کی حکومت کی سیاسی، اقتصادی اور فوجی مدد کر رہا ہے۔ تاہم انھوں نے اس دعوے کی تردید کی کہ ایران نے شام میں زمینی فوج بھجوائی ہے۔

بشارالاسد کا کہنا تھا کہ صدر عوام کی مرضی سے انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آتا ہے، اور اگر وہ گئے تولوگوں کے مطالبے پر ہی جائیں گے۔

شام کے صدر بشارالاسد سنہ 2014 میں 88 اعشاریہ سات فیصد ووٹ لے کر دوسری مرتبہ عہدہ صدارت کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ تاہم خانہ جنگی کے دوران ہونے والے ان انتخابات کے بارے میں اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کے زیرِ قبضہ علاقوں میں ہوئے اور ان کی شفافیت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

دہشت گردی کی معاونت بند کی جائے

شامی خانہ جنگی کے نتیجے میں ہزاروں افراد ملک چھورنے پر مجبور ہوئے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنشامی خانہ جنگی کے نتیجے میں ہزاروں افراد ملک چھورنے پر مجبور ہوئے

صدر بشارالاسد نے اپنے انٹرویو میں شام کی حانہ جنگی کی وجہ سے ملک چھوڑنے والوں اور اندرونِ ملک نقل مکانی کرنے والوں کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں نے نقل مکانی دہشت گردی کی وجہ سے کی ہے۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر مغربی طاقتیں تارکینِ وطن کے معاملے پر پریشان ہیں تو وہ دہشت گردوں کی مدد کرنا بند کریں۔

ادھر بدھ کو ہی اسرائیلی وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے روس جائیں گے اور صدر پوتن سے شام میں روسی مداخلت پر بات کریں گے۔

اس سے قبل امریکہ نے بھی شام میں روسی فوج کے اقدمات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔