آسٹریلیا نے شام میں پہلے فضائی حملے کی تصدیق کر دی

آسٹریلیا کے وزیر دفاع کیون اینڈریوز نے کہا کہ آسٹریلوی فضائیہ کے دو ہارنٹ طیاروں نے دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا کے وزیر دفاع کیون اینڈریوز نے کہا کہ آسٹریلوی فضائیہ کے دو ہارنٹ طیاروں نے دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے

آسٹریلیا کی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انھوں نے شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر طیاروں سے حملہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا دولت اسلامیہ کے خلاف بین الاقوامی فوجی اتحاد کا حصہ ہے اور شام میں اس کا یہ پہلا فضائی حملہ ہے۔

امریکہ نے ایک بیان میں کہا ہے آسٹریلیا نے پیر کو تین فضائی حملے کیے اور ان حملوں میں دولت اسلامیہ کے فوجیوں کو لانے لے جانے والی بکتر بند گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس سے قبل گذشتہ تقریباً ایک سال سے آسٹریلیا عراق میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

سابق آسٹریلوی وزیر اعظم ٹونی ایبٹ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ رائل آسٹریلیئن ایئرفورس اپنے دائرہ عمل میں اضافے کا ارادہ رکھتی ہے اور وہ امریکہ کی درخواست پر عراق کے علاوہ شام پر بھی حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس کے علاوہ انھوں نے شام میں ظلم و ستم کا شکار اقلیتوں کے 12 ہزار پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں جگہ دینے کی بات بھی کی تھی۔

امریکہ کی سینٹرل کمان کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق برطانیہ، متحدہ عرب امارات، کینیڈا اور فرانس ان چند ممالک میں شامل ہیں جنھوں نے گذشتہ دنوں کی جانے والی بمباری میں حصہ لیا ہے۔

آسٹریلیا دولت اسلامیہ کے خلاف بین الاقوامی فوجی اتحاد کا حصہ ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا دولت اسلامیہ کے خلاف بین الاقوامی فوجی اتحاد کا حصہ ہے

بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق میں 15 فضائی حملے کیے گئے ہیں جن میں بمبار، جنگجو اور دور سے کنٹرول کیے جانے والے طیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔

آسٹریلیا کے وزیر دفاع کیون اینڈریوز نے کہا کہ آسٹریلوی فضائیہ کے دو ہارنٹ طیاروں نے دولت اسلامیہ کے ایک احاطے میں جنگجوؤں کی نقل و حمل کی ایک گاڑی کی نشاندہی کی۔

انھوں نے کہا: ’فضائیہ کے ایک ہارنٹ طیارے نے ہدف کو تباہ کرنے کے لیے مخصوص ہتھیار کا استعمال کیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ حملہ اتنے فاصلے یا بلندی سے کیا گیا کہ آسٹریلوی طیارے کو تحفظ فراہم رہے۔ ہم جنگ کے انتہائی سخت نظم و ضبط کے تحت کام کرتے ہیں اور ان میں یہ قاعدہ بھی شامل ہے کہ جہاں تک ممکن ہو عام شہری ہلاک نہ ہوں۔‘