برطانیہ: اميگریشن بل میں غیرقانونی تارکین وطن کے لیے قید کی سزا

برطانیہ نے غیرقانونی تارکین وطن کی حوصلہ شکنی کے لیے سخت امیگریشن بل پیش کرنے والی ہے

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنبرطانیہ نے غیرقانونی تارکین وطن کی حوصلہ شکنی کے لیے سخت امیگریشن بل پیش کرنے والی ہے

برطانیہ اور ویلز میں غیر قانونی طور پر کام کرنے والوں کو چھ ماہ کی قید ہو سکتی ہے۔

یہ تجاویز برطانیہ میں مستقبل قریب میں پیش کی جانے والی امیگریشن بل میں شامل کی جا رہی ہیں۔

تارکین وطن کے متعلق نئے قانون کے اس بل کو موسم خزاں میں پیش کیا جائے گا۔ ان میں سامان باہر لے جانے والے ریستوران (ٹیک اویز) کے خلاف قانون کے ساتھ غیر قانونی تارکین وطن کو نوکری دینے والے شراب کے ٹھیکوں (آف لائسنسز) کے خلاف بھی تجاویز ہیں۔

اس کے تحت جرمانے ہوں گے جن کی حد مقرر نہیں کی گئی ہے اور تنخواہ کو ضبط کرلیا جائے گا۔

اميگریشن کے وزیر جیمز بروکنشائر نے کہا کہ حکومت موجودہ نظام کی کمیوں پر قدغن لگاتی رہے گی۔

خیال رہے کہ موسم گرما میں حکومت نے امیگریشن سے متعلق بہت سے اعلانات کیے ہیں جن میں سے یہ تازہ ترین ہیں۔

امیگریشن کے وزیر بروکن شائر غیرقانونی پناہ گزینوں کے خلاف سخت قانون کے حامی ہیں

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنامیگریشن کے وزیر بروکن شائر غیرقانونی پناہ گزینوں کے خلاف سخت قانون کے حامی ہیں

اگر کھانے پینے کا سامان باہر لے جانے کی اجازت دینے والی دکانوں اور شراب کے ٹھیکوں نے غیر قانونی تارکین وطن کو اپنے یہاں ملازم رکھا تو ان کے لائسنسز منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔

حکام اس نئے بل کے تحت چھوٹی موٹر کاروں کے ڈرائیوروں اور ان کے آپریٹروں کو بھی لانے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔

دوسرے کاروبار میں بھی غیر قانونی تارکین وطن کو ملازمت دیے جانے پر قانون میں تبدیلی ہوگی۔

جس کے بعد وہ یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ انھیں علم نہیں تھا کہ فلاں شخص کو برطانیہ اور ویلز میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ انھیں یہ دکھانا ہوگا کہ کسی کو نوکری دینے سے پہلے ان کی پوری طرح تفتیش کی گئی ہے۔

ملازمت دینے والوں کو مجرم پائے جانے کی صورت میں ان کی سزا کو دو سال سے بڑھا پانچ سال قید کردیا جائے گا اس کے علاوہ جرمانہ تو انھیں دینا ہی ہوگا۔

مسٹر بروکن شائر نے کہا کہ ’جو یہ سوچتا ہے کہ برطانیہ بہت نرم ہے انھیں اس بات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ اگر آپ یہاں غیر قانونی طور پر ہیں تو ہم آپ کو کام کرنے، فلیٹ کرایے پر لینے، بینک اکاؤنٹ کھولنے یا کار چلانے سے روکنے کے لیے اقدام کریں گے۔‘

برطانیہ میں غیرقانونی طور پر کام کرنے والوں کو قید کی سزا ہو سکتی ہے

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنبرطانیہ میں غیرقانونی طور پر کام کرنے والوں کو قید کی سزا ہو سکتی ہے

انھوں نے مزید کہا: ’ایک قوم کی حکومت کے طور پر ہم خرابیوں پر کریکڈاؤن کرتے رہیں اور ایک ایسا امیگریشن نظام بنائیں گے جو برطانوی باشندوں اور جو قانون کے تحت چلتے ہوں ان کے حق میں ہو۔‘

برطانیہ کی ’مائگریشن واچ‘ کے الپ محمد کا کہنا ہے کہ ’یہ صرف برطانیہ کی نرمی کی بات نہیں ہے بلکہ زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ پیغام باہر جائے کہ اگر آپ یہاں غیر قانونی طور پر کام کرتے پکڑے گئے تو آپ اور آپ کا مالک دونوں عدالت میں ہوں گے۔‘

انھوں نے امید ظاہر کی کہ ’حکام اپنے اختیارات کے استعمال سے نہیں کترائیں گے اگر چہ اس جانب ان کا ریکارڈ مثالی نہیں رہا ہے۔‘

اس سے قبل حکومت برطانیہ نے پناہ گزینوں کے متعلق اپنے ایک منصوبے کے تحت مالکِ مکان پر یہ لازم قرار دیا ہے کہ وہ پناہ کی درخواست مسترد ہونے والے پناہ گزینوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کر دیں۔