’عبادت کی اجازت ہے، تبلیغ کی نہیں‘

متحدہ عرب امارات میں اظہارِ رائے پر شدید پابندیاں عائد ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمتحدہ عرب امارات میں اظہارِ رائے پر شدید پابندیاں عائد ہیں
    • مصنف, میتھیو ٹلر
    • عہدہ, دوبئی

بظاہر دبئی میں آپ کو اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب کی کوئی علامت نظر نہیں آتی، لیکن اس شہر میں دیگر عقائد رکھنے والوں کے لیے خاصی رواداری پائی جاتی ہے۔

یہاں کے حکمرانوں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کو اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لیے مناسب جگہ میسر ہو۔

شہر کے سینٹ میری نامی رومن کیتھولک چرچ میں سفید چغے میں ملبوس فادر میتھیو کے سامنے عبادت کے غرض سے آنے والے تقریباً 60 لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ عبادت کے لیے آنے والوں میں ہر عمر اور طبقے کے لوگ نظر آ رہے تھے۔

جیسے ہی فادر میتھیو نے عبادت کا آغاز کیا تو اس چرچ کے ساتھ ہی واقع مسجد سے اذان کی آواز آنے لگی۔

یہ جمعرات کا دن تھا اور لوگ اپنےکام کاج سے فارغ ہو کر یہاں آئے تھے اور یہی وجہ تھی کہ کچھ لوگوں کے چہروں پر تھکاوٹ کے آثار نمایاں تھے۔ غیر متوقع طور پر یہ عبادت اردو زبان میں کی جا رہی تھی۔

واضع رہے کہ متحدہ عرب امارات میں، جس کا دبئی حصہ ہے، اظہارِ رائے پر شدید پابندیاں عائد ہیں۔ ملک میں ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کے علاوہ درجنوں سیاسی کارکن بھی پابندِ سلاسل ہیں اور یہاں مذہبی رواداری کی بھی کوئی طویل تاریخ نہیں ہے۔

سنہ 1958 میں موجودہ حکمران کے والد اور اس وقت کے حاکم شیخ راشد بن سعید المکتوم نے شہر کے ایک بازار کی چھت پر ایک ہندو مندر تعمیر کرنے کی اجازت دی تھی۔

آج اس مندر کے نیچے واقع بازار میں آپ کو لوگ ہندو دیوتاؤں اور دیویوں کی مورتیاں اور ان پر چڑھانے والے پھولوں کے ہار بیچتے نظر آئیں گے۔

متحدہ عرب امارات میں اس وقت تقریباً پانچ لاکھ ہندو آباد ہیں لیکن ملک میں اس عارضی مندر کے علاوہ ہندوؤں کے لیے کوئی اور عبادت کی جگہ موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ہفتے اس مندر میں سکھوں سمیت دسیوں ہزاروں لوگ عبادت کے لیے آتے ہیں۔

سنہ 1966 میں دبئی میں تیل دریافت ہونے کے بعد شیخ رشید نے زمین کا ایک ٹکڑا رومن کیتھولک مشن کوعطیہ کیا تھا۔

اسی زمین کے ٹکڑے پر سینٹ میری چرچ تعمیر کیا گیا تھا۔ تب سے اب تک دبئی کافی پھیل چکا ہے اور یہ چرچ اب دبئی کے وسط میں ایک مصروف شاہراہ کے قریب واقع ہے اور اس کے اردگرد کافی تعمیراتی کام ہوا ہے۔

دبئی میں مرکزی عیسائی عبادت جمعے کے روز کی جاتی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشندبئی میں مرکزی عیسائی عبادت جمعے کے روز کی جاتی ہے

چونکہ دبئی میں چھٹی صرف جمعے کو ہوتی ہے اسی لیے یہاں ہونے والی مرکزی عیسائی عبادت کا ایک انوکھا پن یہ ہے کہ یہ جمعے کے روز ہی کی جاتی ہے۔

سینٹ میری اور دیگر گرجا گھروں میں انگریزی، عربی اور اردو سمیت مختلف زبانوں میں عبادت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

سینٹ میری گرجا گھر سے ہی وابستہ ایک اور پادری فادر لینی کونلی نے مجھے بتایا کہ ’جمعے کو یہاں عبادت کے لیے سات ہزار لوگ آتے ہیں۔‘

اگرچہ فادر لینی کو دبئی میں موجود عیسائیوں کی کل تعداد، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق بھارت اور فلپائن سے ہے، کا تو علم نہیں تھا لیکن دبئی سے متعلق ایک بات ان پر بہت واضح تھی۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ ’ ہم اس طرح کی آزادی کی توقع نہیں رکھتے، لیکن چاردیواری کے اندر ہمیں اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی مکمل آزادی ہے۔‘

یہ ایک اہم نکتہ ہے کیونکہ اگر آپ دبئی میں گھومیں پھریں تو آپ کو اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی علامات نظر نہیں آئیں گی۔

گرجا گھروں کے باہر صلیب آویزاں کی اجازت نہیں ہے اور اگر کوئی کھلے عام تبلیغ کرے یا مسلمانوں کو اپنا مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے تو اسے جیل کے ساتھ ملک بدری کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

اردو میں ہونے والی اس عبادت کے اختتام پر میری ملاقات جیری رابٹ سے ہوئی جو دبئی میں موجود پاکستانی رومن کیتھولک کمیونٹی کے صدر ہیں۔

بڑے قد کاٹھ اور پراعتماد شخصیت کے مالک جیری کا تعلق کراچی سے ہے۔ وہ ایک بنک میں بطور سکیورٹی مینیجر کے کام کرتے ہیں اور گذشتہ 17 برس سے دبئی میں رہ رہے ہیں۔

جیسا کہ ہمیں پتہ ہے کہ پاکستان میں اکثر عیسائیوں کو پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ دبئی میں حالات کیسے ہیں؟

’بہت بہتر ہیں، ہمیں ایک اسلامی ملک میں مکمل آزادی حاصل ہے۔ یہاں کا ماحول بہت محفوظ ہے، ہمیں پاکستان میں ایسے ہی حالات کی ضرورت ہے۔‘

رومن کیتھولک فرقے کے سینٹ میری گرجا گھر کے ساتھ عیسائی پروٹسٹنٹ فرقے کا ہولی ٹرینیٹی نامی گرجا گھر واقع ہے اور اس کی تعمیر بھی ایک اونچی چار دیواری کے اندر کی گئی ہے۔

متحدہ عرب امارات میں بڑی تعداد میں قطبی عیسائی بھی آباد ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمتحدہ عرب امارات میں بڑی تعداد میں قطبی عیسائی بھی آباد ہیں

یہ چرچ بھی شیخ راشد کی جانب سے عطیہ کی گئی زمین پر بنایا گیا ہے۔ یہاں بھی ہر جمعے کو عبادت کے لیے بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق افریقہ اور جنوبی ایشیا سے ہوتا ہے۔

ہولی ٹرینیٹی چرچ میں ایک ساتھ مختلف زبانوں میں عبادت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ میں نے پہلے ہندی میں ہونے والی عبادت دیکھی اور پھر وہاں سے کورین میں ہونے والی عبادت کا رخ کیا جہاں نوجوان بلند آواز میں عیسائی مذہبی گیت گا رہے تھے۔

ایک اور کمرے میں قبطی عیسائی عبادت میں مصروف تھے اور اس کمرے میں موجود دو ٹی وی سکرینوں پر عربی اور قبطی زبان میں دعائیں چل رہیں تھیں۔

قطبی عیسائی مصر میں سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہیں اور انھیں اپنے ملک میں اکثر امتیازی سلوک اور پرتشدد کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں ہزاروں قطبی عیسائی آباد ہیں اور ایک نوجوان باریش قطبی پادری نے، جو گذشتہ بارہ برسوں سے دبئی میں رہ رہے ہیں، مجھے بتایا کہ ان کے فرقے کے لوگ یہاں بہت خوش ہیں: ’انھیں یہاں آزادی حاصل ہے اور وہ خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔‘

ساتھ کھڑے ایک شخص نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ ’یہاں زندگی مصر سے بہت بہتر ہے، اگر آپ قانون کی پاسداری کریں تو سب ٹھیک رہتا ہے، لیکن مصر میں اگر انھیں پتہ چلے کہ آپ قبطی ہیں تو۔۔۔‘ (اس نے بھدا سا منہ بنایا)۔

دبئی اور متحدہ عرب امارات میں اور بھی چرچ ہیں، اس کے علاوہ سکھوں کی بھی ایک عبادت گاہ ہے جو موجودہ حکمران شیخ محمد کی جانب سے دی جانی والی زمین پر بنائی گئی ہے۔

اگرچہ انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں کے حوالے سے دبئی کا ریکارڈ کوئی زیادہ اچھا نہیں ہے لیکن یہ انوکھا شہر کچھ لوگوں کے لیے مذہبی رواداری کی جنت ہے۔