یمن میں جیل توڑ کر ’سینکڑوں قیدی فرار‘

،تصویر کا ذریعہAFP
یمن میں حکام کے مطابق ایک جیل توڑ کر 12 سو کے قریب قیدی فرار ہوگئے ہیں جن میں القاعدہ کے مبینہ جنگجو بھی شامل ہیں۔
جیل توڑنے کا یہ واقعہ یمن کے وسطی شہر تعز میں جھڑپوں کے دوران پیش آیا۔
واضح رہے کہ یمن میں رواں سال مخالف گروہوں کے درمیان شدید جھڑہیں جاری ہیں۔
یمن میں جاری سیاسی بحران اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب ملک کے صدر عبدالربہ منصور ہادی کو حوثی باغیوں نے ملک چھوڑ پر مجبور کر دیا، جس کے بعد انھوں نے پہلے عدن اور بعدازاں سعودی عرب چلے گئے تھے۔
تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ قیدی جیل سے کیسے فرار ہوئے۔
سرکاری خبررساں ادارے سبا نے ایک سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ جیل پر القاعدہ کے حامیوں نے حملہ کیا تھا۔
تاہم ایک اور اہلکار نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ مخالف گروہوں کے درمیان شدید لڑائی کے دوران جیل سے قیدی فرار ہویے۔
خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا ایک سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہنا ہے کہ حوثی باغیوں اور مخالف گروہ کے درمیان شدید جھڑپوں کے دوران سکیورٹی گارڈز نے اپنی چوکیاں خالی چھوڑ دی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ 26 مارچ کو شروع ہونے والی یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کی فضائی بمباری سے اب تک جیل توڑنے کا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے۔







