سعودی عرب کا امریکہ پر سے بھروسہ کیوں اٹھ گیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
صدر اوباما کی گذشتہ ہفتے کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والی پریس کانفرنس کا اہم جملہ واشنگٹن اور اس کے عرب اتحادیوں کے درمیان ایران کے معاملے پر خلیج کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔
صدر اوباما نے کہا کہ ’ہم نے (اپنے اتحادیوں کو) ایران کی وسیع تر اندرونی ضرورتوں اور اس کے اپنے عوام سے اقتصادیات بہتر بنانے اور اقتصادی ترقی کے وعدوں کے متعلق اپنا بہتر تجزیہ دیا تھا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ ایران اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بعد آنے والے پیسے کو علاقے میں اپنے ناپاک عزائم کے لیے استعمال کرے گا تو انھوں نے کہا ’ایران کا زیادہ تر غیر مستحکم کر دینے والا عمل لو ٹیک اور کم خرچ ہے۔‘
صدر اوباما نے یہ پریس کانفرنس بھی خود کی تھی۔ خلیجی رہنما اسی وقت ہی مذاکرات کا پورا دن مکمل کرنے کے بعد وہاں سے نکلے تھے نہیں تو ان کے لیے سبھی شرکا کی اپنی طرف متوجہ ہوئیں آنکھوں سے بچنا مشکل ہوتا۔ اور وہ اسے تہران کے متعلق امریکی بھولے پن کے علاوہ کچھ نہ سمجھتے۔
ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں واشنگٹن اپنی پوری کوشش کر رہا ہے کہ عرب ممالک کے حوالے سے ایران کے ساتھ کوئی پوزیشن نہ لے۔
کیمپ ڈیوڈ میں خلیجی ممالک کی تنظیم جی سی سی کو پوری یقین دہانی کرائی گئی کہ واشنگٹن فوجی تعاون اور ہارڈ ویئر کے معاہدوں کے ساتھ ان کی حمایت جاری رکھے گا۔ لیکن مختلف نظریات کو کوئی نہیں بدل سکتا۔
ریاض کو یہ بات سمجھ آ گئی ہے کہ وہ جوہری معاہدے کے حوالے سے کچھ نہیں کر سکتا، لیکن وہ اپنے دیرینہ دشمن ایران کے خلاف زیادہ متحرک نظر آتا ہے۔ تہران چار دارالحکومتوں بیروت، بغداد، دمشق اور صنعا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا کر نئی خلیجی سلطنت وسیع کر رہا ہے۔
لبنان کے سابق وزیرِ اعظم سعد حریری نے اپنے حالیہ واشنگٹن کے دورے کے دوران امریکی انتظامیہ کی اس بات پر بہت تنقید کی تھی کہ اقتصادی پابندیوں کے اٹھانے سے آنے والے پیسے سے پل اور سڑکیں بنائی جائیں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک اندازے کے مطابق معاہدے کے بعد تہران کو تقریباً 100 ارب ڈالر ملیں گے۔

سعد حریری نے کہا کہ ’میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس میں سے حزب اللہ کو کتنا پیسہ دیا جائے گا۔‘
اقوامِ متحدہ کے ایک اہلکار کی طرف سے لگائے گئے ایک حالیہ اندازے کے مطابق ایران شام کی لڑائی میں تقریباً 35 ارب ڈالر سالانہ ڈال رہا ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں شام اور ایران شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کی مدد کے لیے ایک ارب ڈالر کی کریڈٹ لائن پر مذاکرات کر رہے تھے۔
عرب ممالک نہیں سمجھتے کہ ایران کا اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششیں ایک کم خرچ آپریشن ہے۔
جب بات فوجی برتری کی کی جائے تو سعودی عرب ایران سے اربوں ڈالر آگے ہے۔
ایک سینیئر سعودی اہلکار نے مجھے بتایا کہ انھیں جوہری معاہدے کے بعد ایران کو پیسہ دیے جانے پر بہت زیادہ تشویش ہے۔
جب میں نے پوچھا کہ کیا وہ معاہدے سے پہلے شام پر کچھ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تو حیران کن طور پر اس کا جواب تھا ’ہاں‘۔
برسوں کی علیحدہ علیحدہ پالیسیوں کے بعد اب سعودی عرب قطر، ترکی اور اردن کے ساتھ مل کر بہتر طور پر صدر اسد کے خلاف باغیوں کی حمایت کر رہا ہے اور حالیہ ہفتوں میں زمین پر اس کا پھل بھی نظر آیا ہے۔
اس طرح کی حکمتِ عملی کا فائدہ کچھ اس طرح بھی ہو سکتا ہے کہ ایران سیاسی مذاکرات پر رضامندی ظاہر کرے اور صدر اسد کو باہر نکال دے۔







