’ڈوبتے ہوئے تارکینِ وطن کو بھی نہ بچائیں‘

انڈونیشیا میں آچے صوبے کے ماہی گیروں کے مطابق حکام نے انھیں کہا ہے کہ وہ ساحل کے قریب کشتیوں میں بیٹھے تارکینِ وطن کی مدد نہ کریں، چاہے وہ ڈوب بھی رہے ہوں۔
گذشتہ ہفتے مقامی لوگوں نے میانمار سے بھاگ کر آنے والے کم از کم 700 بنگلہ دیشی اور روہنجیا مسلمانوں کو آچے کے ساحل کے قریب سے بچایا تھا۔ اس طرح اب آچے کے کیمپوں میں کم از کم 1,500 پناہ گزین رہ رہے ہیں۔
آرمی کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ ساحل پر کسی اور تارکینِ وطن کو لانا غیر قانونی ہو گا۔
علاقے میں سب ممالک نے تارکینِ وطن پر اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں۔
ہزاروں افراد جن میں زیادہ تعداد روہنجیا مسلمانوں کی ہے سمندر میں بے یارو مددگار پڑے ہیں۔ یہ لوگ میانمار سے غربت اور تشدد سے تنگ آ کر بھاگ کر آئے تھے۔ اس کے علاوہ کشتیوں پر کام کی تلاش میں آنے والے بنگلہ دیشی بھی موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امدادی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ کشتیوں پر لوگ ناکافی خوراک کی وجہ سے نڈھال ہیں اور انھیں فوری مدد کی ضرورت ہے۔ وہ لوگ جو بچ کر کسی طرح ساحل پر پہنچ گئے کہتے ہیں کہ کشتیوں پر خوراک کے لیے جان لیوا لڑائیاں ہوتی ہیں۔
جنوبی تھائی لینڈ میں بی بی سی کے نمائندے جوناتھن ہیڈ کہتے ہیں کہ یہ بات سوچنا ہی بہت مشکل ہے کسی حکومت نے کبھی اتنا سخت موقف اختیار کیا ہو جتنا جنوب مشرقی ایشیا کی حکومتیں اپنی ساحلوں پر تارکینِ وطن کے خلاف اختیار کر رہی ہیں۔
ملیشیا نے اپنی شمال مغربی سمندری سرحد داخلے کے لیے بند کر دی ہے۔ تھائی لینڈ نے جلدی جلدی اپنی کشتیوں کے انجن ٹھیک کر کے اپنی سمندری سرحدوں پر کھڑا کر دیا ہے۔ اب انڈونیشیا میں ماہی گیر کہہ رہے ہیں کہ انھیں حکم ملا ہے کہ وہ کسی کی بھی مدد نہ کریں، اگرچہ وہ ڈوب بھی رہے ہوں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ میانمار کو اس بحران کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں لیکن میانمار ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔
لیکن مسئلہ یہ نہیں کہ کون اس کا ذمہ دار ہے، اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ جانوں کو کس طرح بچایا جائے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ایک ماہی گیر نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی اہلکاروں کی وارننگ کے باوجود اگر ان کو کوئی ڈوبتا ہوا نظر آیا تو وہ اس کی مدد کریں گے۔
’وہ انسان ہیں، ہمیں ان کی مدد کرنا چاہیے۔‘
فوجی ترجمان فواد بسیا نے کہا کہ ماہی گیر خوراک، ایندھن اور پانی کشتیوں تک پہنچا سکتے ہیں یا انھیں ٹھیک کرنے میں مدد دے سکتے ہیں لیکن ان کو ساحل پر لانا، انھیں انڈونیشیا میں غیر قانونی طور پر لانے کے مترادف ہو گا۔







