سعودی خواتین کے چھوٹے چھوٹے قدم

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
گذشتہ دس برسوں میں سعودی خواتین نے ملازمتوں، یونیورسٹیوں اور حتیٰ کہ سیاست کے میدان میں خاصی ترقی کی ہے، لیکن انھیں ابھی تک گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ملی ہے اور انھیں کئی معاشرتی پابندیوں کا سامنا ہے۔ ذیل میں دارالحکومت ریاض سے ہماری نامہ نگار باربرا پلیٹ اشر نے آج کے سعودی عرب میں خواتین کے حالات کا جائزہ لیا ہے۔
ایک نہایت خوبصورت اور محفوظ بنگلے کے اندر خواتین نے اپنے سیاہ لبادے اتار کر ایک طرف رکھے دیے ہیں اور ورزش کے لیے جدید ترین کپڑے پہن لیے ہیں۔
یہ کام انھیں بڑی رازداری میں کرنا پڑتا ہے۔
عورتوں کے ورزش کے پروگرام سعودی عرب میں قدرے نئی چیز ہے اور خواتین نہیں چاہتیں کہ وہ اس مذہبی پولیس کی نظروں میں آ جائیں جس کی ذمہ داری ملک میں ریاست کی کٹر اسلامی اقدار کا نفاذ ہے۔
خواتین کے اس گروہ کو ورزش کرانے والی یورپی ماہر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں ’ لڑکیوں کو چھوٹی عمر میں کسی قسم کی جسمانی ورزش کا موقع نہیں ملتا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ جب اس قسم کے جِم میں آتی ہیں تو لگتا ہے کہ آپ کسی بچے کو اپنے پاؤں پر چلنا سکھا رہے ہیں۔‘
باقی خواتین کی طرح اس یورپی انسٹرکٹر کا بھی یہی کہنا تھا کہ مذہبی رجعت پسندوں کی جانب سے شدید رد عمل کے ڈر سے وہ بھی اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
یہ ہیلتھ کلب نئے آنے والوں کو آہستہ آہستہ اپنے پروگرام میں شامل کرتا ہے لیکن یہاں خواتین کو چاک و چوبند بنانے کے لیے سخت تربیت دی جاتی ہے جس میں وزن اٹھانا، جمناسٹک اور جسم میں خون کی گردش بہتر بنانے والی ورزشیں بھی شامل ہیں جنھیں ’کراس فِٹ‘ کہا جاتا ہے۔
میں نے دیکھا کہ خواتین کی ہمت بڑھانے والے مشہور گانوں کی دھنوں کے درمیان خواتین ویٹ لفٹنگ کر رہی تھیں اور اور ایک دوسرے کو شاباش دے رہی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محدود کامیابیاں
اگرچہ سعودی عرب میں خواتین کا ورزش کرنا ایک حساس مسئلہ ہے لیکن اس کے باوجود اس شعبے میں تحریک نظر آتی ہے۔
گذشتہ برس پہلی مرتبہ ایک شاہی حکمنامے کے تحت سکول جانے والی بچیوں کے لیے ورزش یا فزیکل ایجوکیشن لازمی قرار دے دی گئی۔ اس کے بعد سے کئی تنظیموں نے حکومت سے درخواست کی کہ انھیں خواتین کے لیے ورزش کے مراکز قائم کرنے کا لائسنس دیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اگر یہ درخواستیں منظور ہو جاتی ہیں تو اس سے خواتین کی بہتری کی ان کوششوں کو تقویت ملے گی جن کا آغاز شاہ عبداللہ نے دس سال پہلے کیا تھا۔
اب سعودی عرب میں زیادہ سے زیادہ خواتین کو ملازمتیں دی جا رہی ہیں، یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم خواتین کی تعداد مروں سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ خواتین سیاست کے میدان میں بھی اتر چکی ہیں اور اس وقت سرکاری مشاورتی ادارے مجلس شوریٰ میں خواتین کی تعداد 30 ہو چکی ہے۔
لیکن قانون اور کئی دیگر معاملات میں مردوں کے مساوی حقوق حاصل کرنے کے لیے سعودی خواتین کو ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔
آزادی کی مہم کو دھچکہ
ریاض کے ایک امیر علاقے میں قائم ریستوران میں کافی اور فروٹ جوس پیتے ہوئے تعلیم یافتہ اور پیشہ ور مرد اور خواتین ریاستی پالیسی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے باہم گفتگو میں مصروف ہیں۔
یہاں موجود ایک خاتون نے مجھے بتایا کہ ’یہ ریستوران ایسے ہی جیسے کسی دوسرے ملک میں بار یا شراب خانے ہوتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ یہاں شراب نہیں ہوتی۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
لیکن یہاں پر موجود وکیل اور بینکر خواتین میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں جو یہاں سے واپس گھر اپنی گاڑی چلا کر جا سکتی ہے۔ اب بھی سعودی عرب دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں خواتین سٹیئرنگ وہیل کے پیچھے نہیں بیٹھ سکتیں۔
اس پابندی کے خلاف ایک مہم بھی چلی لیکن حکومت کی جانب سے سختی اور عام لوگ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔نہ صرف یہ بلکہ وہ دو خواتین جنھوں نے احتجاج کی راہ اپنائی تھی انھیں حال میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت پکڑ لیا گیا تھا۔
اب انھیں رہا کر دیا گیا ہے، تاہم دہشت گردی کے الزامات کے تحت خواتین کی گرفتاری سے ان کی آزادی کی مہم کو نقصان ضرور پہنچا ہے، حالانکہ دوسری جانب یہ اطلاعات بھی آئیں کہ شوریٰ کونسل نے حکومت سے سفارش کر دی ہے کہ خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندیوں کو نرم کیا جائے۔
ریستوران میں موجود مارکٹنگ کی ماہر ایک خاتون نے مجھے بتایا کہ اگرچہ وہ سعودی عرب سے باہر تو گاڑی چلاتی ہیں لیکن ملک کے اندر خواتین کے گاڑی چلانے کے بارے میں قدرے محتاط ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
’ مجھے معلوم نہیں کہ سعودی عرب میں خواتین کا گاڑی چلانا محفوظ ہو گا۔ اگر اجازت مل بھی جاتی ہے تو میرا خیال نہیں کہ میں یہاں گاڑی چلاؤں گی۔ یہاں اکثر لوگوں کی سوچ غلط ہے اور یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے۔ یہ سوچ اتنی گہری ہے کہ لوگوں کو جھنجوڑنے کی ضرورت ہے۔‘
تھوڑی ہی دیر میں ریستوران میں یہ افواہ پھیل گئی کہ مذہبی پولیس کے اہلکار آ گئے ہیں۔
یہ سنتے ہی خواتین اور مرد ایک دوسرے سے دور ہو گئے اور مرد ریستوران کی ایک جانب اور خواتین دوسری جانب جا کر بیٹھ گئیں۔ پولیس اہلکار تھوڑی دیر کے لیے ریستوران کے مرکزی دروازے پر کھڑے رہے، جس کے بعد یہ پارٹی دم توڑ گئی۔
ملازمتوں میں اضافہ
ریستوران میں آئے ہوئے جوان پیشہ ور مردوں اور خواتین کی طرح سعودی عرب میں ایسی بہت سے خواتین ہیں جو حکومتی پالیسی سے مستفید ہو رہی ہیں۔ ملازمتوں میں خواتین کی نمائندگی زیادہ ہو رہی ہے۔ کچھ خواتین نے نت نئے کاروبار قائم کیے ہیں، تاہم ان کی اکثریت نے فیکٹریوں اور بڑی دکانوں میں کام کرنا شروع کر دیا ہے جہاں پہلے صرف مرد کام کرتے تھے۔
حِبا الزامل ایک کمپنی کے مالی امور کی سربرا ہیں جس کا نام النہدہ ہے۔ یہ ایک خیراتی ادارہ ہے جو خواتین کو معاشرتی خدمات فراہم کرنے کے علاوہ انھیں ملازمت میں تربیت بھی دیتا ہے۔ ان خواتین کی بڑی اکثریت ان ماؤں پر مشتمل ہے جو اپنے شوہروں کے بغیر بچے پال رہی ہیں۔
حِبا الزامل کے خیال میں خواتین کا گاڑی نہ چلا سکنا معاشرتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک معاشی مسئلہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ان کا کہنا تھا کہ ’ ہمارے اکثر منصوبوں پر اخراجات میں اضافے کی وجہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات ہیں۔ ہمیں ان خواتین کو اپنے ہاں لانے اور حفاظت سے واپس گھر چھوڑنے پر بہت زیادہ رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ میرے خیال میں گاڑی چلانے کی اجازت سے زیادہ اہم یہ ہے کہ یہاں عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر ہو۔‘
داارلحکومت ریاض میں میٹرو سسٹم کے بہت بڑے منصوبے پر کام جاری ہے اور لگتا ہے کہ ریاض کے رہائشیوں کو یہ سہولت جلد ہی دستیاب ہو جائے گی۔
سعودی خواتین ٹرانسپورٹ کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی انتظار کر رہی ہیں کہ ان کے نئے فرمانروا کیا اقدامات کریں گے۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مذہبی اشرافیہ سے ان کی قربت ان کے پیشرو کی نسبت زیادہ ہے۔ ابھی تک شاہ سلمان نے ملے جلے پیغامات بھیجے ہیں۔
اگر آپ دیگر لوگوں کے سامنے بات کریں تو سعودی خواتین یہی کہتی ہیں کہ شاہ سلمان خواتین کی آزادی کے ان اقدامات کو پیچھے نہیں دھکیل سکتے جن کا آغاز شاہ عبداللہ نے کیا تھا، تاہم اگر اکیلے میں پوچھیں تو اکثر خواتین اپنی بے چینی کا اظہار کرتی ہیں۔
لیکن اس کے باوجود تمام خواتین کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر ان کے ملک میں خواتین کے حوالے سے کوئی تبدیلی آتی ہے تو یہ آہستہ آہستہ ہی آئے گی۔







