روس کی جوہری آبدوز میں آتشزدگی

،تصویر کا ذریعہReuters
روسی میڈیا کے مطابق ماسکو میں جہاز بنانے کے ایک کارخانے کے اندر مرمت کے دوران ایک آبدوز کو آگ لگ گئی ہے۔
آبدوز میں لگنے والے آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ وہ گھاٹ جہاں مرمت کا کام ہو رہا تھا، اس میں پانی چھوڑ دیا گیا تھا تاکہ آگ بجھ سکے۔
جہاز سازی کے کارخانے کے ایک ترجمان کے مطابق اگرچہ آگ بجھ گئی ہے لیکن جلنے کے عمل کو مکمل طور پر روکنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
ترجمان نے روسی خبر ایجنسی تاس کو بتایا کہ آگ بجھانے کے لیے پانی کے استعمال سے آبدوز کے اندر نصب نظام اور اس کے آلات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ نہیں ہے کیونکہ آبدوز کا اندرونی ڈھانچہ مکمل طور پر بند ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اس آبدوز کے جوہری ری ایکٹر کو کوئی خطرہ نہیں۔
آبدوز کو یہ آگ سیورڈونسک کے کارخانے میں مرمت کے کام کے دوران لگی۔ آسکر ٹو کلاس کی اس آبدوز پر ہتھیار نصب نہیں ہیں اور نہ اس میں جوہری ایندھن ہے۔
یہ آبدوز 1992 میں شمالی بیڑے کا حصہ بنی اور اطلاعات کے مطابق مختلف کارروائیوں میں اس پر جہاز شکن میزائل نصب کیے جاتے ہیں۔
اس سے قبل خبر ملی تھی کہ آبدوز پر لگی آگ بجھانے کے لیے جھاگ استعمال کی جا رہی ہے لیکن اس سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روسی خبر ایجنسی تاس نے بتایا تھا کہ گھاٹ کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں اور آگ بجھانے والا عملہ اس مقام سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔
جہاز سازی کے کارخانے کے ایک ترجمان نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ مرمت کے کام سے قبل، آبدوز کے جوہری ری ایکٹر کے انتہائی اہم حصے اتار لیے گئے تھے۔ اس واقعہ میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
مقامی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ پانچ سو فٹ (ایک سو پچپن میٹر) لمبی آبدوز پر آگ اس وقت بھڑکی جب ویلڈنگ کے کام کے دوران انسولیشن کے اجزا شعلوں کی لپیٹ میں آگئے۔
سنہ 2011 میں روس کے شمال میں میمینسک کے خطے میں مرمت کے دوران ایک جوہری آبدوز کوآتشزدگی سے نقصان پہنچا تھا۔ اس آبدوز پر آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف نو افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہ آگ آبدوز اس ربڑ میں لگی تھی جو آبدوز کے بیرونی ڈھانچے کے اردگرد لپٹا ہوا تھا۔







