تکریت میں دولتِ اسلامیہ پر امریکی فضائی حملوں کا آغاز

امریکی فوج کے مطابق فضائی کارروائیوں کا مقصد دولتِ اسلامیہ کو شہر سے باہر نکالنا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنامریکی فوج کے مطابق فضائی کارروائیوں کا مقصد دولتِ اسلامیہ کو شہر سے باہر نکالنا ہے

امریکی فوجی حکام نے عراق کے شمال مغربی شہر تکریت میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے امریکہ سے ان حملوں کی درخواست کی تھی کیونکہ شہر کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے چھڑانے کے لیے ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا اور عراقی سکیورٹی فورسز کو زمینی کارروائیوں میں شدید مزاحمت کا سامنا تھا۔

امریکی فوج کے لیفٹینٹ جنرل جمیز ٹیری کے مطابق ان فضائی حملوں کا مقصد دولتِ اسلامیہ کے مضبوط ٹھکانوں کو درستگی سے نشانہ بنانا ہے تاکہ اس میں کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچے اور املاک بھی تباہ ہونے سے بچ جائیں۔

اس سے پہلے امریکہ تکریت میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف جاری آپریشن سے علیحدہ رہا ہے۔

عراقی سکیورٹی فورسز اور شیعہ ملیشیا کو تکریت میں مزاحمت کا سامنا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنعراقی سکیورٹی فورسز اور شیعہ ملیشیا کو تکریت میں مزاحمت کا سامنا تھا

امریکی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق عراقی فورسز نے بدھ کو تکریت میں اپنی کارروائیوں کا دوبارہ آغاز کیا ہے اور دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق ان نئی کارروائیوں کو دولتِ اسلامیہ کے خلاف اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔

’اس کا مقصد دولتِ اسلامیہ کو شہر سے باہر نکالنا ہے اور ایک بار پھر شہر کو عراقی حکومت کے کنٹرول میں دینا ہے۔‘

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے ایک نامہ نگار کے مطابق بدھ کی رات کو شہر کے اوپر جنگی جہازوں کی آوازیں سنائی دی اور اس کے بعد متعدد دھماکے ہوئے۔

دولتِ اسلامیہ کے خلاف اس آپریشن میں ہزاروں عراقی سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ شیعہ ملیشیا کے 20 ہزار کارکن بھی حصہ لیے رہے ہیں جنھیں ایران کا تعاون بھی حاصل ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق شیعہ ملیشیا کے جنگجو اس کارروائی میں صفِ اول پر موجود ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق شیعہ ملیشیا کے جنگجو اس کارروائی میں صفِ اول پر موجود ہیں

اس وقت عراق میں ایران کی ایران کی انقلابی ’قدس فورس‘ کے کمانڈر جنرل سلیمانی کی قیادت میں متعدد ماہرین تکریت میں جاری زمینی کارروائی میں شامل فوجیوں اور شیعہ ملیشیا کے درمیان رابطہ کاری کا کام سرانجام دے رہا ہے۔

تکریت سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ختم کرنے کے لیے عراقی فوج اور شیعہ ملیشیانے آپریشن شروع کیا تھا اور اتحادیوں کی فضائی مدد حاصل نہ ہونے کے بعد بڑی تیزی سے پیش قدمی کی تھی تاہم شہر کے مرکز میں دولتِ اسلامیہ کی جنگی رکاؤٹوں کی وجہ سے پیش قدمی رکی ہوئی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند اس وقت عراق اور شام میں بڑے علاقے پر قابض ہیں جن میں عراق کا دوسرا بڑا شہر موصل بھی شامل ہے۔

امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد نے شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔